Wednesday, June 30, 2021

Johar Town Blast Peter Paul David

 پیٹر پال اینتھنی ڈیوڈ کا تعلق محمود آباد کراچی سے ہے یہ محمود آباد گلی نمبر 21 کا رہائشی تھا- یہ پچھلے 20 سال سے روزگار کے سلسلے میں بحرین میں ہوا کرتا تھا اور بحرین میں یہ سکریپ کا کام کیا کرتا تھا- کرونا کی وجہ سے بحرین میں اس کا کام ٹھپ ہوگیا تو یہ پاکستان میں واپس آگیا اور یہاں آکر یہ ہوٹلنگ کے بزنس کے وابستہ ہوگیا-
ہوٹلنگ کے بزنس کا یہ مطلب نہیں کہ ہوٹلنگ کا کاروبار شروع کیا بلکہ اس کا مطلب ہے کہ اس نے ہوٹلز میں یا مختلف پارٹیز میں ڈلیوری کا کام شروع کردیا- یہاں اس کی ملاقات ایک "کرن" نامی خاتون سے ہوئی- اور پیٹر جب بھی لاہور آتا تو کرن کے ساتھ ہوٹل میں سٹے کرتا- اور شائد یہ ہوٹل بھی اسی کا تھا- لیکن یہ فی الحال کنفرم نہیں- 
پیٹر کسی کام کے سلسلے میں دبئی گیا جہاں اس سے پہلی دفعہ "راء" کے کچھ آفیشلز سے رابطہ کیا گیا جنہوں نے پیٹر کو ان کے لیئے کام کرنے کے بدلے اچھی خاصی رقم کی آفر کی جس کو سن کر پیٹر نے ان کے ساتھ کام کرنے کی حامی بھرلی- اور پہلا کام پیٹر کے ذمے "حافظ س عید" کے گھر کے راستے میں بم دھماکہ کرنے کا سونپا- اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حافظ صاحب تو جیل میں ہیں تو پھر--ان کے بارے میں آج سے 6 مہینے پہلے ایک افواہ مشہور ہوئی تھی کہ حافظ صاحب گرفتار نہیں بلکہ آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں 
یہ افواہ شائد راء نے بھی سن لی تھی چنانچہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس والے دن حافظ صاحب کو نشانہ بنا کر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کا پلان بنایا گیا اور اس کے لیئے ساری منصوبہ سازی دبئی میں ہوئی- اور اس پلان کو بنانے والا سمیع اللہ نامی شخص تھا جس نے دبئی میں یہ پلان تیار کیا- اور یہی سمیع اللہ نامی شخص بم دھماکے والے دن پیٹرپال اینتھنی ڈیوڈ سے رابطے میں تھا-
اس بم دھماکے کو بڑی باریکی سے پلان کیا گیا-اس دھماکے میں جو گاڑی استعمال ہوئی اس کو اوپن لیٹر پر حافظ آباد سے خریدا گیا- اور یہ گاڑی ماضی میں چوری ہوچکی تھی جس کی ڈیٹیل میں پہلے شیئر کرچکا ہوں- چنانچہ اس گاڑی کو پیٹر پال ڈیوڈ نے اپنے دوست سجاد حسین کو دیا اور اس کو مردان لیجانے کو کہا- سجاد حسین پیٹر کا 10 سال پرانا دوست تھا- جس کو پیٹر نے اپنے اس پلان میں شامل کیا- اور اس کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے تھا
سجاد اور کرن دونوں اس گاڑی کو گوجرانوالہ سے مردان لیکر گئے- اور مردان میں ایک کار مکینک جس کا نام ضیاء خان تھا سے کار میں بم فٹ کروایا- اور اس کار کی ڈگی کو لاک کروادیا- اس کار کی ڈگی کو لاک کروانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر رستے میں کہیں چیکنگ ہوبھی جائے تو پولیس سے یہ ڈگی کھلے نا اور شک کا فائدہ فائدہ مل جائے کہ شائد کار کی ڈگی لاک ہوگئی ہے- 
چنانچہ ایسا ہی ہوا-- کرن اور سجاد لاہور میں بابو صابو کے رستے اینٹر ہوئے ان کی گاڑی سلو ہوئی لیکن آگے کرن یعنی خاتون کے بیٹھے ہونے کی وجہ سے گاڑی کو اشارہ کرکے آگے جانے دیا گیا- اس کے بعد یہاں اینٹری ہوتی ہے ایک اور شخص جس کا نام عید گل تھا- یہ وہ شخص تھا جس نے گاڑی کو مطلوبہ جگہ پر پارک کرکے آنا تھا- 
چنانچہ عید گل صاحب نے گاڑی کو کینال روڈ سے ڈاکٹرز ہاسپٹل، اور پھر جناح ہاسپٹل سے ہوتا ہوا جوہر ٹاؤن مطلوبہ مقام تک پہنچا اور گاڑی کو پارک کرکے یہ شخص پشاور والی گاڑی میں بیٹھ کر موٹروے پر روانہ ہوگیا- دھماکہ ہوا اور دھماکے کے بعد ہماری ایجنسیاں سر جوڑ کر بیٹھی- یہ پلاننگ اتنی شاندار تھی کہ اس کا کریک ہونا بہت ہی مشکل تھا- 
لیکن کہتے ہیں ٹیکنالوجی بندے کے لیئے جتنی فائدہ مند ہے اتنی ہی بندے کو مروانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے چنانچہ جیو فینسنگ اور ڈمب ڈیٹا کی مدد سے سب سے پہلے ایجنسیوں کے ہاتھ جو بندہ لگا وہ اس بم دھماکے کا پاکستان میں ماسٹر مائینڈ تھا- اور وہ تھا پیٹر پال ڈیوڈ- جس کے بعد کراچی سے اس کے سالے، اور بیٹے کو اٹھایا گیا- اس کے بعد حافظ آباد سے اس گاڑی بیچنے والے بندے کو اٹھایا گیا- اس کے بعد کرن گرفتار ہوئی-، پھر سجاد حسین منڈی بہاؤالدین سے گرفتار ہوا-- سجاد حسین کے بعد ضیاء خان مردان سے گرفتار ہوا-- 
اور آخر میں اس گیم میں سب سے اہم کردار عید گل کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا- اور یون صرف 4 دن کے اندر اندر سارے کا سارا کیس کریک کرکے رکھ دیا اس کیس میں یہ ملزمین دبئی سے سمیع اللہ نامی بندے سے ٹچ میں تھے اور سمیع اللہ ان کو مسلسل فون پر ہدایت دے رہا تھا- اور ان کو ہینڈل کررہا تھا- پیٹر پال کا یہ پہلا کام تھا اور اس کا پولیس کے پاس کسی قسم کا کریمینل ریکارڈ نہیں تھا- ایسے بندے جن کا پولیس کے پاس کسی قسم کا کریمنل ریکارڈ نہیں ہوتا ان کو پکڑنا یا ان کا سراغ لگانا دنیا کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے یہی وجہ ہے آپ نے دیکھا ہوگا سیریل کلر کو پکڑنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کا پولیس کے پاس ریکارڈ نہیں ہوتا-
اب اس کے آگے پاکستانی وزارت خارجہ کا کام ہے کہ وہ ان ثبوتوں کو اقوام متحدہ میں رکھے، ہنندوستان کے خلاف آواز اٹھائے اور یو اے ای کی سرزمین جو کہ پاکستان میں اس دہشت گردی کے کام کے لئے استعمال ہوئی اس پر آواز اٹھائے- اس سے پہلے کہ یہاں یو اے ای کے پاکستان میں موجود چمچوں کو دندل پڑیں ان کو چاہئے اس دفعہ غیرت کا مظاہرہ کرکے پاکستان کا ساتھ دیجیے گا اور جیسے ایران کی دفعہ بھڑکیں مارتے ہیں ویسے ہی یو ای اے کی دفعہ بھی غیرت دکھایے گا- 
کیونکہ ہمارے لیئے سب سے پہلے پاکستان ہے--

*غزوہ ہند کے سالار*
JOHAR TOWN BLAST

x

Monday, June 28, 2021

Public Interest Litigation in Supreme Court of Pakistan


 Article 184(3) of the Constitution of Pakistan 1973 provides the concept of protection of Fundamental Rights through the use of Article 199 of the Constitution. Hence, the Supreme Court of Pakistan can pre-empt the jurisdiction of High Courts under Art.199 whenever “a question of public importance with reference to the enforcement of any of the Fundamental Rights conferred by Chapter I of Part II is involved.” The power of Art.184(3) is “original jurisdiction” of the Supreme Court to enforce fundamental rights. We will also find words “human rights” used by the Supreme Court in its judgments given under the caption “Human Rights Cases” while they have not been mentioned anywhere in 1973 Constitution. It is the combined effect of the provisions of Art.184(3) and Art.199 that help us to understand as to what might be the human rights to be enforced. “Human Rights” is a general term while the term “Fundamental Rights” is specific one and is used in the Constitution as a practical term defining and limiting the exact meanings of various rights provided to all those who are citizens of Pakistan. However, certain Fundamental Rights are provided to everyone who is within the territorial jurisdiction of Pakistan, whether citizen or not, at any given time period. This thesis will study various aspects of the powers of Supreme Court under Art.184(3) of the Constitution along with allied matters.

Case Laws.

  1. under its suo motu jurisdiction of Article 184(3) in To Visit "State v. Zubair". 610 It 604 PLD 2001 SC 607
  2. Suo Motu Case: In re, p. 2001 - 1041
  3. Case Suo Motu

    re, PLD 2001 SC 1041
  4. Case Suo Motu

    re, PLD 2001 SC 1041.



    CHECKOUT
    https://papers.ssrn.com/sol3/papers.cfm?abstract_id=1984583

Tuesday, May 11, 2021

SC says pre-arrest bail in cognisable offences extraordinary remedy.


 The Supreme Court has reiterated that pre-arrest bail in a cognisable or non-bailable offence is an extraordinary remedy, extended for the sole purpose of protecting reputation and honour of an innocent citizen being hounded through abuse of process of law for sinister purposes.

This judicial protection is based on equity and cannot be extended in every run-of-the-mill criminal case founded upon incriminatory evidence, warranting custody for investigative purposes, observed Justice Qazi Muhammad Amin Ahmed in a judgement he wrote.
Justice Ahmed was a member of the three-judge bench that had taken up an appeal moved by Maqbool Ahmed Mahessar, Hafiz Suhail Ahmed, Muhammad Pariyal Solangi and Nasrullah against the National Accountability Bureau (NAB). The appeal had sought to challenge different Sindh High Court (SHC) orders of March 2021.
Through separate orders the Sukkur bench of the SHC had allowed pre- as well as post-arrest bails in different NAB references but subject to deposit of amounts allegedly embezzled by the petitioners at the cost of public exchequer.
Facility should be extended only for protecting an innocent person being hounded through abuse of process, says judgement
On Nov 29, 2019 as well, Justice Ahmed, while deciding a number of appeals against the SHC orders, had held that a pre-arrest bail, being rooted in equity, was an extraordinary remedy and should be exercised cautiously only to protect innocent persons from the horrors of abuse of process of law.
Referring to the present case, Justice Ahmed cited the Tallat Ishaq versus NAB case of 2019 and observed that directives for the release of an accused on bail have since been held against the law.
An accused seeking bail desires transfer of his custody from the jail, whose superintendent undertakes his production as and when required by the court. But for that, he has to make out a case in accordance with the applicable law and cannot be allowed or required to barter his freedom, the judgement explained.
Justice Ahmed observed that in the case at hand, considerations for grant of post-arrest bail to an accused facing charges under the NAB Ordinance had clearly been illustrated. Therefore, the accused facing indictment in a NAB reference had to qualify as per the parameters set down in different cases.
“There is no other way out,” the judgement said and added that grant of pre-arrest bail in a cognisable or non-bailable offence is a remedy that’s extraordinary in the nature of judicial protection.
Such a facility is extended by diverting usual course of law for the sole purpose of protecting reputation and honour of an innocent citizen being hounded for sinister and oblique purposes.
The protection was devised in 1949 by Hidayatullah Khan and the principles laid down therein are being faithfully followed till date, Justice Ahmed said in his order, adding the high court’s orders, being inconsistent, could not be sustained.
Thus the petitions are converted into appeals and allowed, high court orders are set aside and the bail petitions filed by the appellants before the high court would be deemed as pending for fresh decision, the judgement said.
The petitioners, meanwhile, would remain on ad-interim bail upon furnishing bonds in the sum of Rs500,000 with one surety each in the like amount to the satisfaction of deputy registrar (judicial) of the Sukkur bench of the SHC before end of third week of the present month, the order said.
The petitioners would appear before the high court on a date notified by the SHC office and the case would be decided on its merits.
In the 2019 Tallat Ishaq case, Justice Asif Saeed Khosa had regretted that the original intention behind introduction of Section 9(b) of the NAB Ordinance, of ousting jurisdiction of the courts regarding grant of bail in cases, stood neutralised by opening the door for bail through exercise of constitutional jurisdiction of a high court.
Resultantly, the entire burden was being shouldered by the high courts, which was a huge and an unnecessary drain on their precious time, Justice Khosa had held.
Justice Khosa had also suggested to the legislature to consider amending the ordinance appropriately to enable an accused person to apply for his bail to the relevant accountability court in the first instance, rather than coming directly to the high court.


Such a Lesson


 *ایک جامع مسجد کے خطیب کی ایک خوبصورت بیٹھی تھی*

ایک جامع مسجد کے خطیب کی ایک خوبصورت بیٹھی تھی جو جامعہ میں پڑھتی تھی ایک دن وہ جامعہ سے واپس گھر آئی گاڑی سے اترتے وقت ایک لڑکے نے اس کا چہرہ دیکھ لیا لڑکی بہت حسینہ و جمیلہ تھی لڑکے کو پسند آئی اس نے پتہ کیا لڑکی خطیب صاحب کی بیٹی تھی لڑکے نے اسی دن سے صف اول میں نماز پڑھنے کا اہتمام شروع کیا اذان سنتے ہی وہ مسجد کے دروازے پر پہنچ جاتا نماز تک تلاوت قرآن میں مشغول رہتا تھا چھ سات مہینے تک وہ اسی معمولات کا پابند رہا اسکے بعد اس نے والد سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا والد نے کہا ٹھیک ہے دیکھ لیں گے مناسب رشتہ اس نے کہا کہ لڑکی میں نے دیکھ لی ہے والد کے پوچھنے پر اس نے خطیب صاحب کی بیٹی کے بارے میں بتایا اس نے کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے امام صاحب سے ملتے ہیں عمائدین محلہ کے ساتھ امام صاحب کے خدمت میں حاضر ہوئے امام نے لڑکے کے بارے میں پو چھا انہوں اسی لڑکے کے طرف اشارہ کیا خطیب نے لڑکے کی دین داری کو دیکھ رشتہ لڑکی سے مشورہ کرنے اور رضا مندی ظاہر کرنے پر قبول کیا۔

چنانچہ رشتہ طے ہوا چھ سات ماہ بعد شادی ہوئی شادی کے کچھ عرصہ بعد لڑکے نے نماز پڑھنے میں سستی شروع کی ایک دو ماہ بعد لڑکے نے ڈاڑھی کاٹ دی گھر آنے پر لڑکی نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اس نے کہا کہ یہ نمازیں تو میں تمہیں حاصل کرنے کے لیے پڑھ رہا تھا اب مقصد حاصل ہو چکا ہے اب کیا ضرورت ، لڑکی یہ سن کر بہت افسردہ خاطر ہوئی اور جا کر والد صاحب سے کہا کہ اس بے دین کے ساتھ ایک دن نہیں رہنا چاہتی یہ معاملہ محکمہ عدل تک پہنچ گیا قاضی نے دونوں میں تفریق کا فیصلہ کیا۔ لڑکا بہت پریشان ہوا اس نے بہت کوشش کی لیکن لڑکی کو دوبارہ نہ پا سکا لڑکے نے ایک جادوگر سے مدد حاصل کر نے کا فیصلہ کیا جادوگر نے بڑے رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا لڑکے نے سارے پیسے پیشگی ادا کیے کچھ دن گزرنے کے بعد جادوگرنے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا لڑکے نے فی الفور وہ بھی ادا کیے اور کہا کہ کام ہو جا نا چاہیے پیسوں کا فکر نہ کریں۔

ایک ماہ کے بعد جادو گر نے لڑکے کو بتایا آجاؤ اپنے پیسے لے جا تمہارا کام کسی صورت میں ممکن نہیں ہے جب وہ لڑکا جادوگر کے کمرے میں پہنچا تو جادوگر ایک بڑا چاقو ہاتھ میں لیے کھڑا ہے لڑکے نے حیرت زدہ انداز میں پو چھا یہ کیا کر رہے ہو جادوگر نے کہا مجھے قتل کر دو ورنہ دو قتل کر دئیے جائیں گے لڑکے نے کہا میں یہ نہیں کر سکتا لہٰذا میرے پیسے دے دو اس نے پیسے دئیے لڑکا پیسے لے کر بھاگنے لگا پولیس والے نے لڑکے کو پریشان حالت میں بھاگتے ہوئے دیکھ کر گرفتار کر لیا پیسے ضبط کر لیے لڑکے کے توسط سے پولیس جادو گر تک پہنچ گئے جادوگر نے پولیس کو کہا مار ڈالو میں مرنے والا ہوں مجھے وہ نہیں چھوڑیں گے پولیس نے دونوں کو قاضی کے پاس لے گئے قاضی کو جادوگر نے پوری کہانی سنائی کہ ھم استمداد بالشیاطین کے ذریعے جادو کا عمل کرتے ہیں۔

اور کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس لڑکی پر جب میں نے یہ عمل کیا اور شیطانوں سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس گھر کے حفاظت پر فرشتے مامور تھے پھر میں نے دوسرا عمل کیا تب بھی فرشتے مامور تھے لیکن پہلے سے تعداد میں زیادہ اس کے بعد میں نے رئیس الشیاطین سے مدد لینے کی کوشش کی اس بار جب وہ گھر کے پاس گئے تو وہاں فرشتے کھڑے تھے اس دن کے بعد سے اب مجھے وہ شیطانی گروہ مارنے پر تلے ہیں۔

قاضی حیران ہوا اس نے خطیب صاحب کو بلایا جب امام صاحب تشریف لائے تو انہوں نے پوچھا کیا عمل کرتے ہو کہ فرشتے آپ کے گھر کے حفاظت پر مامور ہیں اس نے پوچھا کیوں کیا ہوا کیونکہ اس کو پتہ بھی نہیں تھا کہ یہاں کیا چل رہا ہے۔

جب انہوں نے امام صاحب کو پوری کہانی سنائی تو خطیب صاحب نے کہا کہ ہمارے گھر میں صبح روزانہ سورۃ بقرۃ کی تلاوت ہوتی ہے اور جس گھر میں سورۃ بقرۃ کی تلاوت ہوتی ہے اس پر جنات اور شیاطین اثر نہیں ہوتا نیک خاندان کی حفاظت کے لیے اللہ پاک ایسے انتظام فرماتا ہے۔


#SindhLawyers..

Monday, May 10, 2021

میدان عرفات 9 ذی الجہ ، 10


 میدان عرفات میں اللّٰہ تعالٰی کے آخری نبی، نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللّٰہﷺ نے 9 ذی الجہ  ، 10 ہجری  کو آخری خطبہ حج دیا تھا آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی ﷺ نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں حضرت محمد رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا۔۔
*۱*۔ اے لوگو!  سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گامیری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ  اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت  اور مال حرمت والے ہیں (تم اس کو چھیڑ نہیں  سکتے )۔
*۳۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللّٰہ سے ملنا ہے، اور اللّٰہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
*٦*۔ اللّٰہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کردو)۔
*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللّٰہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
*۱۱* ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر ، حسب و نسب کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللّٰہ کی نظر میں برابر ہو
 برتری صرف تقوٰی کی وجہ سے ہے۔
*۱۲*۔  یاد رکھو! تم ایک دن اللّٰہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جائے گا میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کرسکیں۔
*پھر آپ نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،
*۱٦*۔ اے اللّٰہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔
*نوٹ*: اللّٰہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو س پیغام کو سنیں/پڑھیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں اور اس کو آگے پھیلانے والے بنیں اللّٰہ ہم سب کو اس دنیا میں نبی رحمت کی محبت اور سنت عطا کرے، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی کے ساتھااکٹھا کرے.
آمین ثم آمین.♥️

x

#SindhLawyers.....

Law about Itself Informatiom


 *یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے۔۔۔*
 
*دفعہ 295-A* کسی مذہب کی توھین کرنا
*دفعہ 295-B* قرآن پاک کی غلط تشریح کرنا
*دفعہ 295-C* توھین رسالت 
*دفعہ 298-A* توھین صحابہ
*دفعہ 307* = قتل کی کوشش کی
 *دفعہ 302* = قتل کی سزا
 *دفعہ 376* = عصمت دری
 *دفعہ 395* = ڈکیتی
 *دفعہ 377* = غیر فطری حرکتیں
 *دفعہ 396* = ڈکیتی کے دوران قتل
 *دفعہ 120* = سازش
 *سیکشن 365* = اغوا
 *دفعہ 201* = ثبوت کا خاتمہ
 *دفعہ 34* = سامان کا ارادہ
 *دفعہ 412* = خوشی منانا
 *دفعہ 378* = چوری
 *دفعہ 141* = غیر قانونی جمع
 *دفعہ 191* = غلط ھدف بندی
 *دفعہ 300* = قتل
 *دفعہ 309* = خودکش کوشش
 *دفعہ 310* = دھوکہ دہی
 *دفعہ 312* = اسقاط حمل
 *دفعہ 351* = حملہ کرنا
 *دفعہ 354* = خواتین کی شرمندگی
 *دفعہ 362* = اغوا
*دفعہ   320*  = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (ناقابلِ ضمانت)
📚
*دفعہ322*   = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
 *دفعہ 415* = چال
 *دفعہ 445* = گھریلو امتیاز
 *دفعہ 494* = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
 *دفعہ 499* = ہتک عزت
 *دفعہ 511* = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
  4
 ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔
  تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
 پانچ دلچسپ حقائق آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
 جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔
 *(1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا* -
 ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل،  پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔  اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔  اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔
 (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔
 عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔  آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔  اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔  اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
(3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں -
  سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔  اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔  آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔
  (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا
 زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔  حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔  اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔  یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
 (5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا
 پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم (6)ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
 یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔

جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ

  جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معم...