Tuesday, May 11, 2021

SC says pre-arrest bail in cognisable offences extraordinary remedy.


 The Supreme Court has reiterated that pre-arrest bail in a cognisable or non-bailable offence is an extraordinary remedy, extended for the sole purpose of protecting reputation and honour of an innocent citizen being hounded through abuse of process of law for sinister purposes.

This judicial protection is based on equity and cannot be extended in every run-of-the-mill criminal case founded upon incriminatory evidence, warranting custody for investigative purposes, observed Justice Qazi Muhammad Amin Ahmed in a judgement he wrote.
Justice Ahmed was a member of the three-judge bench that had taken up an appeal moved by Maqbool Ahmed Mahessar, Hafiz Suhail Ahmed, Muhammad Pariyal Solangi and Nasrullah against the National Accountability Bureau (NAB). The appeal had sought to challenge different Sindh High Court (SHC) orders of March 2021.
Through separate orders the Sukkur bench of the SHC had allowed pre- as well as post-arrest bails in different NAB references but subject to deposit of amounts allegedly embezzled by the petitioners at the cost of public exchequer.
Facility should be extended only for protecting an innocent person being hounded through abuse of process, says judgement
On Nov 29, 2019 as well, Justice Ahmed, while deciding a number of appeals against the SHC orders, had held that a pre-arrest bail, being rooted in equity, was an extraordinary remedy and should be exercised cautiously only to protect innocent persons from the horrors of abuse of process of law.
Referring to the present case, Justice Ahmed cited the Tallat Ishaq versus NAB case of 2019 and observed that directives for the release of an accused on bail have since been held against the law.
An accused seeking bail desires transfer of his custody from the jail, whose superintendent undertakes his production as and when required by the court. But for that, he has to make out a case in accordance with the applicable law and cannot be allowed or required to barter his freedom, the judgement explained.
Justice Ahmed observed that in the case at hand, considerations for grant of post-arrest bail to an accused facing charges under the NAB Ordinance had clearly been illustrated. Therefore, the accused facing indictment in a NAB reference had to qualify as per the parameters set down in different cases.
“There is no other way out,” the judgement said and added that grant of pre-arrest bail in a cognisable or non-bailable offence is a remedy that’s extraordinary in the nature of judicial protection.
Such a facility is extended by diverting usual course of law for the sole purpose of protecting reputation and honour of an innocent citizen being hounded for sinister and oblique purposes.
The protection was devised in 1949 by Hidayatullah Khan and the principles laid down therein are being faithfully followed till date, Justice Ahmed said in his order, adding the high court’s orders, being inconsistent, could not be sustained.
Thus the petitions are converted into appeals and allowed, high court orders are set aside and the bail petitions filed by the appellants before the high court would be deemed as pending for fresh decision, the judgement said.
The petitioners, meanwhile, would remain on ad-interim bail upon furnishing bonds in the sum of Rs500,000 with one surety each in the like amount to the satisfaction of deputy registrar (judicial) of the Sukkur bench of the SHC before end of third week of the present month, the order said.
The petitioners would appear before the high court on a date notified by the SHC office and the case would be decided on its merits.
In the 2019 Tallat Ishaq case, Justice Asif Saeed Khosa had regretted that the original intention behind introduction of Section 9(b) of the NAB Ordinance, of ousting jurisdiction of the courts regarding grant of bail in cases, stood neutralised by opening the door for bail through exercise of constitutional jurisdiction of a high court.
Resultantly, the entire burden was being shouldered by the high courts, which was a huge and an unnecessary drain on their precious time, Justice Khosa had held.
Justice Khosa had also suggested to the legislature to consider amending the ordinance appropriately to enable an accused person to apply for his bail to the relevant accountability court in the first instance, rather than coming directly to the high court.


Such a Lesson


 *ایک جامع مسجد کے خطیب کی ایک خوبصورت بیٹھی تھی*

ایک جامع مسجد کے خطیب کی ایک خوبصورت بیٹھی تھی جو جامعہ میں پڑھتی تھی ایک دن وہ جامعہ سے واپس گھر آئی گاڑی سے اترتے وقت ایک لڑکے نے اس کا چہرہ دیکھ لیا لڑکی بہت حسینہ و جمیلہ تھی لڑکے کو پسند آئی اس نے پتہ کیا لڑکی خطیب صاحب کی بیٹی تھی لڑکے نے اسی دن سے صف اول میں نماز پڑھنے کا اہتمام شروع کیا اذان سنتے ہی وہ مسجد کے دروازے پر پہنچ جاتا نماز تک تلاوت قرآن میں مشغول رہتا تھا چھ سات مہینے تک وہ اسی معمولات کا پابند رہا اسکے بعد اس نے والد سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا والد نے کہا ٹھیک ہے دیکھ لیں گے مناسب رشتہ اس نے کہا کہ لڑکی میں نے دیکھ لی ہے والد کے پوچھنے پر اس نے خطیب صاحب کی بیٹی کے بارے میں بتایا اس نے کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے امام صاحب سے ملتے ہیں عمائدین محلہ کے ساتھ امام صاحب کے خدمت میں حاضر ہوئے امام نے لڑکے کے بارے میں پو چھا انہوں اسی لڑکے کے طرف اشارہ کیا خطیب نے لڑکے کی دین داری کو دیکھ رشتہ لڑکی سے مشورہ کرنے اور رضا مندی ظاہر کرنے پر قبول کیا۔

چنانچہ رشتہ طے ہوا چھ سات ماہ بعد شادی ہوئی شادی کے کچھ عرصہ بعد لڑکے نے نماز پڑھنے میں سستی شروع کی ایک دو ماہ بعد لڑکے نے ڈاڑھی کاٹ دی گھر آنے پر لڑکی نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اس نے کہا کہ یہ نمازیں تو میں تمہیں حاصل کرنے کے لیے پڑھ رہا تھا اب مقصد حاصل ہو چکا ہے اب کیا ضرورت ، لڑکی یہ سن کر بہت افسردہ خاطر ہوئی اور جا کر والد صاحب سے کہا کہ اس بے دین کے ساتھ ایک دن نہیں رہنا چاہتی یہ معاملہ محکمہ عدل تک پہنچ گیا قاضی نے دونوں میں تفریق کا فیصلہ کیا۔ لڑکا بہت پریشان ہوا اس نے بہت کوشش کی لیکن لڑکی کو دوبارہ نہ پا سکا لڑکے نے ایک جادوگر سے مدد حاصل کر نے کا فیصلہ کیا جادوگر نے بڑے رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا لڑکے نے سارے پیسے پیشگی ادا کیے کچھ دن گزرنے کے بعد جادوگرنے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا لڑکے نے فی الفور وہ بھی ادا کیے اور کہا کہ کام ہو جا نا چاہیے پیسوں کا فکر نہ کریں۔

ایک ماہ کے بعد جادو گر نے لڑکے کو بتایا آجاؤ اپنے پیسے لے جا تمہارا کام کسی صورت میں ممکن نہیں ہے جب وہ لڑکا جادوگر کے کمرے میں پہنچا تو جادوگر ایک بڑا چاقو ہاتھ میں لیے کھڑا ہے لڑکے نے حیرت زدہ انداز میں پو چھا یہ کیا کر رہے ہو جادوگر نے کہا مجھے قتل کر دو ورنہ دو قتل کر دئیے جائیں گے لڑکے نے کہا میں یہ نہیں کر سکتا لہٰذا میرے پیسے دے دو اس نے پیسے دئیے لڑکا پیسے لے کر بھاگنے لگا پولیس والے نے لڑکے کو پریشان حالت میں بھاگتے ہوئے دیکھ کر گرفتار کر لیا پیسے ضبط کر لیے لڑکے کے توسط سے پولیس جادو گر تک پہنچ گئے جادوگر نے پولیس کو کہا مار ڈالو میں مرنے والا ہوں مجھے وہ نہیں چھوڑیں گے پولیس نے دونوں کو قاضی کے پاس لے گئے قاضی کو جادوگر نے پوری کہانی سنائی کہ ھم استمداد بالشیاطین کے ذریعے جادو کا عمل کرتے ہیں۔

اور کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس لڑکی پر جب میں نے یہ عمل کیا اور شیطانوں سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس گھر کے حفاظت پر فرشتے مامور تھے پھر میں نے دوسرا عمل کیا تب بھی فرشتے مامور تھے لیکن پہلے سے تعداد میں زیادہ اس کے بعد میں نے رئیس الشیاطین سے مدد لینے کی کوشش کی اس بار جب وہ گھر کے پاس گئے تو وہاں فرشتے کھڑے تھے اس دن کے بعد سے اب مجھے وہ شیطانی گروہ مارنے پر تلے ہیں۔

قاضی حیران ہوا اس نے خطیب صاحب کو بلایا جب امام صاحب تشریف لائے تو انہوں نے پوچھا کیا عمل کرتے ہو کہ فرشتے آپ کے گھر کے حفاظت پر مامور ہیں اس نے پوچھا کیوں کیا ہوا کیونکہ اس کو پتہ بھی نہیں تھا کہ یہاں کیا چل رہا ہے۔

جب انہوں نے امام صاحب کو پوری کہانی سنائی تو خطیب صاحب نے کہا کہ ہمارے گھر میں صبح روزانہ سورۃ بقرۃ کی تلاوت ہوتی ہے اور جس گھر میں سورۃ بقرۃ کی تلاوت ہوتی ہے اس پر جنات اور شیاطین اثر نہیں ہوتا نیک خاندان کی حفاظت کے لیے اللہ پاک ایسے انتظام فرماتا ہے۔


#SindhLawyers..

Monday, May 10, 2021

میدان عرفات 9 ذی الجہ ، 10


 میدان عرفات میں اللّٰہ تعالٰی کے آخری نبی، نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللّٰہﷺ نے 9 ذی الجہ  ، 10 ہجری  کو آخری خطبہ حج دیا تھا آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی ﷺ نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں حضرت محمد رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا۔۔
*۱*۔ اے لوگو!  سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گامیری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ  اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت  اور مال حرمت والے ہیں (تم اس کو چھیڑ نہیں  سکتے )۔
*۳۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللّٰہ سے ملنا ہے، اور اللّٰہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
*٦*۔ اللّٰہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کردو)۔
*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللّٰہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
*۱۱* ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر ، حسب و نسب کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللّٰہ کی نظر میں برابر ہو
 برتری صرف تقوٰی کی وجہ سے ہے۔
*۱۲*۔  یاد رکھو! تم ایک دن اللّٰہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جائے گا میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کرسکیں۔
*پھر آپ نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،
*۱٦*۔ اے اللّٰہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔
*نوٹ*: اللّٰہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو س پیغام کو سنیں/پڑھیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں اور اس کو آگے پھیلانے والے بنیں اللّٰہ ہم سب کو اس دنیا میں نبی رحمت کی محبت اور سنت عطا کرے، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی کے ساتھااکٹھا کرے.
آمین ثم آمین.♥️

x

#SindhLawyers.....

Law about Itself Informatiom


 *یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے۔۔۔*
 
*دفعہ 295-A* کسی مذہب کی توھین کرنا
*دفعہ 295-B* قرآن پاک کی غلط تشریح کرنا
*دفعہ 295-C* توھین رسالت 
*دفعہ 298-A* توھین صحابہ
*دفعہ 307* = قتل کی کوشش کی
 *دفعہ 302* = قتل کی سزا
 *دفعہ 376* = عصمت دری
 *دفعہ 395* = ڈکیتی
 *دفعہ 377* = غیر فطری حرکتیں
 *دفعہ 396* = ڈکیتی کے دوران قتل
 *دفعہ 120* = سازش
 *سیکشن 365* = اغوا
 *دفعہ 201* = ثبوت کا خاتمہ
 *دفعہ 34* = سامان کا ارادہ
 *دفعہ 412* = خوشی منانا
 *دفعہ 378* = چوری
 *دفعہ 141* = غیر قانونی جمع
 *دفعہ 191* = غلط ھدف بندی
 *دفعہ 300* = قتل
 *دفعہ 309* = خودکش کوشش
 *دفعہ 310* = دھوکہ دہی
 *دفعہ 312* = اسقاط حمل
 *دفعہ 351* = حملہ کرنا
 *دفعہ 354* = خواتین کی شرمندگی
 *دفعہ 362* = اغوا
*دفعہ   320*  = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (ناقابلِ ضمانت)
📚
*دفعہ322*   = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
 *دفعہ 415* = چال
 *دفعہ 445* = گھریلو امتیاز
 *دفعہ 494* = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
 *دفعہ 499* = ہتک عزت
 *دفعہ 511* = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
  4
 ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔
  تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
 پانچ دلچسپ حقائق آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
 جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔
 *(1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا* -
 ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل،  پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔  اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔  اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔
 (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔
 عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔  آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔  اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔  اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
(3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں -
  سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔  اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔  آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔
  (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا
 زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔  حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔  اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔  یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
 (5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا
 پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم (6)ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
 یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔

Islam


 وه عالم اسلام کا ایک نایاب اور نامور سلطان تھا۔ وه ان گنت زبانوں پر عبور رکھتا تھا ۔ عربوں سے عربی میں ، منگولوں اور تاتاریوں سے تاتاری میں ، یونانیوں سے یونانی میں، حبشیوں سے ان کی زبان میں اور اس طرح دوسری اقوام سے ان کی زبان میں گفتگو کرنے کی مہارت رکھتا تھا ۔

سلطان بننے سے پہلے وہ جگہ جگہ ایک غلام کی حیثیت سے دھکے کھاتا پھرتا تھا لہذہ اس نے اس دوران میں مختلف زبانیوں میں مہارت حاصل کر لی تھی ۔
وقت کی آنکھ نے اسے کبھی ایک گڈریے کی صورت میں " دشت قپچاق " میں بھیڑ بکریاں چراتے ہوئے دیکھا ، آسمان نے اسے کبھی دمشق شہر میں برده فروشوں کی منڈی میں ایک غلام کی حیثیت سے بکتے دیکھا ، کبھی اس نے دمشق اور مصر کے امراء کی نوکری و چاکری کرتے ہوئے وقت گزارہ اور کبھی رزم گاہ میں ایک صف شکن لشکری کے سنگ میں بھی دیکھا گیا اور کبھی وقت کی تیز آنکھ نے اسے اسلامی لشکر کے سالار اعلی کی حیثیت سے بھی دیکھا ۔
مشہور امریکی مؤرخ ہئیر لڈیم اس کے متعلق لکھتا ہے ۔
اسے اپنے سوا کسی پر اعتبار نہ تھا اس لیے وہ بھیس بدل کر خود گشت لگاتا اور اپنے لیے خود ہی دشمنوں کی مخبری کرتا تھا ۔ وہ اپنے ہم پیالہ ، ہم نوالہ ساتھیوں کو چھوڑ کر تنہا نکل جاتا۔ کبھی اسے مصر میں دیکھا جاتا اور کبھی وہ دوسرے دن فلسطین میں نمودار ہوتا ۔ چار دن بعد لوگ اسے عرب کے ریگزاروں میں دیکھتے اور اس کے چند دن بعد وہ خانہ بدوشوں کی سی تیز رفتاری کسی دوسری جگہ لوگوں کو دکھائی دیتا ۔
جن دنوں وہ عالم اسلام کا سلطان بنا ان دنوں منگولوں نے مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر ان کے بیشتر علاقوں کو تباہ و برباد کر دیا تھا اور ہلاکو خان مسلمانوں کے علاقوں میں دندناتا پھرتا تھا ۔
ایک بار ایک منگول مغنی کے بھیس میں وه اکیلا و تنہا ہلاکو کی سلطنت میں داخل ہوا اور قریہ قریہ چل پھر کہ جاسوسی کرتا رہا ، چونکہ وہ مختلف زبانوں پر عبور رکھتا تھا اور جاسوسی میں بھی مہارت کا حامل تھا اس لیے کسی کو شک نہ ہوا کہ وہ مسلمان ہے یا مسلمانوں کا سلطان ... !
ایک دن اس نے منگولوں کے ایک شہر میں ایک دکان میں کھانا کھایا اور اپنی انگوٹھی جان بوجھ کر ایک محفوظ جگہ پر رکھ آیا ، اس کے بعد وہ اپنے علاقے میں آ گیا اور ایک قاصد بھیج کر ہلاکو خان کو کہلایا۔
              ٫٫ میں تمہاری مملکت میں حالات کا معائنہ کرنے
                 فلاں فلاں جگہ گیا تھا ۔ فلاں شہر میں فلاں
                 دکان پر اپنی شاہی انگوٹھی بھول آیا ہوں
                 مہربانی کر کے وہ انگوٹھی تلاش کر کے مجھے
                 مجھے بھجوا دو کیونکہ وہ انگوٹھی مجھے
                 بے حد عزیز ہے ۔ ،،
ہلاکوں خان مسلمانوں کے سلطان کی اس جرأت اور جسارت پر ششدر رہ گیا اور وه اس کی دلیری سے ایسا مرعوب ہوا کہ اس کی انگوٹھی تلاش کر کے اس کی طرف بھیجوا دی ۔ منگولوں کو جب خبر ہوئی کہ مسلمانوں کا سلطان خود بھیس بدل کر ان کے علاقوں میں داخل ہوا تھا تو ان پر سلطان کی ہمت و شجاعت کی وجہ سے ایک دہشت اور خوف طاری ہو گیا تھا اور وه سوچنے لگے تھے کہ جس سلطنت کا حکمران اس قدر جری و جرأت مند ہو اس کے لشکریوں کا کیا عالم ہوگا اور ہم اس کا مقابلہ کیسے کریں گے ۔
ان دنوں کیونکہ بحیره روم کے ساتھ ساتھ مغرب کے صلیبیوں نے اپنے بڑے بڑے اڈے بنا لیے تھے جہاں سے نکل کر وه مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ کی ابتداء کرتے تھے ۔ ان میں زیاده نامور انطاکیہ کا حاکم بوہمینڈ تھا ۔ سلطان ایک مرتبہ ایک نصرانی زائر کا بھیس بدل کر صلیبیوں کے مقبوضہ علاقوں میں جا داخل ہوا اور کئی ماہ تک ان کے عسکری استحکامات ، قلعوں اور دوسرے کئی مقامات کا جائزہ لیتا رہا۔ وہ تقریباً بائیںس ایسے قلعے دیکھنے میں کامیاب ہو گیا جو ان دنوں صليبيوں کی عسکری قوت کا مرکز تھے اور یہ سارا کام اس نے تن تنہا کیا اور اس کے بعد اس نے ایک عجیب ستم ظریفی کی۔
اس نے ایک قاصد اور ایلچی کا روپ بدلا اور جنگل میں ایک ہرن کا شکار کر کے وہ ہرن لے کر انطاکیہ کے بادشاہ بوہیمینڈ کے دربار میں حاضر ہوا اور اسے وہ شکار پیش کر کے کہنے لگا۔
                ٫٫ عالی جاه ! مجھے مصر کے سلطان " الملک الظاہر "
                   نے بھیجا ہے ، پتا چلا ہے کیونکہ آپ شکار کا بہت
                   شوق رکھتے ہیں اور ان دنوں شکار کے قابل نہیں
                   لٰہذا انہوں نے یہ تازه شکار بطور ہدیہ بھیجا ہے ۔
                   اسے قبول فرمائیے۔ میرے آقا آپ کے شکر گزار
                   ہوں گے ،، ۔
سلطان جب گفتگو کرنے اور شمار بادشاه انطاکیہ کے حوالے کرنے کے بعد وہاں سے نکل گیا تو چند دن بعد انطاکیہ کے بادشاہ پر کسی نے انکشاف کیا کہ جو شخص تمہارے پاس ہرن کا شکار لے کر آیا تھا وہی مسلمانوں کا سلطان تھا۔
اس انکشاف پر نصرانیوں کے بادشاہ بوہیمنڈ پر خوف اور لرزه طاری ہو گیا تھا۔
ایسے ناقابل یقین معرکے سرانجام دینے اور عین الجالوت پر پہلی بار منگولوں کو عبرت ناک شکست دے کر، مسلمانوں پر اپنی دہشت کا سکہ جمانے والے منگولوں کو سربازار گھما کر ذلت و رسوائی عطا کر کے مسلمانوں کے قلوب سے منگولوں کے خوف و دہشت کا غلبہ زائل کرنے والی اس  نادر و نایاب اور جاہ و جلال کی سے مزین  ہستی کا نام " رکن الدین بیبرس " تھا۔
رکن الدین بیبرس منگولوں کی فتوحات اور مسلمانوں پر مظالم ڈھا کر اپنی دہشت کا سکہ جما کر حکومت کرنے والے ہلاکو خان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ ، 
٫٫ وقت آنے پر ہم ان کو بتا دیں گے کہ اللہ کیلئے لڑنے والے کبھی شکست تسلیم نہیں کیا کرتے ،، ۔
اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ سلطان رکن الدین بیبرس اپنے قول و قرار کا کس قدر پاسدار تھا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
باوجود اس کے ، کہ دیگر نامور اسلامی شخصیات کی طرح تاریخ سے اس ذہین و فطین اور دلیر و بے باک ہستی کے نقوش بھی ایک منظم سوچ و سازش کے تحت بڑی سنگ دلی ، مہارت اور عیاری سے ممکنہ حد تک مٹا دئیے گئے لیکن کچھ مدھم نقوش ابھی بھی سلامت ہیں ،
لیکن اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم عشق ، محبت اور شادی بیاہ کی کہانیوں کے دلدادہ ہیں اور جو اصل اثاثہ ہیں ان کو بڑی ہی خود غرضانہ سفاکی سے فراموش کر رکھا ہے ہم نے.....

تحفظ والدین آرڈیننس 2021





 *صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی/آرڈیننس*


صدر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت تحفظ والدین آرڈیننس 2021 جاری کردیا


آرڈیننس کا مقصد بچوں کی جانب سے والدین کو زبردستی گھروں سے نکالنے کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے


آرڈیننس کے تحت والدین کو گھروں سے نکالنا قابل سزا جرم ہوگا


والدین کو گھروں سے نکالنے پر ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی


گھر بچوں کی ملکیت ہونے یا کرائے پر ہونے کی صورت میں بھی بھی والدین کو نہیں نکالا جاسکے گا


گھر والدین کی ملکیت ہونے کی صورت میں والدین کو بچوں کو گھر سے نکالنے کا اختیار ہوگا

وال
ین کے بچوں کو تحریری نوٹس دینے کی صورت میں گھر خالی کرنا لازمی ہوگا

وقت پر گھر خالی نہ کرنے کی صورت میں 30 دن تک جیل، جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا اطلاق ہوگا

بچوں کی جانب سے گھر نہ چھوڑنے کی صورت ضلعی ڈپٹی کمشنر کو کاروائی کا اختیار ہوگا


ضلعی ڈپٹی کمشنر والدین کی جانب سے شکایت پر کاروائی کا مجاز ہوگا


والدین کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر پولیس کو بغیر وارنٹ گرفتاری کا اختیار ہوگا


آرڈیننس کے تحت گرفتار افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا


آرڈیننس کے تحت والدین اور بچوں کو اپیل کا حق حاصل ہوگا


***

Sunday, May 9, 2021





 *پنهنجي عید جي نماز ٹھیک ڪريو ٻين کي ڏسي

 ڪري پنهنجا هٿ مٿي هيٺ ن ڪريو*
: *عیدالفطر جي نماز جو طریقو*👇
  *پهريان نیت ڪريو هن طرح:*
💓 نیت ڪريان ٿو مان ٻ رڪعت نماز عیدالفطر جی،
ساڻ ڇھن تڪبیرون سان،t


منهن ڪعبت الله شریف جي طرف،
واسطي اللہ تعالی جي،
پويان هن پيش امام جي۔
🟢امام تڪبیر چئي ڪري ھٿ ٻڌي ڪري ثنا پڙھندو اسان کي ڀي تڪبیر چئي ڪري ھٿ ٻڌڻا آھن
🟣 ان کان  بعد ٽي زيادا تڪبيریون چوئندو.
1️⃣ پهرين تڪبیر چوئندو هٿ ڪنن تائن آڻي هٿ کولڻا آھن
2️⃣ ائين ٻي تڪبیر چوئندو ھٿ ڪنن تائين آڻي هٿ کولڻا آھن
3️⃣ ان ترھ ٽين تڪبیر چئي ڪري هٿ ڪنن تائين آڻي هٿ ٻڌي ڇڏيو
⚫ ان کان بعد پيش امام قرات ڪندو (یعنی سورہ فاتحہ يان کوئی سورت پڙھندو) ۽ رقوع، سجدو ڪري پھرين رقات مڪمل ٿي وئي۔
 ٻي رقات جي لاءُ اٿي بيهو پيش امام قرائت ڪندو یعني سورہ فاتحہ يان ڪوئي سورت پڙھندو ان کان بعد رڪوع مين وڄڻ کان پهريان ٽي زيادا تڪبيرون ٿينديون
1️⃣ پهريان تڪبیر چئي ڪري هٿ ڪنن تائين کڻي ڪري هٿ کولي ڇڏيو
2️⃣ ٻي تڪبیر پيش امام چوئندو هٿ ڪنن تائين کڻي ڪري هٿ کولي ڇڏڻا آھن
3️⃣ ٽين تڪبیر پيش امام چوئندو ھٿ ڪنن تائين کڻي ڪري هٿ کولي ڇڏڻا آھن
ايتري تائن تڪبيرون مڪمل ٿي ويون.
🌹»» هاڻي ان کان پوئي بغیر ھٿ کڻڻ جي پيش امام تڪبیر چوئندو پوئي رڪوع مین ويندائون.
🌹»» پوئي بس اگتي نماز ٻين نمازن وانگر پڙھي ڪري سلام وائڻو پوئندو.
 *اللہ پاک عمل ڪرڻ جي توفیق عطا فرمائي آمين*
*دعا جو طلبگار*




جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ

  جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معم...