____انسان کیا ہے۔؟۔اور کیا کر رہا ہے____
بحیثیت اشرف المخلوقات،بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان مجھے اپنے کردار پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اس دنیا میں،میں کیوں آیا ہوں،دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے اس مقصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہمارے مذہب اسلام میں مسلمان کو مومن(مرد و عورت)سے تشبیع دی گئی ہے اور مومن اس کو کہتے ہیں جو اللہ کی طرف سے دی گئ،ہر مشکلات و سختی کو صبر و تحمل سے برداشت کرتا ہے اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔اللہ تعالی نے ہماری زندگی کو دو زاویوں میں تقسیم کیا ہے ایک زاویے میں آسانیاں دی ہیں اور ایک زاویے میں مشکلات دی ہیں۔ان دونوں زاویوں میں اللہ مومن سے امتحان لے رہا ہے۔
ایک کو دے کر اور ایک کو نا دے کر،یہ میرے اللہ کی تقسیم ہے اور اللہ کی تقسیم پر مومن ہر حال میں خوش رہتا ہے۔ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں اور کچھ لوگ بڑے بڑے بنگلوں بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر زندگی کا لطف دوبالا کر رہے ہیں۔یہاں پر زندگی مزید تقسیم میں چلی جاتی ہے اور مختلف زاویوں میں انسان بٹ جاتے ہیں۔کیونکہ اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔یعنی اپنا نائب،،،سوچ دی ہے۔اچھے برے میں تمیز دی ہے اور سب سے بڑھ کر اللہ نے کچھ چیزیں انسان کے دائرہ اختیار میں دی ہیں۔مگر ان اختیارات کی کچھ حدو و قیود مقرر کردی ہیں۔اگر انسان اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود سے باہر نکل کر اپنے اختیارات استعمال کرے گا تو وہ اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرے گا اور جو مومن اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرے گا،تو پھر وہ مومن نہیں رہتا،
میرے معزز ناظرین آپ کو یہ سب کچھ سمجھانے کا ایک مقصد ہے۔مقصدکیا ہے کہ ہم دنیا میں ایک مختصر سی زندگی لے کر آئے ہیں۔اور اس زندگی میں ہم نے بہت کچھ پانا ہے اور بہت کھونا ہے۔بادشاہ بھی بننا ہے گدھا بھی بننا ہے۔ظالم بھی بننا ہے مظلوم بھی بننا ہے یہ آپ کو بھی نہیں پتہ کہ آپ نے کیا کچھ بننا ہے۔لیکن زندگی کا نقطہ ایک ہی ہے بس۔۔۔۔۔۔کہ
خودی کو تو کر بلند اتنا کہ خدا بندے سے پوچھے بول تیری رضا کیا ہے۔۔۔۔
معزز ناظرین۔اب میں معرفت سے ہٹ کر سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کرنے لگا ہوں۔کیونکہ معرفت ایک سمندر ہے جس کا دوسرا کنارہ ہمارے سوچ سے بھی دور ہے۔خیر اب میں دنیا داروں میں رہے کر اور دنیادار بن کر بات کرونگا،جس میں کچھ لوگوں کو تکلیف ہوگی اور کچھ لوگ انجوائے کریں گے۔۔کیونکہ کہ یہ ہمارا ایک فطری عمل ہے۔کیونکہ جس نقطہ پر ہماری سوچ ایڈجیسمنٹ کر لیتی ہے۔وہ ہمارے لئے باعث مسرت ہے اور جس نقطہ پر ایڈجیسمنٹ نہیں کرتی وہ ہمارے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔بہرحال یہ ہر آدمی کا اپنا طرز سوچ ہے۔کیونکہ سوچ میں مفادات کا تعلق بہت گہرا ہوتا ہے یہ الگ بحث ہے کہ آپ کے مفادات کس نوعیت کے ہیں۔
معزز ناظرین کافی دن سے میں سوشل میڈیا،ٹیوٹر نیوز اور اپنے اردگرد مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا بحث و مباحثہ سن رہا ہوں،اور ان کی طرز سوچ کا بھی جائزہ لے رہا ہوں۔اس سارے بحث و مباحثہ سے جو چیز میں نے اخذ کی ہے۔۔۔وہ یہ کہ ہمیں ہمیں اپنے ملک کا حکومتی نظام عدالتی نظام اور بیوروکریسی نظام کو ختم کرکے ،عوامی نظام نافزالعمل کردیا جائے۔کیونکہ ہمارے ملک میں ہر دوسرا انسان وکیل بھی ہے اور جج بھی ہے۔مختلف دکانوں،چوراہوں،بیٹھکوں اور دفاتر میں بیٹھ کر ہمارے ملک کے ذہین لوگ فیصلہ سازی کے ساتھ ساتھ حتمی فیصلے بھی ایک دوسرے پر صادر کر رہے ہیں ہمارے ملک میں ہر دوسرا انسان معیشیت دان بھی ہے تو پھر کیوں ہم بھاری بھرکم تنخوائیں دے کر باہر سے معیشیت دان منگوا رہے ہیں،ماشاءاللہ ہمارے ملک کی عوام اتنی ذہین ہے کہ ایک گھنٹے میں معیشیت کو ناکام بھی کر رہی ہے اور پورا قرض بھی اتار رہی ہے
یقین کریں میرا بس میں ہوتا تو میں ایک ایک پاکستانی کو ذہانت ایوارڈ سے نوازتا،
گوروں کی ایسی کی تیسی کہ وہ ہمارے ملک اسلامی مملکت پاکستان کی غیور عوام کا مقابلہ کرسکیں۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہم اپنے گھر کا بجٹ تشکیل نہیں دے پاتے۔۔مگر ملکی معاملات کو حل کرنے میں ہم الحمد للہ بہت ماہر ہیں۔۔۔۔ہم پاکستانیوں میں ایک اور خوبی بھی سب ملکوں کے باشندوں سے ہٹ کر ہے،وہ خوبی کیا ہے کہ ہم جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ میں بدلنے کی تو پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ۔۔۔ماشاءاللہ ہماری اس مہارت سے تو گورے کوسوں دور ہیں۔سنی سنائی باتوں کو پھیلانا ان کو سن کر ان کو سنا کر ہمیں تسکین دل حاصل ہوتی ہے۔بھاڑ میں جائے تحقیق اتنا تو ہم پاکستانیوں کے پاس ٹائم ہی نہیں ہے۔۔۔
ہم پاکستانی شیردل لوگ چور اچکوں،کرپشن زدہ اور بھگوڑیوں کو اپنا لیڈر ماننے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ہمیں کیا ضرورت ہے،اچھے لوگوں کے پیچھے بھاگیں۔۔ اس سے ہمیں کیا فائدہ ایسے لوگ تو ریاست کو فائدہ دیتے ہیں۔اور ریاست سے زیادہ ہمیں سیاست عزیز ہے۔ریاست نے ہمیں کیا دیا ہے۔۔۔؟۔
ریاست کے دشمن ہم پاکستانی عوام کے دوست،اداروں پر ہم حملے کرنے سے زرہ بھی نہیں گبھراتے بلکہ فخر محسوس کرتے ہیں۔اربوں کی کرپشن کرنے والوں پر پھول پھیکنا ہمارے لئے اعزاز ہے۔ضمیر نام کی چیز سے تو ہم واقف ہی نہیں ہیں۔ہماری عزت و نفس یہاں تک کہ پوری دنیا میں ریاست کی جگ ہنسائی ہو۔ ہمیں غرض نہیں۔۔بس ہماری جیب بھر جائے۔
کرپشن سے ہمارا__یارانہ ہے۔
چوروں کو ہم نے چھڑانا ہے۔
نیازی۔شریف زرداری کی اولادوں کو لانا ہے۔
ان کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھانا ہے۔
ملک کے سکیورٹی اداروں کو دنیا میں بدنام کروانا ہے۔
ہم نے ساری زندگی ایسے ہی کیڑے مکوڑوں کی طرح رہنا ہے۔
ہمیں ریاست سے کیا غرض،ہم نے جاہلانا رویہ اپنانا ہے۔
کیونکہ ہماری سوچ ایک غلامانہ ہے۔۔۔۔
اللہ تعالی ہمارے ملک کی عوام کو عقل تسلیم دے۔۔۔ آمین
#SindhLawyers.
#Tanoli_Law_Associates.
#Karachi....

No comments:
Post a Comment