جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ
گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معمولی جھگڑے کے دوران فائرنگ کرکے نوجوان طالب علم کے قتل میں ملوث ملزم انشال کو گرفتار کرلیا ہے۔مرکزی ملزم عرفان اور اس کا بھائی احسان مفرور ہیں جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔24 اور 25 مئی کی درمیانی شب سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں جھگڑے کے دوران ایک نوجوان طالب علم جزلان ولد فیصل کو گولی مار کر ہلاک اور اس کا دوست شاہ میر ولد نعمان زخمی ہوگیا۔واقعے کے بعد پولیس نے ایک ملزم حسنین کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔بعد ازاں پولیس نے حسنین کے والد فیض کو بھی گرفتار کرلیا۔مرکزی ملزم عرفان اپنے ساتھیوں انشال اور احسان سمیت فرار ہو گیا تھا۔کراچی میں معمولی تنازع پر قتل ہونے والے جزلان کے ورثاء نے تفتیشی پولیس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ورثاء نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔ ورثاء نے سیکریٹری داخلہ سندھ سے ملاقات میں الزام لگایا کہ تفتیشی پولیس کے اہلکار قتل کیس میں ملزمان کی حمایت کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ مقدمے میں عرفان فیض، حسنین فیض اور انشال سمیت ملزمان پہلے ہی گرفتار ہیں جب کہ احسن ولد فیض خان نامی ملزم تاحال مفرور ہے۔کراچی کے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں 17 سالہ یتیم جزلان اپنی عمر کے کچھ لڑکوں کو بائیک چلانے سے روکنے پر ہلاک ہو گیا۔پولیس کے مطابق جزلان اپنی گاڑی چلا رہا تھا جب ایک نوجوان ملزم حسنین اپنے دوست کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر سوسائٹی میں ’زیگ زیگ‘ انداز میں جا رہا تھا جس کے بعد حسنین نے اپنے بڑے بھائی اور کچھ دیگر دوستوں کو بلایا، جنہوں نے آ کر جزلان پر فائرنگ کر دی۔ .
گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معمولی جھگڑے کے دوران فائرنگ کرکے نوجوان طالب علم کے قتل میں ملوث ملزم انشال کو گرفتار کرلیا ہے۔

