Showing posts with label #SindhLawyers. Show all posts
Showing posts with label #SindhLawyers. Show all posts

Monday, June 13, 2022

جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ

 



جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ


گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معمولی جھگڑے کے دوران فائرنگ کرکے نوجوان طالب علم کے قتل میں ملوث ملزم انشال کو گرفتار کرلیا ہے۔
مرکزی ملزم عرفان اور اس کا بھائی احسان مفرور ہیں جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
24 اور 25 مئی کی درمیانی شب سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں جھگڑے کے دوران ایک نوجوان طالب علم جزلان ولد فیصل کو گولی مار کر ہلاک اور اس کا دوست شاہ میر ولد نعمان زخمی ہوگیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے ایک ملزم حسنین کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
بعد ازاں پولیس نے حسنین کے والد فیض کو بھی گرفتار کرلیا۔
مرکزی ملزم عرفان اپنے ساتھیوں انشال اور احسان سمیت فرار ہو گیا تھا۔
کراچی میں معمولی تنازع پر قتل ہونے والے جزلان کے ورثاء نے تفتیشی پولیس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
ورثاء نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔ ورثاء نے سیکریٹری داخلہ سندھ سے ملاقات میں الزام لگایا کہ تفتیشی پولیس کے اہلکار قتل کیس میں ملزمان کی حمایت کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مقدمے میں عرفان فیض، حسنین فیض اور انشال سمیت ملزمان پہلے ہی گرفتار ہیں جب کہ احسن ولد فیض خان نامی ملزم تاحال مفرور ہے۔
کراچی کے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں 17 سالہ یتیم جزلان اپنی عمر کے کچھ لڑکوں کو بائیک چلانے سے روکنے پر ہلاک ہو گیا۔
پولیس کے مطابق جزلان اپنی گاڑی چلا رہا تھا جب ایک نوجوان ملزم حسنین اپنے دوست کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر سوسائٹی میں ’زیگ زیگ‘ انداز میں جا رہا تھا جس کے بعد حسنین نے اپنے بڑے بھائی اور کچھ دیگر دوستوں کو بلایا، جنہوں نے آ کر جزلان پر فائرنگ کر دی۔ .

Friday, June 10, 2022

مجرمانہ وکلاء اکثر اپنے مؤکلوں سے اعتراف جرم کرنے کو کیوں کہتے ہیں

 


مجرمانہ وکلاء اکثر اپنے مؤکلوں سے اعتراف جرم کرنے کو کیوں کہتے ہیں؟


 زیادہ تر وقت پراسیکیوٹر کے پاس جرم کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہوتے ہیں یاد رکھیں، وہ یہ انتخاب کرتے ہیں کہ کون سے مقدمات کی پیروی کرنی ہے، اور عام طور پر صرف جیتنے والوں کا پیچھا کرتے ہیں، ہارنے والوں کا نہیں۔
یہ قاعدہ کے بجائے استثناء ہے کہ قابل ادراک دفاع، آئینی مسئلہ، یا یہاں تک کہ معقول شبہات کی حمایت کرنے کا ثبوت موجود ہے۔


لوگ عوامی محافظوں کو برا ریپ دیتے ہیں - لیکن ان سے اکثر ہاتھ دھونا پڑ جاتا ہے اور ان کے مؤکلوں کے لیے پلی بارگینز بہترین آپشن ہوتے ہیں۔


#TanoliLawAssociates
@SindhLawyers

وکیل بننا کیوں مشکل ہے؟



وکیل بننا کیوں مشکل ہے؟

 وکالت کے پیشے میں کچھ خامیاں کیا ہیں؟

لا اسکول مہنگا ہے۔ اس پر آپ کو پاکستان یا طلباء کے قرضوں میں ضرورت سے زیادہ لاگت آئے گی۔

وکلاء کی بھرمار ہے۔ ملازمتوں سے کہیں زیادہ لاء اسکول کے فارغ التحصیل ہیں۔

زیادہ تر وکلاء زیادہ پیسہ نہیں کماتے ہیں۔ اعدادوشمار اوسط بتاتے ہیں لیکن وہ اعدادوشمار ناقص ہیں۔ کچھ وکلاء بہت زیادہ یا اس سے زیادہ کماتے ہیں کیونکہ وہ بڑے کاروباری لوگ ہیں۔ زیادہ تر وکلاء اس سے کہیں کم کماتے ہیں۔

پیشہ انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔ وکلاء لمبے گھنٹے کام کرتے ہیں اور بلنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زبردست دباؤ میں رہتے ہیں۔

زیادہ تر کام بورنگ، مشقت کا ہوتا ہے۔ ٹی وی شوز اور فلمیں اس بارے میں بہت دھوکہ دیتی ہیں کہ وکلاء اصل میں کیا کرتے ہیں۔

وکلاء کو لوگ زیادہ عزت نہیں دیتے۔ آپ ان کلائنٹس کے ساتھ معاملہ کریں گے جو اس حقیقت سے ناراض ہیں کہ انہیں ایک وکیل کی خدمات حاصل کرنی ہیں۔


#TanoliLawAssociates
@SindhLawyers

Monday, June 28, 2021

Public Interest Litigation in Supreme Court of Pakistan


 Article 184(3) of the Constitution of Pakistan 1973 provides the concept of protection of Fundamental Rights through the use of Article 199 of the Constitution. Hence, the Supreme Court of Pakistan can pre-empt the jurisdiction of High Courts under Art.199 whenever “a question of public importance with reference to the enforcement of any of the Fundamental Rights conferred by Chapter I of Part II is involved.” The power of Art.184(3) is “original jurisdiction” of the Supreme Court to enforce fundamental rights. We will also find words “human rights” used by the Supreme Court in its judgments given under the caption “Human Rights Cases” while they have not been mentioned anywhere in 1973 Constitution. It is the combined effect of the provisions of Art.184(3) and Art.199 that help us to understand as to what might be the human rights to be enforced. “Human Rights” is a general term while the term “Fundamental Rights” is specific one and is used in the Constitution as a practical term defining and limiting the exact meanings of various rights provided to all those who are citizens of Pakistan. However, certain Fundamental Rights are provided to everyone who is within the territorial jurisdiction of Pakistan, whether citizen or not, at any given time period. This thesis will study various aspects of the powers of Supreme Court under Art.184(3) of the Constitution along with allied matters.

Case Laws.

  1. under its suo motu jurisdiction of Article 184(3) in To Visit "State v. Zubair". 610 It 604 PLD 2001 SC 607
  2. Suo Motu Case: In re, p. 2001 - 1041
  3. Case Suo Motu

    re, PLD 2001 SC 1041
  4. Case Suo Motu

    re, PLD 2001 SC 1041.



    CHECKOUT
    https://papers.ssrn.com/sol3/papers.cfm?abstract_id=1984583

Sunday, May 9, 2021

Islam

*" حضرت خالد بن ولیدؓ "* 

کے انتقال کی خبر جب مدینہ منورہ پہنچی تو ہر گھر میں کہرام مچ گیا جب حضرت خالد بن ولیدؓ کو قبر میں اتارا جا رہا تھا تو لوگوں نے یہ دیکھا 

کہ آپ رضی اللہ عنہ کا گھوڑا ’’ *اشکر* ‘‘ جس پر بیٹھ کے آپ رضی اللہ عنہ نے تمام جنگیں لڑیں وہ بھی آنسو بہا رہا تھا 

حضرت خالد بن ولیدؓ کے ترکے میں صرف ہتھیار، تلواریں، خنجر اور نیزے تھے ان ہتھیاروں کے علاوہ ایک غلام تھا جو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہا تھا 

اللہ کی یہ تلوار جس نے دو عظیم سلطنتوں (روم اور ایران) کے چراغ بجھائے وفات کے وقت ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ آپؓ نے جو کچھ بھی کمایا، وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردیا۔ ساری زندگی میدان جنگ میں گزار دی۔ 

صحابہؓ نے گواہی دی کہ ان کی موجودگی میں ہم نے شام اور عراق میں کوئی بھی جمعہ ایسا نہیں پڑھا جس سے پہلے ہم ایک شہر فتح کرچکے ہوں یعنی ہر دو جمعوں کے درمیانی دنوں میں ایک شہر ضرور فتح ہوتا تھا۔ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت خالدؓکے روحانی تعلق کی گواہی دی۔

 *خالد بن ولیدؓکا پیغام مسلم امت کے نام:* 
موت لکھی نہ ہو تو موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے جب موت مقدر ہو تو زندگی دوڑتی ہوئی موت سے لپٹ جاتی ہے، زندگی سے زیادہ کوئی نہیں جی سکتا اور موت سے پہلے کوئی مر نہیں سکتا۔ دنیا کے بزدل کو *میرا یہ پیغام* پہنچا دو کہ اگر میدا ن جہاد میں موت لکھی ہوتی تو اس خالد بن ولیدؓ کو موت بستر پر نہ آتی..!!

💖💖

Saturday, May 8, 2021

Life Facts

*کبھی کبھی ہم سوچتے ہیــں کہ کاش وہ بیتا وقت زندگی میں دوبارہ آ جائے وہ جو حسین لمحے تھے ہم ان کو قید کر لیـــں وہ سنہری خوشیوں بھرا دور رکــــ جائے.....!!!*♥️

*لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ نہ تو زندگی نے دوبارہ ملنا ہے اور نہ ہی وہ خوبصورت وقت واپس آئے گا اس لیے جو وقت گزر رہا ہے اسے ہی خوبصورت بنانے کی کوشش کیجئے اور بھرپور زندگی جئیں....!!!* *پر اسلام اور اللہ کے حکم  کے مطابق۔۔ اور سنت و حدیث کوساتھ لے کر چلیں۔۔*🌹🌹

جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ

  جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معم...