Tuesday, May 11, 2021
SC says pre-arrest bail in cognisable offences extraordinary remedy.
This judicial protection is based on equity and cannot be extended in every run-of-the-mill criminal case founded upon incriminatory evidence, warranting custody for investigative purposes, observed Justice Qazi Muhammad Amin Ahmed in a judgement he wrote.
Such a Lesson
ایک جامع مسجد کے خطیب کی ایک خوبصورت بیٹھی تھی جو جامعہ میں پڑھتی تھی ایک دن وہ جامعہ سے واپس گھر آئی گاڑی سے اترتے وقت ایک لڑکے نے اس کا چہرہ دیکھ لیا لڑکی بہت حسینہ و جمیلہ تھی لڑکے کو پسند آئی اس نے پتہ کیا لڑکی خطیب صاحب کی بیٹی تھی لڑکے نے اسی دن سے صف اول میں نماز پڑھنے کا اہتمام شروع کیا اذان سنتے ہی وہ مسجد کے دروازے پر پہنچ جاتا نماز تک تلاوت قرآن میں مشغول رہتا تھا چھ سات مہینے تک وہ اسی معمولات کا پابند رہا اسکے بعد اس نے والد سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا والد نے کہا ٹھیک ہے دیکھ لیں گے مناسب رشتہ اس نے کہا کہ لڑکی میں نے دیکھ لی ہے والد کے پوچھنے پر اس نے خطیب صاحب کی بیٹی کے بارے میں بتایا اس نے کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے امام صاحب سے ملتے ہیں عمائدین محلہ کے ساتھ امام صاحب کے خدمت میں حاضر ہوئے امام نے لڑکے کے بارے میں پو چھا انہوں اسی لڑکے کے طرف اشارہ کیا خطیب نے لڑکے کی دین داری کو دیکھ رشتہ لڑکی سے مشورہ کرنے اور رضا مندی ظاہر کرنے پر قبول کیا۔
چنانچہ رشتہ طے ہوا چھ سات ماہ بعد شادی ہوئی شادی کے کچھ عرصہ بعد لڑکے نے نماز پڑھنے میں سستی شروع کی ایک دو ماہ بعد لڑکے نے ڈاڑھی کاٹ دی گھر آنے پر لڑکی نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اس نے کہا کہ یہ نمازیں تو میں تمہیں حاصل کرنے کے لیے پڑھ رہا تھا اب مقصد حاصل ہو چکا ہے اب کیا ضرورت ، لڑکی یہ سن کر بہت افسردہ خاطر ہوئی اور جا کر والد صاحب سے کہا کہ اس بے دین کے ساتھ ایک دن نہیں رہنا چاہتی یہ معاملہ محکمہ عدل تک پہنچ گیا قاضی نے دونوں میں تفریق کا فیصلہ کیا۔ لڑکا بہت پریشان ہوا اس نے بہت کوشش کی لیکن لڑکی کو دوبارہ نہ پا سکا لڑکے نے ایک جادوگر سے مدد حاصل کر نے کا فیصلہ کیا جادوگر نے بڑے رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا لڑکے نے سارے پیسے پیشگی ادا کیے کچھ دن گزرنے کے بعد جادوگرنے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا لڑکے نے فی الفور وہ بھی ادا کیے اور کہا کہ کام ہو جا نا چاہیے پیسوں کا فکر نہ کریں۔
ایک ماہ کے بعد جادو گر نے لڑکے کو بتایا آجاؤ اپنے پیسے لے جا تمہارا کام کسی صورت میں ممکن نہیں ہے جب وہ لڑکا جادوگر کے کمرے میں پہنچا تو جادوگر ایک بڑا چاقو ہاتھ میں لیے کھڑا ہے لڑکے نے حیرت زدہ انداز میں پو چھا یہ کیا کر رہے ہو جادوگر نے کہا مجھے قتل کر دو ورنہ دو قتل کر دئیے جائیں گے لڑکے نے کہا میں یہ نہیں کر سکتا لہٰذا میرے پیسے دے دو اس نے پیسے دئیے لڑکا پیسے لے کر بھاگنے لگا پولیس والے نے لڑکے کو پریشان حالت میں بھاگتے ہوئے دیکھ کر گرفتار کر لیا پیسے ضبط کر لیے لڑکے کے توسط سے پولیس جادو گر تک پہنچ گئے جادوگر نے پولیس کو کہا مار ڈالو میں مرنے والا ہوں مجھے وہ نہیں چھوڑیں گے پولیس نے دونوں کو قاضی کے پاس لے گئے قاضی کو جادوگر نے پوری کہانی سنائی کہ ھم استمداد بالشیاطین کے ذریعے جادو کا عمل کرتے ہیں۔
اور کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس لڑکی پر جب میں نے یہ عمل کیا اور شیطانوں سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس گھر کے حفاظت پر فرشتے مامور تھے پھر میں نے دوسرا عمل کیا تب بھی فرشتے مامور تھے لیکن پہلے سے تعداد میں زیادہ اس کے بعد میں نے رئیس الشیاطین سے مدد لینے کی کوشش کی اس بار جب وہ گھر کے پاس گئے تو وہاں فرشتے کھڑے تھے اس دن کے بعد سے اب مجھے وہ شیطانی گروہ مارنے پر تلے ہیں۔
قاضی حیران ہوا اس نے خطیب صاحب کو بلایا جب امام صاحب تشریف لائے تو انہوں نے پوچھا کیا عمل کرتے ہو کہ فرشتے آپ کے گھر کے حفاظت پر مامور ہیں اس نے پوچھا کیوں کیا ہوا کیونکہ اس کو پتہ بھی نہیں تھا کہ یہاں کیا چل رہا ہے۔
جب انہوں نے امام صاحب کو پوری کہانی سنائی تو خطیب صاحب نے کہا کہ ہمارے گھر میں صبح روزانہ سورۃ بقرۃ کی تلاوت ہوتی ہے اور جس گھر میں سورۃ بقرۃ کی تلاوت ہوتی ہے اس پر جنات اور شیاطین اثر نہیں ہوتا نیک خاندان کی حفاظت کے لیے اللہ پاک ایسے انتظام فرماتا ہے۔
#SindhLawyers..
Monday, May 10, 2021
میدان عرفات 9 ذی الجہ ، 10

میدان عرفات میں اللّٰہ تعالٰی کے آخری نبی، نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللّٰہﷺ نے 9 ذی الجہ ، 10 ہجری کو آخری خطبہ حج دیا تھا آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی ﷺ نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں حضرت محمد رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا۔۔
*۱*۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گامیری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔
*۳۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللّٰہ سے ملنا ہے، اور اللّٰہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
*٦*۔ اللّٰہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کردو)۔
*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللّٰہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
*۱۱* ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر ، حسب و نسب کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللّٰہ کی نظر میں برابر ہو
برتری صرف تقوٰی کی وجہ سے ہے۔
*۱۲*۔ یاد رکھو! تم ایک دن اللّٰہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جائے گا میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کرسکیں۔
*پھر آپ نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،
*۱٦*۔ اے اللّٰہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔
*نوٹ*: اللّٰہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو س پیغام کو سنیں/پڑھیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں اور اس کو آگے پھیلانے والے بنیں اللّٰہ ہم سب کو اس دنیا میں نبی رحمت کی محبت اور سنت عطا کرے، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی کے ساتھااکٹھا کرے.
آمین ثم آمین.♥️
x
#SindhLawyers.....
Law about Itself Informatiom
*یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے۔۔۔*
*دفعہ 295-A* کسی مذہب کی توھین کرنا
*دفعہ 295-B* قرآن پاک کی غلط تشریح کرنا
*دفعہ 295-C* توھین رسالت
*دفعہ 298-A* توھین صحابہ
*دفعہ 307* = قتل کی کوشش کی
*دفعہ 302* = قتل کی سزا
*دفعہ 376* = عصمت دری
*دفعہ 395* = ڈکیتی
*دفعہ 377* = غیر فطری حرکتیں
*دفعہ 396* = ڈکیتی کے دوران قتل
*دفعہ 120* = سازش
*سیکشن 365* = اغوا
*دفعہ 201* = ثبوت کا خاتمہ
*دفعہ 34* = سامان کا ارادہ
*دفعہ 412* = خوشی منانا
*دفعہ 378* = چوری
*دفعہ 141* = غیر قانونی جمع
*دفعہ 191* = غلط ھدف بندی
*دفعہ 300* = قتل
*دفعہ 309* = خودکش کوشش
*دفعہ 310* = دھوکہ دہی
*دفعہ 312* = اسقاط حمل
*دفعہ 351* = حملہ کرنا
*دفعہ 354* = خواتین کی شرمندگی
*دفعہ 362* = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (ناقابلِ ضمانت)
📚
*دفعہ322* = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
*دفعہ 415* = چال
*دفعہ 445* = گھریلو امتیاز
*دفعہ 494* = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
*دفعہ 499* = ہتک عزت
*دفعہ 511* = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔
تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
پانچ دلچسپ حقائق آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔
*(1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا* -
ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔
(2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔
عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
(3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں -
سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔
(4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا
زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا
پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم (6)ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔
Islam
وه عالم اسلام کا ایک نایاب اور نامور سلطان تھا۔ وه ان گنت زبانوں پر عبور رکھتا تھا ۔ عربوں سے عربی میں ، منگولوں اور تاتاریوں سے تاتاری میں ، یونانیوں سے یونانی میں، حبشیوں سے ان کی زبان میں اور اس طرح دوسری اقوام سے ان کی زبان میں گفتگو کرنے کی مہارت رکھتا تھا ۔
سلطان بننے سے پہلے وہ جگہ جگہ ایک غلام کی حیثیت سے دھکے کھاتا پھرتا تھا لہذہ اس نے اس دوران میں مختلف زبانیوں میں مہارت حاصل کر لی تھی ۔وقت کی آنکھ نے اسے کبھی ایک گڈریے کی صورت میں " دشت قپچاق " میں بھیڑ بکریاں چراتے ہوئے دیکھا ، آسمان نے اسے کبھی دمشق شہر میں برده فروشوں کی منڈی میں ایک غلام کی حیثیت سے بکتے دیکھا ، کبھی اس نے دمشق اور مصر کے امراء کی نوکری و چاکری کرتے ہوئے وقت گزارہ اور کبھی رزم گاہ میں ایک صف شکن لشکری کے سنگ میں بھی دیکھا گیا اور کبھی وقت کی تیز آنکھ نے اسے اسلامی لشکر کے سالار اعلی کی حیثیت سے بھی دیکھا ۔
مشہور امریکی مؤرخ ہئیر لڈیم اس کے متعلق لکھتا ہے ۔
اسے اپنے سوا کسی پر اعتبار نہ تھا اس لیے وہ بھیس بدل کر خود گشت لگاتا اور اپنے لیے خود ہی دشمنوں کی مخبری کرتا تھا ۔ وہ اپنے ہم پیالہ ، ہم نوالہ ساتھیوں کو چھوڑ کر تنہا نکل جاتا۔ کبھی اسے مصر میں دیکھا جاتا اور کبھی وہ دوسرے دن فلسطین میں نمودار ہوتا ۔ چار دن بعد لوگ اسے عرب کے ریگزاروں میں دیکھتے اور اس کے چند دن بعد وہ خانہ بدوشوں کی سی تیز رفتاری کسی دوسری جگہ لوگوں کو دکھائی دیتا ۔
جن دنوں وہ عالم اسلام کا سلطان بنا ان دنوں منگولوں نے مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر ان کے بیشتر علاقوں کو تباہ و برباد کر دیا تھا اور ہلاکو خان مسلمانوں کے علاقوں میں دندناتا پھرتا تھا ۔
ایک بار ایک منگول مغنی کے بھیس میں وه اکیلا و تنہا ہلاکو کی سلطنت میں داخل ہوا اور قریہ قریہ چل پھر کہ جاسوسی کرتا رہا ، چونکہ وہ مختلف زبانوں پر عبور رکھتا تھا اور جاسوسی میں بھی مہارت کا حامل تھا اس لیے کسی کو شک نہ ہوا کہ وہ مسلمان ہے یا مسلمانوں کا سلطان ... !
ایک دن اس نے منگولوں کے ایک شہر میں ایک دکان میں کھانا کھایا اور اپنی انگوٹھی جان بوجھ کر ایک محفوظ جگہ پر رکھ آیا ، اس کے بعد وہ اپنے علاقے میں آ گیا اور ایک قاصد بھیج کر ہلاکو خان کو کہلایا۔
٫٫ میں تمہاری مملکت میں حالات کا معائنہ کرنے
فلاں فلاں جگہ گیا تھا ۔ فلاں شہر میں فلاں
دکان پر اپنی شاہی انگوٹھی بھول آیا ہوں
مہربانی کر کے وہ انگوٹھی تلاش کر کے مجھے
مجھے بھجوا دو کیونکہ وہ انگوٹھی مجھے
بے حد عزیز ہے ۔ ،،
ہلاکوں خان مسلمانوں کے سلطان کی اس جرأت اور جسارت پر ششدر رہ گیا اور وه اس کی دلیری سے ایسا مرعوب ہوا کہ اس کی انگوٹھی تلاش کر کے اس کی طرف بھیجوا دی ۔ منگولوں کو جب خبر ہوئی کہ مسلمانوں کا سلطان خود بھیس بدل کر ان کے علاقوں میں داخل ہوا تھا تو ان پر سلطان کی ہمت و شجاعت کی وجہ سے ایک دہشت اور خوف طاری ہو گیا تھا اور وه سوچنے لگے تھے کہ جس سلطنت کا حکمران اس قدر جری و جرأت مند ہو اس کے لشکریوں کا کیا عالم ہوگا اور ہم اس کا مقابلہ کیسے کریں گے ۔
ان دنوں کیونکہ بحیره روم کے ساتھ ساتھ مغرب کے صلیبیوں نے اپنے بڑے بڑے اڈے بنا لیے تھے جہاں سے نکل کر وه مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ کی ابتداء کرتے تھے ۔ ان میں زیاده نامور انطاکیہ کا حاکم بوہمینڈ تھا ۔ سلطان ایک مرتبہ ایک نصرانی زائر کا بھیس بدل کر صلیبیوں کے مقبوضہ علاقوں میں جا داخل ہوا اور کئی ماہ تک ان کے عسکری استحکامات ، قلعوں اور دوسرے کئی مقامات کا جائزہ لیتا رہا۔ وہ تقریباً بائیںس ایسے قلعے دیکھنے میں کامیاب ہو گیا جو ان دنوں صليبيوں کی عسکری قوت کا مرکز تھے اور یہ سارا کام اس نے تن تنہا کیا اور اس کے بعد اس نے ایک عجیب ستم ظریفی کی۔
اس نے ایک قاصد اور ایلچی کا روپ بدلا اور جنگل میں ایک ہرن کا شکار کر کے وہ ہرن لے کر انطاکیہ کے بادشاہ بوہیمینڈ کے دربار میں حاضر ہوا اور اسے وہ شکار پیش کر کے کہنے لگا۔
٫٫ عالی جاه ! مجھے مصر کے سلطان " الملک الظاہر "
نے بھیجا ہے ، پتا چلا ہے کیونکہ آپ شکار کا بہت
شوق رکھتے ہیں اور ان دنوں شکار کے قابل نہیں
لٰہذا انہوں نے یہ تازه شکار بطور ہدیہ بھیجا ہے ۔
اسے قبول فرمائیے۔ میرے آقا آپ کے شکر گزار
ہوں گے ،، ۔
سلطان جب گفتگو کرنے اور شمار بادشاه انطاکیہ کے حوالے کرنے کے بعد وہاں سے نکل گیا تو چند دن بعد انطاکیہ کے بادشاہ پر کسی نے انکشاف کیا کہ جو شخص تمہارے پاس ہرن کا شکار لے کر آیا تھا وہی مسلمانوں کا سلطان تھا۔
اس انکشاف پر نصرانیوں کے بادشاہ بوہیمنڈ پر خوف اور لرزه طاری ہو گیا تھا۔
ایسے ناقابل یقین معرکے سرانجام دینے اور عین الجالوت پر پہلی بار منگولوں کو عبرت ناک شکست دے کر، مسلمانوں پر اپنی دہشت کا سکہ جمانے والے منگولوں کو سربازار گھما کر ذلت و رسوائی عطا کر کے مسلمانوں کے قلوب سے منگولوں کے خوف و دہشت کا غلبہ زائل کرنے والی اس نادر و نایاب اور جاہ و جلال کی سے مزین ہستی کا نام " رکن الدین بیبرس " تھا۔
رکن الدین بیبرس منگولوں کی فتوحات اور مسلمانوں پر مظالم ڈھا کر اپنی دہشت کا سکہ جما کر حکومت کرنے والے ہلاکو خان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ ،
٫٫ وقت آنے پر ہم ان کو بتا دیں گے کہ اللہ کیلئے لڑنے والے کبھی شکست تسلیم نہیں کیا کرتے ،، ۔
اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ سلطان رکن الدین بیبرس اپنے قول و قرار کا کس قدر پاسدار تھا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
باوجود اس کے ، کہ دیگر نامور اسلامی شخصیات کی طرح تاریخ سے اس ذہین و فطین اور دلیر و بے باک ہستی کے نقوش بھی ایک منظم سوچ و سازش کے تحت بڑی سنگ دلی ، مہارت اور عیاری سے ممکنہ حد تک مٹا دئیے گئے لیکن کچھ مدھم نقوش ابھی بھی سلامت ہیں ،
لیکن اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم عشق ، محبت اور شادی بیاہ کی کہانیوں کے دلدادہ ہیں اور جو اصل اثاثہ ہیں ان کو بڑی ہی خود غرضانہ سفاکی سے فراموش کر رکھا ہے ہم نے.....
تحفظ والدین آرڈیننس 2021
*صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی/آرڈیننس*
صدر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت تحفظ والدین آرڈیننس 2021 جاری کردیا
آرڈیننس کا مقصد بچوں کی جانب سے والدین کو زبردستی گھروں سے نکالنے کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے
آرڈیننس کے تحت والدین کو گھروں سے نکالنا قابل سزا جرم ہوگا
والدین کو گھروں سے نکالنے پر ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی
گھر بچوں کی ملکیت ہونے یا کرائے پر ہونے کی صورت میں بھی بھی والدین کو نہیں نکالا جاسکے گا
گھر والدین کی ملکیت ہونے کی صورت میں والدین کو بچوں کو گھر سے نکالنے کا اختیار ہوگا
وال
ین کے بچوں کو تحریری نوٹس دینے کی صورت میں گھر خالی کرنا لازمی ہوگا
وقت پر گھر خالی نہ کرنے کی صورت میں 30 دن تک جیل، جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا اطلاق ہوگا
بچوں کی جانب سے گھر نہ چھوڑنے کی صورت ضلعی ڈپٹی کمشنر کو کاروائی کا اختیار ہوگا
ضلعی ڈپٹی کمشنر والدین کی جانب سے شکایت پر کاروائی کا مجاز ہوگا
والدین کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر پولیس کو بغیر وارنٹ گرفتاری کا اختیار ہوگا
آرڈیننس کے تحت گرفتار افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا
آرڈیننس کے تحت والدین اور بچوں کو اپیل کا حق حاصل ہوگا
***
Sunday, May 9, 2021
*پنهنجي عید جي نماز ٹھیک ڪريو ٻين کي ڏسي
ڪري پنهنجا هٿ مٿي هيٺ ن ڪريو*
: *عیدالفطر جي نماز جو طریقو*👇
*پهريان نیت ڪريو هن طرح:*
💓 نیت ڪريان ٿو مان ٻ رڪعت نماز عیدالفطر جی،
ساڻ ڇھن تڪبیرون سان،t
منهن ڪعبت الله شریف جي طرف،
واسطي اللہ تعالی جي،
پويان هن پيش امام جي۔
🟢امام تڪبیر چئي ڪري ھٿ ٻڌي ڪري ثنا پڙھندو اسان کي ڀي تڪبیر چئي ڪري ھٿ ٻڌڻا آھن
🟣 ان کان بعد ٽي زيادا تڪبيریون چوئندو.
1️⃣ پهرين تڪبیر چوئندو هٿ ڪنن تائن آڻي هٿ کولڻا آھن
2️⃣ ائين ٻي تڪبیر چوئندو ھٿ ڪنن تائين آڻي هٿ کولڻا آھن
3️⃣ ان ترھ ٽين تڪبیر چئي ڪري هٿ ڪنن تائين آڻي هٿ ٻڌي ڇڏيو
⚫ ان کان بعد پيش امام قرات ڪندو (یعنی سورہ فاتحہ يان کوئی سورت پڙھندو) ۽ رقوع، سجدو ڪري پھرين رقات مڪمل ٿي وئي۔
ٻي رقات جي لاءُ اٿي بيهو پيش امام قرائت ڪندو یعني سورہ فاتحہ يان ڪوئي سورت پڙھندو ان کان بعد رڪوع مين وڄڻ کان پهريان ٽي زيادا تڪبيرون ٿينديون
1️⃣ پهريان تڪبیر چئي ڪري هٿ ڪنن تائين کڻي ڪري هٿ کولي ڇڏيو
2️⃣ ٻي تڪبیر پيش امام چوئندو هٿ ڪنن تائين کڻي ڪري هٿ کولي ڇڏڻا آھن
3️⃣ ٽين تڪبیر پيش امام چوئندو ھٿ ڪنن تائين کڻي ڪري هٿ کولي ڇڏڻا آھن
ايتري تائن تڪبيرون مڪمل ٿي ويون.
🌹»» هاڻي ان کان پوئي بغیر ھٿ کڻڻ جي پيش امام تڪبیر چوئندو پوئي رڪوع مین ويندائون.
🌹»» پوئي بس اگتي نماز ٻين نمازن وانگر پڙھي ڪري سلام وائڻو پوئندو.
*اللہ پاک عمل ڪرڻ جي توفیق عطا فرمائي آمين*
*دعا جو طلبگار*
Islam
* وکالت کی تاریخ * History of #Advocacy
وکیل کے لیے قرآن کریم و احادیث مبارکہ میں وارد ہونے والی دس شرائط:
* وکالت کی تاریخ *
قرآن کریم و احادیث مبارکہ اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ وکالت ایک جائز پیشہ ہے ، اور کتب فقہ میں اسکا نام" وكالة بالخصومة يا وكالة الدعاوي " وارد ہوتا ہے جو کہ قرآن کریم و احادیث مبارکہ سے مستنبط ہے ،اور یورپ کے ہاں اس کے متعلق پہلا قانون 1810م میں جاری ہوا ، اور 1900م میں عورت کو بھی حق دیا گیا کہ وہ بھی ایک وکیل بن سکتی ہے لیکن فقہائے کرام نے عورت کی وکالت کے بارے میں پہلے ہی فرمادیا تھا کہ عورت کا وکالت جائز ہے
⚫ قرآن کریم و احادیث مبارکہ میں وکیل کے لیے وارد ہونے والی دس شروط:
ہمارے معاشرے میں وکالت کے پیشہ میں جو لاقانونیت پیدا ہوچکی ہے تو ضروری ہے کہ قرآن کریم و احادیث مبارکہ کے تصور وکالت کو واضح کیا جائے۔
◾پہلی شرط: وکیل عادل و منصف و صادق ہو
قرآن کریم نے اس شرط کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا "[الاحزاب:70 ]
ترجمہ:
اے إیمان والو! اللہ سے ڈرو ، اور سیدھی سیدھی بات کرو۔
اور سورہ مائدہ میں واضح فرمایا:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ لِلّهِ شُهَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ" [ المائدة :8 ]
ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف ( و عدل) کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ ، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اسکے خلاف نا انصافی پر نہ ابھارے ، عدل کرنا اور وہ ( عدل و انصاف ہی) اللہ کے زیادہ قریب ( مقبول) ہے ، اور اللہ سے ڈرنا بے شک وہ خبر دینے والا ہے اسکی جو کچھ تم کرتے ہو.
اس آیت میں واضح فرمادیا کہ ایک وکیل صرف دوسرے وکیل کو ہرانے کے لیے جھوٹی گواہیاں قائم نہ کرے ، اور نہ ہی کوئی گواہ یا جج کسی سے دشمنی کی بنیاد پہ غلط فیصلہ دے۔ اور تقوی کی بات اس لیے کی کہ جھوٹے گواہ جج سے تو چھپا سکتے ہو لیکن اس اللہ رب العزت سے نہیں جس سے کائنات کا ادنی سا ذرہ بھی پوشیدہ نہیں اور وہ تمہیں تمہارے ہر ظلم کی خبر دے گا لہذا ڈرنا۔
حتی کہ قرآن کریم نے ایک اور مقام پر تو اتنا بھی فرمایا کہ اگر کیس تمہارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو تب بھی عدل و انصاف و صدق کا دامن نہ چھوڑنا جیسے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ " [النساء: من 135 ]
ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے بن جاؤ اگرچہ وہ گواہی تمہارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ ہو یا آپکے والدین یا پھر رشتہ داروں کے ( لیکن اس وقت بھی انصاف و صدق و عدل کا پیکر بن کر رہنا)۔
◾دوسری شرط : مکمل تحقیق کرنا
قرآن کریم نے وکلاء کو یہ أصول بھی دیا ہے اور ہر مسلم کو بھی کہ جب تمہارے پاس کوئی کیس آئے یا خبر آئے تو ہر طرح سے اسکی تحقیق کرلینا یہ نہ ہو کہ جب تمہیں حقیقت کا علم ہو تو ندامت اٹھانی پڑے لہذا سورہ حجرات میں ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ" [ الحجرات: 6 ]
ترجمہ:
اے ایمان والو! جب تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو پس تم خوب اسکی تحقیق کرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لاعلمی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پہ پشتاؤ۔
لہذا بعض وکیل صرف اپنے پیسوں کی بنیاد پہ کیس کو جتانے کی کوشش کرتے ہیں پر یہ نہیں دیکھتے کہ حق پر کون ہے؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے بعض فرقہ پرست مولوی پیسوں کی خاطر اپنے مخالف کی طرف ہر بات کو منسوب کردیتے ہیں۔
اور اس آیت میں فاسق کا جو ذکر ہے اسکا مطلب یہ نہیں کہ غیر فاسق کی تحقیق نہ کی جائے بلکہ ہر شخص کی تحقیق کی جائے کیونکہ آیت میں لفظ فاسق غالب مفہوم کی وجہ سے ہے نہ کہ قید ہعنی زیادہ تر فاسق ہی جھوٹ بولتا ہے اسی لیے اسکا ذکر کیا اسکو عربی قاعدہ میں" خرج مخرج الغالب" کہتے ہیں۔
◾تیسری شرط: وکیل کو حلال و حرام کا علم ہو
کسی بھی وکیل کو حلال و حرام کا علم ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال ثابت کردیں جیسے آج کے دور میں ہوتا ہے لہذا قرآن کریم نے فرمایا:
"ولا تقولوا لما تصف ألسنتكم الكذب هذا حلال وهذا حرام لتفتروا على الله الكذب " [ النحل : من آیہ 116 ]
( اور تم نہ کہو کسی شے کو اپنی زبانوں سے ( بغیر دلیل شرعی کے) یہ حلال ہے ، اور یہ حرام ( یہ کہ کر) تم اللہ ( تعالیٰ) پہ جھوٹ باندھتے ہو).
اور حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
"لا ترتكبوا ما ارتكبت اليهود، فتستحلوا محارم الله بأدنى الحيل"
ترجمہ:
تم ان چیزوں کا ارتکاب نہ کرنا جنکا ارتکاب یہود نے کیا کیونکہ انہوں نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو چھوٹے چھوٹے حیلوں سے حلال کیا۔
( ابطال الحیل لابن بطہ ، حدیث نمبر:56 ، امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: اسکی سند جید ہے- تفسیر ابن کثیر- ج:1 ، ص :293 ، مطبوعہ دار طیبہ للنشر والتوزیع )
لہذا ہمارے ہاں وکالت میں باطل کو حق اور حق کو باطل ثابت کیا جاتا ہے جھوٹے دلائل سے جو کہ یہود کا فعل ہے۔
◾چوتھی شرط: ظالم کا ساتھ نہ دینا
امراء و ظالمین کی دولت کی وجہ سے ہر وکیل و جج یہ کوشش کرتا ہے کہ اسکو بیل مل جائے اسکے حق میں فیصلہ صادر ہوجائے لہذا وکیل سارے جھوٹے گواہ و دلائل جمع کرتا ہے اسی لیے قرآن کریم نے فرمایا:
"وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ " [الهود:113 ]
ترجمہ:
ان لوگوں کی طرف مت جھکنا جنہوں نے ظلم کیا ( اگر تم نے ایسا کیا تو ظالم کا ساتھ دینے کی وجہ سے) پس وہ آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں ہوگا پھر تمہاری مدد بھی نہیں کی جائے گی۔
لہذا وکلاء و ججز کو اپنی دنیا و آخرت کی فکر بھی کرنی چاہیے کیونکہ یہ آگ أنکو دنیا میں بھی کسی بھی صورت میں اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور اس پر زمانہ گواہ ہے ۔
حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
" من خاصم في باطل وهو يعلمه لم يزل في سخط الله حتى ينزع عنه"
ترجمہ:
جس نے بھی اس باطل کو جسکو وہ جانتا ہے ( ثابت کرنے کے لیے) وکالت کی وہ ہمیشہ اللہ کے غضب میں رہے گا یہاں تک وہ اس ( وکالت) سے دستبردار ہوجائے۔
( سنن أبی داود ، من حدیث : 3597 ، باب فیمن یعین علی خصومۃ من غیر أن یعلم أمرھا ، ج :3 ،ص :305 ، حدیث صحیح ہے)
لہذا وکالت کسی جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے نہیں ہونی چاہیے جیسے عصر حاضر میں ہورہا ہے۔
◾پانچویں شرط: وکیل مصلح ہو
وکیل کو ایسا ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی کیس کو عدالت میں لانے سے پہلے فریقین کے درمیان احسن طریقے سے صلح کی کوشش کرے بغیر کسی فریق پہ زیادتی کیے اور اسی پر اللہ کے رحم کرنے کا مدار بھی ہے جیسے کہ سورہ حجرات میں ہے:
"إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ " [الحجرات:10 ]
ترجمہ:
بے شک إیمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں پس تم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اس آیت میں لفظ" اتقوا الله / اللہ سے ڈرو" کا صلح کے ساتھ تعلق ہی یہ ہے کہ بہت سے وکیل کسی وڈیرے کا ساتھ دینے کے لیے غریب کو ڈرا دھمکاکر صلح کرواتے ہیں تو لہذا انہیں کے بارے میں قرآن کریم فرمارہا ہے کہ ایسی ظالمانہ صلح کرواتے ہوئے اللہ سے ڈرنا وہ تمہاری ان ظالمانہ حرکتوں سے واقف ہے بلکہ یہ صلح نہیں یہ ارتکاب حرام ہے جو یہودیوں کا فعل تھا جسکا بیان سابقہ شرط کے تحت ہوچکا ہے۔
◾چھٹی شرط: وکیل حق کا ساتھ دے
وکیل کو ہر وقت کوشش کرنی چاہیے کہ وہ حق کا ساتھ دے ، مظلوم کو اسکا حق دلوائے یہی وجہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
" إن الناس إذا رأوا ظالما فلم يأخذوا على يديه أوشك أن يعمهم بعقاب منه"
ترجمہ:
بے شک جب لوگ ظالم کو ( ظلم کرتے ہوئے دیکھیں) اور اسکا ہاتھ نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ ان لوگوں کو بطور سزا اندھا کردے اس (ظالم کے ظلم پر خاموش رہنے کی) وجہ سے.
( سنن ترمذی ، من حدیث: 3057 ، باب: ومن سورۃ المائدہ ، ج :5 ،ص :256 ، امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ، طبع شیخ شاکر)
آج تو وکلاء ایسے ہیں جو ظلم کو تو کیا روکیں گے خود کبھی ہاسپیٹل پہ حملہ کرکے ظالم بنتے ہیں اور کبھی کسی معصوم لڑکی کو لاتوں سے پیٹ کر حیوانیت کا نمونہ پیش کرتے ہیں تو کبھی سر عام گولیاں چلا کر خوف و ہراس کو پھیلاتے ہیں لہذا ایسے وکلاء کو ان قرآنی آیات و احادیث مبارکہ کو پڑھنے کے توبہ نصوح ( سچی) کرنی چاہیے۔
◾ ساتویں شرط: وکیل کو رازداں ہونا چاہیے
وکیل کو اور ہر مسلم کو ہمیشہ راز داں ہونا چاہیے کیونکہ وکیل کے سامنے اسکا کلائنڈ ہر بات کرتا ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وکیل اسکے راز کو لوگوں کے سانے بیان کرتا رہے ، یا اسکے راز کو چند پیسوں کی خاطر بیچ دے اور ایسے وکیل کے لیے حضور صلی الله علیہ وسلم نے وعید سنائی اور فرمایا:
"كُلُّ أَمَّتِى مُعَافًى إِلاَّ الْمُجَاهِرِينَ ، وَإِنَّ مِنَ الْمَجَاهرةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلاً ، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ ، فَيَقُولَ : يَا فُلاَنُ! عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا ، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللهِ عَنْهُ "
ترجمہ:
میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا ( یا اسکی مذمت نہیں کی جائے گی) سوائے ان لوگوں کے جو اعلانیہ ( برائی کو بیان کرنے) والے ہیں ، اور أنکا اعلانیہ بیان کرنا یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص رات کو عمل کرتا ہے پھر صبح کرتا ہے اور اللہ نے اسکے گناہ کو پوشیدہ رکھا ہوتا ہے، پس وہ ( شخص) کہتا ہے: اے فلان ( شخص)! مینے کل اس طرح کا برا فعل کیا ہے حالانکہ اللہ نے اسکے فعل کو پوشیدہ رکھا تھا اور صبح ہوئی تو اس نے اس کو بے پردہ کردیا جسکو اللہ نے مخفی رکھا تھا اس شخص سے۔
(متفق علیہ؛ صحیح بخاری ، باب ستر المؤمن علی نفسہ ، حدیث نمبر: 6069 ، ج :8 ،ص :20 ، مطبوعہ دار طوق النجاۃ،
صحیح مسلم بتقاربہ ، باب النھی عن هتك الإنسان ستر نفسه ، ج:4 ،ص :2291 ،مطبوعہ دار إحیاء التراث العربی بیروت)
اور جو وکیل راز داں ہوگا اسکے لیے حضور صلی الله علیہ وسلم نے بشارت سنائی:
" ومن ستر على مسلم في الدنيا ستر الله عليه في الدنيا والآخرة "
ترجمہ:
اور جس نے کسی مسلمان کے راز کو راز رکھا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اسکے راز کو راز رکھے گا ( یعنی اسکے گناہوں کو معاف فرمادے گا)۔
( سنن ترمذی ، من حدیث: 1930 ، ج :4۔ ص :326 ، حدیث صحیح ہے)
اس حدیث میں جو لفظ مسلم آیا ہے تو یہ قید نہیں ہے مطلب یہ مراد نہیں کہ اگر غیر مسلم ہو تو اسکے راز کو راز نہ رکھیں بلکہ چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم سب کے راز کو راز رکھا جائے گا اور حدیث میں لفظ مسلم کی قید غالب استعمال کی وجہ سے ہے یعنی ایک مسلمان کا زیادہ تر معاملہ ایک مسلمان کے ساتھ ہوتا ہے ۔
◾آٹھویں شرط: کیس کے دوران ایسی بات نہ کرے جسکا کیس سے تعلق نہیں۔
بہت سے وکیل ایسے ہیں کہ مد مقابل کو خوف دلانے کے لیے اسکی ایسی ایسی باتیں بھی عدالت میں سنائی کے دوران کرتے ہیں جسکا تعلق اسکی عزت کے ساتھ ہوتا ہے ، اور بے حیائی والی باتیں کرکے اسکو بدنام کرتے ہیں تو ایسے وکلاء کے بارے میں ساتویں شرط میں وعید گزر چکی ہے ، اور یہاں ہم قرآن کریم کی آیت مبارکہ میں جو وعید آئی ہے اسکا ذکر کرتے ہیں :
"وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا " [ الأحزاب:58 ]
ترجمہ:
اور جو لوگ مؤمن مرد اور مؤمن عورتوں کو ان باتوں کے سبب تکلیف دیتے ہیں جنکا ارتکاب انہوں نے کیا ہی نہیں ہوتا تو پس انہوں نے بہتان باندھا اور واضح گناہ کیا۔
ہمارے عدالتوں میں کسی لڑکی کی عزت کو کس طرح ایک وکیل سنائی کے دوران اچھالتا ہے اسکا ہر ایک کو معلوم ہے تو ایسے وکیل قرآن کی اس وعید کو اپنے سامنے رکھیں اور اللہ کے حضور سچی توبہ کریں۔
◾ نویں شرط: وکیل کو اپنے مؤکل سے یا مد مقابل سے اچھے طریقے سے گفتگو کرنی چاہیے
حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
" ليس المؤمن بطعان ولا بلعان ولا الفاحش البذيء"
ترجمہ:
مؤمن طعن و لعنت اور بے حیائی پر مبنی کلام کرنے والا نہیں ہوتا ( بلکہ وہ اچھا کلام کرتا ہے)
( مسند إمام احمد ، حدیث نمبر: 3839 ، طبع مؤسسۃ الرسالہ ، حدیث صحیح ہے)
ایک دوسرے کو طعنہ دینے اور گالیاں دینے اور کسی کی عزت پر حملہ کرنے پہ جس طرح اکثر وکلاء کی عادت ہے ایسے ہی بعض فرقت پرست مولویوں کی بھی ہے جو زیادہ پیسا لینے کی خاطر مخالف مسلک کو گالیاں دیتے ہیں ۔
◾ دسویں شرط: فیصلے کو جلد ختم کرنا چاہیے
ہمارے معاشرے میں یہ وبا بھی عام ہے کہ جج اور وکیل ایک غریب شخص کو تاریخ پہ تاریخ دے کر اس پہ ظلم کرتے رہتے ہیں مالی طور پہ بھی اور وقت کے طور پہ بھی تو ایسے لوگوں کو حضور صلی الله علیہ کی وہ معروف حدیث مبارکہ ذہن میں رہنی چاہیے جس میں ہے کہ وعدہ کی خلاف ورزی منافق کرتا ہے ، اور اسی طرح جھوٹ کی وعید میں وارد ہونے والی آیات بھی اور احادیث مبارکہ بھی۔۔
اور جس نے کسی کے حق کو تھوڑا سا بھی لیٹ کیا انکے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" من قطع ميراثا فرضه الله ورسوله قطع الله به ميراثا في الجنة"
ترجمہ:
جس نے اس میراث ( جائداد) کو جو اللہ نے مقرر کی ہے ( دینے سے) منع کردیا ( یا لیٹ کردیا) اللہ تعالیٰ اس ( گناہ) کے سبب جنت میں اسکی میراث کو ختم کردے گا ( یعنی جنت سے داخل ہونے سے روک دے گا)
( شعب الایمان للبیہقی رحمہ اللہ، حدیث: 7594 ، ج : 10 ،ص :340 ، مطبوعہ مکتبۃ الراشد الریاض، اسکی سند میں ضعف ہے ، اور محقق نے کہا اسکی سند: لا بأس به ہے. قلت: لیکن یہ سلیمان ابن موسی اور عمران ابن سلیم کے طرق سے مرسلا بھی روایت ہے عند سعید بن منصور فی سننہ)
لہذا حدیث مبارکہ میں اہل میراث کو میراث میں صرف تاخیر کرنے کی وجہ سے وعید سنائی گئی ہے تو جو وکیل و ججز آئے روز لوگوں کو تاریخ پہ تاریخ دے کر انکے حق کو لیٹ کرتے ہیں تو وہ من باب اولی اس وعید میں شامل ہیں۔ لہذا صاحب حق کے حق کا فیصلہ جلد کرنا چاہیے۔۔
یہ ہیں وہ دس شروط وکلاء کے لیے جو قرآن کریم و احادیث مبارکہ میں وارد ہوئی ہیں اور ججز ہے لیے بھی یہی ہیں اور ہر اس شخص کے لیے بھی جس پر کسی دوسرے کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔
لہذا ہر وکیل و جج کو اللہ کے حضور توبہ کرنی چاہیے جس نے بھی ان شروط پہ عمل نہیں کیا۔
نہیں تو اللہ رب العزت کا یہ اعلان یاد رکھنا:
" إنا من المجرمين منتقمون" [ السجدة: من 22 ]
ترجمہ:
بے شک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
x
x
The Angels
کوئی مِیری ساری زِندگی کے تَجربوں کا نِچوڑ مانگے تو میں کہوں گا
کبھی کِسی عورت کو اُس کی رضا کےبغیر مت اپنانا اور اپنا لو تو کبھی اُس سے مُحبّت کی خُواہش مت کرنا ــ
میں نے عورت کو ہمیشہ بہت کمزور سمجھا تھا ۔
مُوم کی گُڑیا کی طرح لیکن ایک عُمر بَرتنے کے بعد میں نے یہ جانا ہے کہ عورت مُوم ہے یا پتھر ؟؟ اِس کا فیصلہ وہ خودکرتی ہے ۔
کسی دوسرے شخص کو اِسے مُوم یا پتھر کا خِطاب دینے کا حق نہیں ہوتا وہ خود چاہے تو محبوب کے اِشاروں کی سِمت مُڑتی رہتی ہے ـ اور پتھر بننے کا فیصلہ کر لے تو کوئی شخص بھکاری بن کر بھی اُس کی ایک نگاہِ التفات نہیں پا سکتا ـ
کوئٹہ میں 60 سے زائد وکلاء کی شہادتیں، ذمہ دار کون تھے؟*
* کوئٹہ میں 60 سے زائد وکلاء کی شہادتیں، ذمہ دار کون تھے؟*
*آئیں آپ کو جسٹس قاضی فائز عیسی کے اصل جرائم بتائوں*
*فکر نہ کریں قاضی فائز عیسی دوبارہ پکڑا جائیگا*
تحریر و تحقیق || میاں دائود ایڈووکیٹ
یہ 8 اگست 2016 ہے، بلوچستان کے شہر کوئٹہ منو جان روڈ پر بلوچستان بار کے صدر بلال انور کاسی کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی طرف سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے ،بلال انور کاسی کی میت سول اسپتال پہنچائی گئی، تو وہاں ایک بار پھر دہشتگردوں نے اپنا وار کیا، سول اسپتال کے شعبہ حادثات کے بیرونی گیٹ پر جہاں وکیلوں کی بڑی تعداد جمع تھی ، ایک زوردار دھماکا ہوا، دھماکے کے بعد فائرنگ بھی ہوئی، دھماکےکےبعد اسپتال میں بھگدڑ مچ گئی، لوگ اپنی جان بچانے کے لئے بھاگتے نظر نظر آئے، اسپتال کےباہر رقت آمیز مناظر ہیں،لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کرتے رہے۔
*مختصر یہ کہ اس سانحہ میں بلوچستان کے قابل ترین وکلاء کو بڑی جامع منصوبہ بندی کے تحت شہید کر دیا گیا اور ان وکلاء میں اکثریت ان وکلاء کی بھی تھی جو لاپتہ افراد کے مقدمات کی مفت پیروی کرتے تھے۔*
پھر چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی پر مشتمل ایک کمیشن بنا دیا، جسٹس قاضی فائز عیسی نے 56 دن کی کارروائی مکمل کر کے 16 دسمبر 2016 کو رپورٹ پبلک کر دی جس میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے واقعات کی وجہ قانونی و انتظامی اداروں کی نااہلی، وسائل کی کمی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومت خصوصاً وزارتِ داخلہ کی غیر ذمہ داری اور پالیسیوں پر عملدرآمد نہ ہونا ہے۔
*یہی وہ 16 دسمبر 2016 کا دن تھا جس دن فیصلہ کیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی چونکہ محب وطن ہے، پاکستان کا زیادہ ماما بنتا ہے، وکلاء کی شہادت کے پیچھے چھپی ہوئی سازش کو بے نقاب کر گیا ہے، اس لئے اب اسے راستے سے ہٹایا جائے۔۔۔ وہ دن اور آج کا دن، کبھی جسٹس قاضی فائز کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعیناتی کیخلاف سپریم کورٹ نامعلوم افراد کی طرف سے درخواست دائر کروائے جاتی ہے، کبھی بیرون ملک جائیدادوں کی قانون کے مطابق خریداری پر سوالیہ نشان لگایا جاتا ہے اور اگر قاضی فائز عیسی اللہ رب العالمین کے کرم سے اپنے خلاف ہونے والی ہر قانونی جنگ جیت جاتا ہے تو پھر اس کیخلاف جھوٹ، کردار کشی، قتل کی دھمکیوں پر مشتمل مہم شروع کروائی جاتی ہے جیسے کہ آج کل جاری ہے*
کیا آپ جانتے ہیں کہ کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ میں ایسا کیا لکھا تھا جو جسٹس قاضی فائز عیسی کا جرم بن گیا؟
تو جناب
جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ دونوں حملوں کے پیچھے ایک ہی گروپ ملوث تھا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل یک رکنی کمیشن نے 110 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں اس جانب بھی توجہ دلائی کہ جب تک کمیشن نے مداخلت نہیں کی خودکش بمبار کی شناخت نہیں ہو سکی، سیکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ کو محفوظ کیا اور نہ فرانزک معائنے کے لیے لیبارٹری کی سہولت موجود تھی، وقوعہ کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی ہوائی فائرنگ نے مزید خوف پیدا کیا، اسپتال غیرفعال تھا اور اس میں فرسٹ ایڈ کٹس تک دستیاب نہ تھیں، نہ ہی حادثات سے نمٹنے کا کوئی ایس او پی تھا۔
بلوچستان ایک عرصے سے بدامنی اور شورش کا شکار ہے، سال رواں بلوچستان میں تواتر سے ہونے والی شرپسند کارروائیوں میں کئی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا، بلوچستان کی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے 60 سے زائد وکلا سمیت 73 افراد اس خودکش حملے میں جاں بحق ہوئے۔ بظاہر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہو رہا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومت بلوچستان میں امن و امان کے مکمل قیام میں اب تک ناکام ہیں، قیادت کے فقدان اور دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں جو کنفیوژن ہے اس نے حالات کی سنگینی کو مزید مہمیز دی ہے، اس پر مستزاد سیاسی مداخلت اور اقربا پروری نے اداروں کو تباہی کی جانب گامزن کیا ہوا ہے۔ کمیشن نے بھی قرار دیا ہے کہ سیاسی مداخلت کی وجہ سے اداروں میں ڈسپلن ختم ہو گیا ہے۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں صوبے کو اے اور بی ایریا میں تقسیم کرنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس سے خرابیاں پیدا ہوئیں۔ صائب ہو گا کہ اس طرح کی امتیازی تقسیم سے گریز برتا جائے۔ کمیشن نے نیشنل ایکشن پلان میں موجود اسقام کی سمت جو توجہ دلائی ہے اس پر بھی دھیان دینا چاہیے۔ کمیشن کے مطابق ابھی تک نیشنل سیکیورٹی انٹرنل پالیسی پر عمل نہیں ہوا ہے، نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد کی نگرانی کا کوئی طریقہ کار ہے اور نہ ہی اس پر عمل ہوا، پلان کا اطلاق کس نے کرنا ہے، اس بارے میں تحریری اسٹرٹیجی نہیں ہے۔
انسداد دہشتگردی کے قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، ابھی تک کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں جاری ہیں اور ان کے سربراہان کے بیانات نشر اور شایع ہو رہے ہیں۔ وزارت داخلہ نے تاحال کاؤنٹر ٹیرر ازم اسٹرٹیجی نہیں بنائی، مغربی سرحدیں غیر محفوظ ہیں، مذہبی ہم آہنگی کے لیے وزارت مذہبی امور نے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کیں، جب کہ مدارس کی رجسٹریشن اور مانیٹرنگ کا بھی کوئی طریقہ کار نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ متواتر نقصانات کے باوجود بے لگام دہشتگردی اور شرپسند عناصر کے مذموم مقاصد کی سوکوبی اور دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے لیے موثر کارروائی عمل میں نہیں آ سکی ہے؟
صائب ہو گا کہ کمیشن کی رپورٹ میں جو سفارشات کی گئی ہیں ان پر عملدرآمد کیا جائے، جیسے انسداد دہشتگردی اور نیکٹا ایکٹ پر مکمل عملدرآمد، تمام کالعدم تنظیموں پر فوری پابندی اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف مقدمات کے اندراج، کالعدم تنظیموں کے بارے عوام میں آگاہی پیدا کرنے، دہشتگردی میں ملوث اور مشکوک افراد کا ڈیٹا بینک بنانے، جدید فرانزک لیبارٹری کے قیام، واضح مقاصد اور مکمل نگرانی کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان بنانے اور اسے نافذ کرنے، مغربی بارڈر کو محفوظ بنانے، ملک بھر میں ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی اور اس میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔ ملک دشمن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہی وقت کا اہم تقاضا ہے۔
*مگر قاضی بھی تو باز نہیں آتا نا*
*ابھی کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ کا زلزلہ جاری تھا کہ مکمل ریاستی سرپرستی میں کروائے گئے فیض آباد دھرنے کا مقدمہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے سامنے آ گیا اور انہوں نے کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ کی طرح ایک مرتبہ پھر آئین، قانون، آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹس سمیت تمام ٹھوس ثبوتوں کی روشنی میں فیض آباد دھرنے کے پیچھے چھپے کرداروں، اداروں، مذہبی، سیاسی و غیرسیاسی شخصیات کو بے نقاب کر دیا، مزید جلتی پر تیل یہ ڈالا کہ اپنے فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے سکیورٹی فورسز کے ان آفیسرز کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیدیا جنہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی اور مذہبی شدت پسندوں میں ہزار ہزار کے نوٹ تقسیم کئے*
*یاد ہے نا وہ تصویر۔۔۔ نوٹ تقسیم کرنے والی؟*
پھر کیا تھا، خوف، دہشت گردی، دھرنوں شرنوں کی آڑ میں کاروبار کرنے والوں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور ساری ریاستی مشینری استعمال کر کے قاضی فائز کیخلاف جھوٹا ریفرنس دائر کروا دیا جو بالآخر طویل قانونی جنگ کے بعد خارج ہو گیا۔۔
یہاں بھی جب شکست ہوئی تو اب آئین، قانون اور آزاد عدلیہ مخالف قوتوں نے قاضی فائز کیخلاف اور پوری عدلیہ کے خلاف جھوٹ، بہتان، کردار کشی پر مبنی مہم شروع کر رکھی ہے
کیونکہ
*پے در پے شکست کھانے اور بے نقاب ہونے والے ٹولے کو اب سو فیصد یقین ہو گیا ہے کہ جو جسٹس قاضی فائز عیسی کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ کے بعد اپنی بطور چیف جسٹس بلوچستان تعیناتی چیلنج کروانے، فیض آباد دھرنے کے فیصلے کے بعد ریفرنس دائر کرنے سے نہیں ڈرا وہ اب آئین، قانون اور آزاد عدلیہ کیخلاف سازشیں کرنے والوں کو نہیں چھوڑے گا*
اس لئے
گزشتہ 15 برسوں میں تیار کئی گئی *دولے شاہ چوہا فورس* جسٹس قاضی فائز کیخلاف سوشل میڈیا پر لانچ کر دی گئی ہے۔
مگر دولے شاہ چوہا فورس یاد رکھے کہ اب اس ملک کے باشعور عوام جسٹس قاضی فائز عیسی کے نہ صرف مکمل ساتھ ہیں بلکہ اپنی عدلیہ کیخلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بھی بنائیں گے۔
*یہ ہیں جناب جسٹس قاضی فائز عیسی کے اصل جرائم*
*اگر آج قاضی فائز عیسی کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ اور فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ واپس لے کر ظالموں، پاکستان کے اصل لٹیروں سے ہاتھ ملا لے تو دیکھئے گا کہ قاضی فائز کی تعریفوں کے کیسے کیسے پل باندھے جاتے۔*
*مگر آپ فکر نہ کریں، آئین، قانون، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی جاری رہنی ہے اور قاضی فائز عیسی نے پھر آئین، قانون اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر فیصلے دینے ہی دینے ہیں لہذا آپ انتظار کریں، قاضی فائز دوبارہ اپنے فیصلوں کی وجہ سے زد میں آئیگا*
COPIED...
Saturday, May 8, 2021
25th Ramzan.
آج رمضان کی پچیسویں شب ہے۔ آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات۔
احباب میں سے جنہیں رب تعالی توفیق دے وہ یقینا عبادت میں وقت گزاریں گے۔ رب کریم سے اپنی زندگی کی غلطیوں، گناہوں کی معافی، صدق دل سے توبہ اور جو مہلت ملے اس میں رب کو راضی کرنے کی سعی۔ ایسے کام جو روز آخرت بخشش کا باعث بن سکیں، جو اس روز جزا سرخرو کر سکیں۔
یہ سب ضرور کریں۔
اس کے ساتھ آج کی شب اور اگلی دونوں طاق راتوں میں کچھ ایسا عہد بھی کریں جو آپ کی اگلی پوری زندگی پر اثر انداز ہو۔ ایسی کمٹمنٹ جسے پورا کرنے کے لئے رب سے دعا کریں، مدد مانگیں، توفیق مانگیں۔
اپنے زوق کے مطابق ایسا کریں۔ کچھ ایسا علمی کام، کسی اچھی عادت کا اضافہ، کسی بڑی برائی کا خاتمہ، صلہ رحمی کی عادت، اپنی آمدن سے کسی خاص تناسب سے رقم چیریٹی کے لئے مختص کرنا وغیرہ وغیرہ۔
میری ایک تجویز ہے کہ قرآن پاک اور سیرت کے مطالعے کی کمٹمنٹ بھی کر لیں۔ ہر روز صرف ایک گھنٹہ یا نصف گھنٹہ قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کی عادت ڈالنا، اس پر چند منٹ غور کرنا، اسی طرح صرف چند منٹ سیرت مبارکہ کی کسی بھی کتاب کے لئے مختص کرنا، اس پر غور کرنا۔
رب کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں آج کی مبارک رات اور آنے والی بابرکت راتوں کے طفیل اچھے اعمال کرنے اور روز آخرت سرخرو ہونے کی تیاری کی توفیق دے، آمین۔ ہماری ہر اچھی مثبت کمٹمنٹ میں برکت عطا فرمائے اور استقامت دے، آمین۔
Law
The resolution notes that there has been "an alarming increase" in accusations of blasphemy online and offline in Pakistan over the past year. — PID/File
The European Parliament has adopted a resolution calling for a review of the GSP+ status granted to Pakistan in view of an "alarming" increase in the use of blasphemy accusations in the country as well as rising number of online and offline attacks on journalists and civil society organisations, it emerged on Friday.
The resolution also calls on the Government of Pakistan to "unequivocally condemn" incitement to violence and discrimination against religious minorities in the country, and expresses "deep concern" at the prevailing anti-French sentiment in Pakistan.
The EU Parliament "calls on the Commission and the European External Action Service (EEAS) to immediately review Pakistan’s eligibility for GSP+ status in the light of current events and whether there is sufficient reason to initiate a procedure for the temporary withdrawal of this status and the benefits that come with it, and to report to the European Parliament on this matter as soon as possible", according to the resolution.
Member of European Parliament (MEP) Charlie Weimers of Sweden, who co-authored the resolution, in his speech during the parliament's latest session cited various incidents of members of religious minorities killed or imprisoned in Pakistan over accusations of blasphemy.
"Pakistan's Prime Minister Imran Khan, rather than defend his citizens' human rights against false accusers, [...] equated denial of the Holocaust and genocide to criticism of Islam's Prophet (PBUH)," he said in his remarks.
Life Facts
Friday, May 7, 2021
Ramzan
Last Ashra of Ramzan 2021
جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ
جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معم...
-
پاکستان کے آئین کے حوالے سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تناظر میں مذہبی آزادی کے حق کی توہین کی قانونی حیثیت پاکستان کے آئین کے آرٹ...
-
لاہور کی خصوصی عدالت نے 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی ضمانت قبل ...
-
جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معم...






