Sunday, May 9, 2021

کوئٹہ میں 60 سے زائد وکلاء کی شہادتیں، ذمہ دار کون تھے؟*



 * کوئٹہ میں 60 سے زائد وکلاء کی شہادتیں، ذمہ دار کون تھے؟*
*آئیں آپ کو جسٹس قاضی فائز عیسی کے اصل جرائم بتائوں*
*فکر نہ کریں قاضی فائز عیسی دوبارہ پکڑا جائیگا*
تحریر و تحقیق || میاں دائود ایڈووکیٹ 
یہ 8 اگست 2016 ہے، بلوچستان کے شہر کوئٹہ منو جان روڈ پر بلوچستان بار کے صدر بلال انور کاسی کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی طرف سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے ،بلال انور کاسی کی میت سول اسپتال پہنچائی گئی، تو وہاں ایک بار پھر دہشتگردوں نے اپنا وار کیا، سول اسپتال کے شعبہ حادثات کے بیرونی گیٹ پر جہاں وکیلوں کی بڑی تعداد جمع تھی ، ایک زوردار دھماکا ہوا، دھماکے کے بعد فائرنگ بھی ہوئی، دھماکےکےبعد اسپتال میں بھگدڑ مچ گئی، لوگ اپنی جان بچانے کے لئے بھاگتے نظر نظر آئے، اسپتال کےباہر رقت آمیز مناظر ہیں،لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کرتے رہے۔
*مختصر یہ کہ اس سانحہ میں بلوچستان کے قابل ترین وکلاء کو بڑی جامع منصوبہ بندی کے تحت شہید کر دیا گیا اور ان وکلاء میں اکثریت ان وکلاء کی بھی تھی جو لاپتہ افراد کے مقدمات کی مفت پیروی کرتے تھے۔*
پھر چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی پر مشتمل ایک کمیشن بنا  دیا، جسٹس قاضی فائز عیسی نے 56 دن کی کارروائی مکمل کر کے 16 دسمبر 2016 کو رپورٹ پبلک کر دی جس میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے واقعات کی وجہ قانونی و انتظامی اداروں کی نااہلی، وسائل کی کمی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومت خصوصاً وزارتِ داخلہ کی غیر ذمہ داری اور پالیسیوں پر عملدرآمد نہ ہونا ہے۔
*یہی وہ 16 دسمبر 2016 کا دن تھا جس دن فیصلہ کیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی چونکہ محب وطن ہے، پاکستان کا زیادہ ماما بنتا ہے، وکلاء کی شہادت کے پیچھے چھپی ہوئی سازش کو بے نقاب کر گیا ہے، اس لئے اب اسے راستے سے ہٹایا جائے۔۔۔ وہ دن اور آج کا دن، کبھی جسٹس قاضی فائز کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تعیناتی کیخلاف سپریم کورٹ نامعلوم افراد کی طرف سے درخواست دائر کروائے جاتی ہے، کبھی بیرون ملک جائیدادوں کی قانون کے مطابق خریداری پر سوالیہ نشان لگایا جاتا ہے اور اگر قاضی فائز عیسی اللہ رب العالمین کے کرم سے اپنے خلاف ہونے والی ہر قانونی جنگ جیت جاتا ہے تو پھر اس کیخلاف جھوٹ، کردار کشی، قتل کی دھمکیوں پر مشتمل مہم شروع کروائی جاتی ہے جیسے کہ آج کل جاری ہے*
کیا آپ جانتے ہیں کہ کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ میں ایسا کیا لکھا تھا جو جسٹس قاضی فائز عیسی کا جرم بن گیا؟ 
تو جناب
جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ دونوں حملوں کے پیچھے ایک ہی گروپ ملوث تھا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل یک رکنی کمیشن نے 110 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں اس جانب بھی توجہ دلائی کہ جب تک کمیشن نے مداخلت نہیں کی خودکش بمبار کی شناخت نہیں ہو سکی، سیکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ کو محفوظ کیا اور نہ فرانزک معائنے کے لیے لیبارٹری کی سہولت موجود تھی، وقوعہ کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی ہوائی فائرنگ نے مزید خوف پیدا کیا، اسپتال غیرفعال تھا اور اس میں فرسٹ ایڈ کٹس تک دستیاب نہ تھیں، نہ ہی حادثات سے نمٹنے کا کوئی ایس او پی تھا۔
بلوچستان ایک عرصے سے بدامنی اور شورش کا شکار ہے، سال رواں بلوچستان میں تواتر سے ہونے والی شرپسند کارروائیوں میں کئی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا، بلوچستان کی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے 60 سے زائد وکلا سمیت 73 افراد اس خودکش حملے میں جاں بحق ہوئے۔ بظاہر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہو رہا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومت بلوچستان میں امن و امان کے مکمل قیام میں اب تک ناکام ہیں، قیادت کے فقدان اور دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں جو کنفیوژن ہے اس نے حالات کی سنگینی کو مزید مہمیز دی ہے، اس پر مستزاد سیاسی مداخلت اور اقربا پروری نے اداروں کو تباہی کی جانب گامزن کیا ہوا ہے۔ کمیشن نے بھی قرار دیا ہے کہ سیاسی مداخلت کی وجہ سے اداروں میں ڈسپلن ختم ہو گیا ہے۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں صوبے کو اے اور بی ایریا میں تقسیم کرنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس سے خرابیاں پیدا ہوئیں۔ صائب ہو گا کہ اس طرح کی امتیازی تقسیم سے گریز برتا جائے۔ کمیشن نے نیشنل ایکشن پلان میں موجود اسقام کی سمت جو توجہ دلائی ہے اس پر بھی دھیان دینا چاہیے۔ کمیشن کے مطابق ابھی تک نیشنل سیکیورٹی انٹرنل پالیسی پر عمل نہیں ہوا ہے، نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد کی نگرانی کا کوئی طریقہ کار ہے اور نہ ہی اس پر عمل ہوا، پلان کا اطلاق کس نے کرنا ہے، اس بارے میں تحریری اسٹرٹیجی نہیں ہے۔
انسداد دہشتگردی کے قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، ابھی تک کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں جاری ہیں اور ان کے سربراہان کے بیانات نشر اور شایع ہو رہے ہیں۔ وزارت داخلہ نے تاحال کاؤنٹر ٹیرر ازم اسٹرٹیجی نہیں بنائی، مغربی سرحدیں غیر محفوظ ہیں، مذہبی ہم آہنگی کے لیے وزارت مذہبی امور نے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کیں، جب کہ مدارس کی رجسٹریشن اور مانیٹرنگ کا بھی کوئی طریقہ کار نہیں۔ کیا وجہ ہے کہ متواتر نقصانات کے باوجود بے لگام دہشتگردی اور شرپسند عناصر کے مذموم مقاصد کی سوکوبی اور دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے لیے موثر کارروائی عمل میں نہیں آ سکی ہے؟
صائب ہو گا کہ کمیشن کی رپورٹ میں جو سفارشات کی گئی ہیں ان پر عملدرآمد کیا جائے، جیسے انسداد دہشتگردی اور نیکٹا ایکٹ پر مکمل عملدرآمد، تمام کالعدم تنظیموں پر فوری پابندی اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف مقدمات کے اندراج، کالعدم تنظیموں کے بارے عوام میں آگاہی پیدا کرنے، دہشتگردی میں ملوث اور مشکوک افراد کا ڈیٹا بینک بنانے، جدید فرانزک لیبارٹری کے قیام، واضح مقاصد اور مکمل نگرانی کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان بنانے اور اسے نافذ کرنے، مغربی بارڈر کو محفوظ بنانے، ملک بھر میں ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی اور اس میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔ ملک دشمن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہی وقت کا اہم تقاضا ہے۔
*مگر قاضی بھی تو باز نہیں آتا نا*
*ابھی کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ کا زلزلہ جاری تھا کہ مکمل ریاستی سرپرستی میں کروائے گئے فیض آباد دھرنے کا مقدمہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے سامنے آ گیا اور انہوں نے کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ کی طرح ایک مرتبہ پھر آئین، قانون، آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹس سمیت تمام ٹھوس ثبوتوں کی روشنی میں فیض آباد دھرنے کے پیچھے چھپے کرداروں، اداروں، مذہبی، سیاسی و غیرسیاسی شخصیات کو بے نقاب کر دیا، مزید جلتی پر تیل یہ ڈالا کہ اپنے فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے سکیورٹی فورسز کے ان آفیسرز کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیدیا جنہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی اور مذہبی شدت پسندوں میں ہزار ہزار کے نوٹ تقسیم کئے*
*یاد ہے نا وہ تصویر۔۔۔ نوٹ تقسیم کرنے والی؟*
پھر کیا تھا، خوف، دہشت گردی، دھرنوں شرنوں کی آڑ میں کاروبار کرنے والوں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور ساری ریاستی مشینری استعمال کر کے قاضی فائز کیخلاف جھوٹا ریفرنس دائر کروا دیا جو بالآخر طویل قانونی جنگ کے بعد خارج ہو گیا۔۔
یہاں بھی جب شکست ہوئی تو اب آئین، قانون اور آزاد عدلیہ مخالف قوتوں نے قاضی فائز کیخلاف اور پوری عدلیہ کے خلاف جھوٹ، بہتان، کردار کشی پر مبنی مہم شروع کر رکھی ہے 
کیونکہ
 *پے در پے شکست کھانے اور بے نقاب ہونے والے ٹولے کو اب سو فیصد یقین ہو گیا ہے کہ جو جسٹس قاضی فائز عیسی کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ کے بعد اپنی بطور چیف جسٹس بلوچستان تعیناتی چیلنج کروانے، فیض آباد دھرنے کے فیصلے کے بعد ریفرنس دائر کرنے سے نہیں ڈرا وہ اب آئین، قانون اور آزاد عدلیہ کیخلاف سازشیں کرنے والوں کو نہیں چھوڑے گا*
اس لئے 
گزشتہ 15 برسوں میں تیار کئی گئی *دولے شاہ چوہا فورس* جسٹس قاضی فائز کیخلاف سوشل میڈیا پر لانچ کر دی گئی ہے۔
مگر دولے شاہ چوہا فورس یاد رکھے کہ اب اس ملک کے باشعور عوام جسٹس قاضی فائز عیسی کے نہ صرف مکمل ساتھ ہیں بلکہ اپنی عدلیہ کیخلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بھی بنائیں گے۔
*یہ ہیں جناب جسٹس قاضی فائز عیسی کے اصل جرائم*
*اگر آج قاضی فائز عیسی کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ اور فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ واپس لے کر ظالموں، پاکستان کے اصل لٹیروں سے ہاتھ ملا لے تو دیکھئے گا کہ قاضی فائز کی تعریفوں کے کیسے کیسے پل باندھے جاتے۔*
*مگر آپ فکر نہ کریں، آئین، قانون، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی جاری رہنی ہے اور قاضی فائز عیسی نے پھر آئین، قانون اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر فیصلے دینے ہی دینے ہیں لہذا آپ انتظار کریں، قاضی فائز دوبارہ اپنے فیصلوں کی وجہ سے زد میں آئیگا*
COPIED...

No comments:

Post a Comment

جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ

  جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معم...