Monday, June 13, 2022

جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ

 



جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ


گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معمولی جھگڑے کے دوران فائرنگ کرکے نوجوان طالب علم کے قتل میں ملوث ملزم انشال کو گرفتار کرلیا ہے۔
مرکزی ملزم عرفان اور اس کا بھائی احسان مفرور ہیں جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
24 اور 25 مئی کی درمیانی شب سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں جھگڑے کے دوران ایک نوجوان طالب علم جزلان ولد فیصل کو گولی مار کر ہلاک اور اس کا دوست شاہ میر ولد نعمان زخمی ہوگیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے ایک ملزم حسنین کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
بعد ازاں پولیس نے حسنین کے والد فیض کو بھی گرفتار کرلیا۔
مرکزی ملزم عرفان اپنے ساتھیوں انشال اور احسان سمیت فرار ہو گیا تھا۔
کراچی میں معمولی تنازع پر قتل ہونے والے جزلان کے ورثاء نے تفتیشی پولیس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
ورثاء نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔ ورثاء نے سیکریٹری داخلہ سندھ سے ملاقات میں الزام لگایا کہ تفتیشی پولیس کے اہلکار قتل کیس میں ملزمان کی حمایت کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مقدمے میں عرفان فیض، حسنین فیض اور انشال سمیت ملزمان پہلے ہی گرفتار ہیں جب کہ احسن ولد فیض خان نامی ملزم تاحال مفرور ہے۔
کراچی کے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں 17 سالہ یتیم جزلان اپنی عمر کے کچھ لڑکوں کو بائیک چلانے سے روکنے پر ہلاک ہو گیا۔
پولیس کے مطابق جزلان اپنی گاڑی چلا رہا تھا جب ایک نوجوان ملزم حسنین اپنے دوست کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر سوسائٹی میں ’زیگ زیگ‘ انداز میں جا رہا تھا جس کے بعد حسنین نے اپنے بڑے بھائی اور کچھ دیگر دوستوں کو بلایا، جنہوں نے آ کر جزلان پر فائرنگ کر دی۔ .

پاکستان کے آئین کے حوالے سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تناظر میں مذہبی آزادی کے حق کی توہین کی قانونی حیثیت



پاکستان کے آئین کے حوالے سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تناظر میں مذہبی آزادی کے حق کی توہین کی قانونی حیثیت


پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 20 کے مطابق، مذہب کی آزادی کا اصول ایک قابل تحقیر حق ہے، جسے قومی حکومت اعلان کردہ عوامی ایمرجنسی کے دوران معطل کر سکتی ہے۔
ایک عوامی ہنگامی صورتحال ایسی صورت حال کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں ملک کی سلامتی کو، مکمل یا جزوی طور پر، جنگ، بیرونی جارحیت یا کسی اندرونی خلفشار سے خطرہ لاحق ہو جس پر قابو پانے کے لیے صوبائی یا وفاقی حکومت کی "طاقت سے باہر" ہو۔
ہنگامی صورتحال کی نشاندہی کرنے والے دو اہم عناصر قومی سطح پر ہیں اور یہ حقیقت کہ خطرہ پہلے سے موجود ہے یا پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 20 یہ فراہم کرتا ہے کہ مذہب کی آزادی قانون، امن عامہ اور اخلاقیات سے مشروط ہے۔ آئین میں امن عامہ اور عوامی اخلاقیات کی خاص طور پر تعریف نہیں کی گئی ہے لیکن پابندیوں کی درخواست کی گئی ہے کہ وہ قانون کے ذریعے اور عوامی مفاد میں معقول حد تک لگائی جائیں۔
 مزید برآں، پابندیاں انسانی حقوق کی دیگر دفعات کے تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ ہونی چاہئیں
حد بندی کی شق کے معیار کے مطابق ریاست ایک موضوعی انداز میں قائم کر سکتی ہے (مثال کے طور پر مقامی ثقافت کے مطابق) "دباؤ دینے والی سماجی ضرورت" کیا ہے، اور "عوامی اخلاقیات" کی حفاظت کیا ہے، لہذا ایسی صورت میں مخصوص حق کی کوئی معروضی خلاف ورزی نہیں۔ طویل عرصے سے مذہبی آزادی پر پابندیاں متعلقہ حق کے تحفظات کی نفی کرتی ہیں۔

#TanoliLawAssociates
@SindhLawyers

Sunday, June 12, 2022

پاکستان میں مذہب کے مواقع کا حق



                                                     پاکستان میں مذہب کے مواقع کا حق


پاکستان میں، مذہب، عمل، اور یقین کے مواقع کے معیارات کو سمجھا جاتا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 20 ہر باشندے میں اس عمل کو محفوظ رکھے گا اور اس کے مذہب کو جنم دے گا اور ہر سخت زمرہ اور اس کی ہر تنظیم کو ترتیب دینے کا استحقاق محفوظ رکھا جائے گا، اس کے سخت اداروں کے ساتھ رہیں اور ان سے نمٹیں۔

کچھ "قابل ذکر" حالات میں قانون یا عوامی درخواست کی وجوہات اور اخلاقیات آرٹیکل 20 کی تذلیل کر سکتی ہیں۔ فرضی طور پر، آئین کے ذریعہ اقلیتوں کو اپنے مذہب یا اعتقاد کا اعلان کرنے اور اس کی مشق کرنے کی اجازت ہے۔

 اس کے باوجود، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کی پیچیدہ اور بعض اوقات کھردری تاریخ نے آئین کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ اسے دو بار 1958 اور 1972 میں منسوخ کیا گیا اور دو بار معطل بھی کیا گیا (1958 اور 1969)۔ تیسرے آئین کی توثیق 1973 میں ہوئی تاہم پورے ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی اور مشترکہ مسائل کے پیش نظر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آئین کا انتخاب کیا۔ 1977 ایک بار پھر ہائی چارٹ کو معطل کرنے اور فوجی ضابطے کو مجبور کرنے کے لیے۔ ایک سال بعد جنرل ضیاء نے تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا۔ ملٹری ریگولیشن کے دوران مذہب کے موقع کے مقدس حق کو معطل کر دیا گیا لیکن جنرل ضیاء نے مسلسل اعلان کیا کہ ان کی انتظامیہ نے مذہب کے موقع کے حق کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے مراعات کو بھی سمجھا اور اس کی حفاظت کی۔

 پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے؛ مذہب ریاست کا معاملہ ہے۔ بنیادی آئین (1956) ظاہر کرتا ہے کہ عوامی ضابطے قرآن اور سنت کے مطابق ہونے چاہئیں۔ اس کے بعد کے آئین (1962) میں اسلامی جمہوریہ کے نظریہ پر زور دیا گیا تاہم اظہار "اسلامی" کو چھوڑ دیا گیا، صرف "جمہوریہ پاکستان" بن گیا۔

لڑائیاں اور نمائشیں ہوئیں، جس نے عوامی اتھارٹی کو پہلی ترمیم دینے کا پابند کیا، جس نے ایک بار پھر ملک کو دیے گئے اختیار کے نام میں "اسلامی" کا لفظ متعارف کرایا۔ پاکستان کا جاری آئین یہ ظاہر کرتا ہے کہ "اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا۔


#TanoliLawAssociates

@SindhLawyers

لاہور کی خصوصی عدالت نے 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔


 


لاہور کی خصوصی عدالت نے 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی۔
رپورٹس میں کہا گیا کہ اسپیشل سینٹرل کورٹ کے جج اعجاز حسن اعوان نے شریف خاندان کے افراد کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کو کہا۔
عدالت کے باہر سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات تھی۔ وزیر اعظم اور ان کے صاحبزادے سخت حفاظتی پروٹوکول کے تحت آئے جہاں احتساب عدالت کی طرف جانے والے ملحقہ علاقوں کی ناکہ بندی کر دی گئی۔
سماعت کے دوران شریف ایڈووکیٹ امجد پرویز کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی اداروں کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے درمیان 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں مذکورہ اکاؤنٹس سے کوئی تعلق ثابت ہو۔
تاہم ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اس وقت سے کافی شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں جب شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے اور ایک گلزار کے اکاؤنٹ میں دو چیک بھی جمع کرائے گئے تھے۔
ایف آئی اے نے یہ بھی نوٹ کیا کہ دو ملزمان کو تفتیش میں شامل نہیں کیا گیا۔ اپنا فیصلہ سنایا۔
یہ پیشرفت منی لانڈرنگ کیس کے ایک اہم ملزم اور رمضان شوگر مل کے سابق کارکن مقصود چپراسی کی دبئی میں ’قدرتی موت‘ سے موت کے چند دن بعد ہوئی ہے۔
برطانیہ میں مفرور سلیمان شہباز کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
گزشتہ سال، تحقیقاتی ایجنسی نے چینی اسکینڈل کیس میں 16 ارب روپے کی لانڈرنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں مسلم لیگ (ن) کے دونوں رہنماؤں کے خلاف عدالت میں چالان پیش کیا۔
#TanoliLawAssociates
@SindhLawyers

Friday, June 10, 2022

مجرمانہ وکلاء اکثر اپنے مؤکلوں سے اعتراف جرم کرنے کو کیوں کہتے ہیں

 


مجرمانہ وکلاء اکثر اپنے مؤکلوں سے اعتراف جرم کرنے کو کیوں کہتے ہیں؟


 زیادہ تر وقت پراسیکیوٹر کے پاس جرم کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہوتے ہیں یاد رکھیں، وہ یہ انتخاب کرتے ہیں کہ کون سے مقدمات کی پیروی کرنی ہے، اور عام طور پر صرف جیتنے والوں کا پیچھا کرتے ہیں، ہارنے والوں کا نہیں۔
یہ قاعدہ کے بجائے استثناء ہے کہ قابل ادراک دفاع، آئینی مسئلہ، یا یہاں تک کہ معقول شبہات کی حمایت کرنے کا ثبوت موجود ہے۔


لوگ عوامی محافظوں کو برا ریپ دیتے ہیں - لیکن ان سے اکثر ہاتھ دھونا پڑ جاتا ہے اور ان کے مؤکلوں کے لیے پلی بارگینز بہترین آپشن ہوتے ہیں۔


#TanoliLawAssociates
@SindhLawyers

وکیل بننا کیوں مشکل ہے؟



وکیل بننا کیوں مشکل ہے؟

 وکالت کے پیشے میں کچھ خامیاں کیا ہیں؟

لا اسکول مہنگا ہے۔ اس پر آپ کو پاکستان یا طلباء کے قرضوں میں ضرورت سے زیادہ لاگت آئے گی۔

وکلاء کی بھرمار ہے۔ ملازمتوں سے کہیں زیادہ لاء اسکول کے فارغ التحصیل ہیں۔

زیادہ تر وکلاء زیادہ پیسہ نہیں کماتے ہیں۔ اعدادوشمار اوسط بتاتے ہیں لیکن وہ اعدادوشمار ناقص ہیں۔ کچھ وکلاء بہت زیادہ یا اس سے زیادہ کماتے ہیں کیونکہ وہ بڑے کاروباری لوگ ہیں۔ زیادہ تر وکلاء اس سے کہیں کم کماتے ہیں۔

پیشہ انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔ وکلاء لمبے گھنٹے کام کرتے ہیں اور بلنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زبردست دباؤ میں رہتے ہیں۔

زیادہ تر کام بورنگ، مشقت کا ہوتا ہے۔ ٹی وی شوز اور فلمیں اس بارے میں بہت دھوکہ دیتی ہیں کہ وکلاء اصل میں کیا کرتے ہیں۔

وکلاء کو لوگ زیادہ عزت نہیں دیتے۔ آپ ان کلائنٹس کے ساتھ معاملہ کریں گے جو اس حقیقت سے ناراض ہیں کہ انہیں ایک وکیل کی خدمات حاصل کرنی ہیں۔


#TanoliLawAssociates
@SindhLawyers

Friday, August 13, 2021

Sindh High Court Chief Justice Ahmed Ali Shaikh has again refused to attend sittings of the Supreme Court as an ad hoc Judge

Sindh High Court Chief Justice Ahmed Ali Shaikh has again refused to attend sittings of the Supreme Court as an ad hoc judge, saying he is humbled by the offer of the Judicial Commission of Pakistan (JCP), but his answer is similar as earlier.

The SHC chief justice had through his Aug 5 letter to the JCP dispelled an impression that he had ever accorded his consent to become an ad hoc judge of the Supreme Court. However, he had said he would have no objection if he was appointed or elevated to the Supreme Court as a permanent judge.

A source privy to the development told that the SHC chief justice communicated to all the JCP members that he had learnt about the commission’s decision for which he was humbled, but his answer would remain the same as he had stated earlier.

Thus the matter is closed for all times to come, commented a senior counsel on condition of anonymity, adding that turning down the offer carried no consequences as Justice Shaikh would continue to remain as the SHC chief justice. Had he accepted the offer, he would have still been the chief justice and in his place the senior puisine judge of the SHC would have served as acting chief justice of the high court, the counsel said.

 

In a written argument before the JCP, Attorney General for Pakistan (AGP) Khalid Jawed Khan had earnestly requested Justice Shaikh to reconsider his stance in the interest of the people of Sindh and the institution of the SHC, which “we all love and cherish”, and accept the JCP decision.

The JCP at a meeting on Tuesday, presided over by Chief Justice of Pakistan (CJP) Gulzar Ahmed, had decided by a majority of five to four that the SHC chief justice would be invited to become an ad hoc judge of the Supreme Court for a period of one year provided he accorded his consent.

CJP Gulzar, who was present at a seminar on minority rights at a hotel here on Wednesday, said he had no idea when media persons asked him whether or not the SHC chief justice had consented to become an ad hoc judge of the Supreme Court.

Meanwhile, Pakistan Bar Council vice chairman Khush Dil Khan has strongly condemned the nomination of Justice Shaikh as an ad hoc judge of the apex court, without his consent, by the JCP at its Tuesday meeting, after he had expressed his unwillingness to become an ad hoc judge.

He said it was a violation of Article 182 of the Constitution as the high court chief justice could not be appointed as an ad hoc judge of the Supreme Court. Only a retired judge of the apex court or high court could be appointed as an ad hoc judge of the apex court, he contended.

Khush dil Khan expressed his surprise that on July 28 the SHC chief justice was not competent to be elevated as a judge of the Supreme Court, but after two weeks he became eligible and competent for appointment as an ad hoc judge of the apex court. He said the legal fraternity felt that a bad constitutional precedent was being set through this ad hoc appointment which would further weaken the judicial system in the country.



Wednesday, August 4, 2021

Karachi Bar Association Condemnation

 ڪراچي بار ايسوسيئيشن پاران نامياري قانوندان اڳوڻو جج سينئر ايڊوڪيٽ شاهد حسين سومرو حمايت ۽ سپورٽ جو اعلان،
ايشيا جي سڀ کان وڏي بار ڪراچي بار ايسوسيئيشن پاران ناليواري قانوندان شاهد حسين سومرو جي حق ۾ قرارداد پيش ڪري ورتي، قرارداد ۾ چيو ويو آهي ته شاهد حسين سومرو ايماندار جج ٿي رهيو آهي ۽ هڪ ايماندار وڪيل آهي، ان خلاف پيپلزپارٽي جي جنرل سيڪريٽري سردار ذوالفقار ڪماريو ۽ ان جي مافيا ٽيم پاران ڪوڙي پٽيشن داخل ڪرائي ان خلاف ڪوڙ جي بنياد تي پروپئگنڊا ڪئي پئي وڃي جنهن جي سخت لفظن ۾ مذمت ڪيون ٿا، قرارداد ۾ پيپلزپارٽي ضلع شڪارپور جي جنرل سيڪريٽري سردار ذوالفقار کي عهدي تان هٽائڻ جو پڻ مطالبو ڪيو ويو آهي، بار ايسوسيئيشن پاران شاهد حسين سومرو لاءِ پاڪستان جي پوري ليگل فيئٽرنٽي کي درخواست ڪئي آهي ته شاهد حسين سومرو جي حمايت ۽ سپورٽ ڪئي وڃي، جڏهن ته اهڙي قرارداد جي پريس رليز پڻ جاري ڪئي وئي آهي،
Shahid Hussain Soomro Sir ❤❤❤✌
#SindhLawyers
#KarachiBarAssociation


x

Monday, July 19, 2021

Supreme Court Decision 2021

 

SindhLawyers



سپریم کورٹ نے فوجیوں کو زمین کی الاٹمنٹ غیر آئینی قرار دے دی؛ 

ججوں کو بھی زمین کی الاٹمنٹ غیر قانونی ہے-


آئین و قانون ججوں اور افواج پاکستان کو (سرکاری) اراضی لینے کا حق نہیں دیتا؛

بری، بحری یا فضائی افواج اور ان کے ماتحت کوئی بھی فورس رہائشی، زرعی یا کمرشل زمین لینے کا حق نہیں رکھتی:


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ایک اور تاریخ ساز فیصلہ 


سپریم کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی جانب سے زمین حاصل کرنے کے معاملہ پر فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں منظور کر لیں۔


فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں۔


اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا زمین حاصل کرنے کا اختیار ختم کر دیا تھا۔


عدالت میں مختصر فیصلہ جسٹس مشیر عالم نے سنایا۔

90 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 27 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی شامل ہے؛

جس میں انہوں نے آبزرویشن دی ہے کہ ملک کا آئین اور کوئی بھی قانون ججوں اور افواج پاکستان کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ زمین لیں اور کوئی بھی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ چیف جسٹسز اور جج صاحبان زمین لینے کے حقدار ہیں۔


انہوں نے اپنے اضافی نوٹ میں مزید کہا کہ حکومت کا جج صاحبان کو پلاٹس دینا ان کو نوازنے کے مترادف ہے، عوام کی نظروں میں جج صاحبان کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لئے خودمختار عدلیہ انتہائی ضروری ہے۔


انہوں نے کہا کہ زمین کے حصول کی تین شرائط ہیں؛

پہلی شرط زمین عوامی مقصد کے لئے حاصل کرنا

دوسری شرط کے مطابق زمین کے حصول کا قانون ہونا چاہئے اور

تیسری شرط یہ ہے کہ قانون میں زمین حاصل کرنے کے لئے معاوضہ دیا جانا چاہئے ۔


انہوں نے کہا کہ جہاں تک عوامی فلاح کے لئے زمین حاصل کرنے کا سوال ہے تو یہاں آئین خاموش ہے؛

معیاری رہن سہن زندگی کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے-

یہ عوامل ثابت کرتے ہیں کہ عوامی مقصد کے لیے ہاؤسنگ سکیم بنائی جا سکتی ہے-

اگر زمین مالکان معاوضے سے مطمئن نہ ہوں تو وہ متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا حق رکھتے ہیں؛

کوئی وکیل یا سرکاری ملازم ایک پلاٹ سے زیادہ پلاٹ لینے کا حقدار نہیں۔


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ کسی مخصوص قانون کو شامل کئے بغیر وزیراعظم سمیت کوئی بھی اپنے صوابدیدی اختیار استعمال کرکے کسی کو پلاٹ نہیں دے سکتا-


کم آمدنی والے سرکاری ملازمین اور جونیئر افسران کے لئے کم قیمت پلاٹ دستیاب ہونے چاہئیں؛

بری، بحری اور فضائی افواج یا ان کے ماتحت کوئی بھی فورس رہائشی، زرعی یا کمرشل زمین لینے کا حق نہیں رکھتی۔


انہوں نے اپنے اضافی نوٹس میں جنرل گریسی اور ایوب خان کا واقعہ بھی تحریر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

"جب جنرل گریسی پاکستانی فوج کو کمان کر رہے تھے تو ایوب خان نے پلاٹ لینے کی درخواست کی تھی، اس وقت کے آرمی چیف جنرل گریسی نے ایوب خان کو پلاٹ دینے سے انکار کر دیا تھا؛

حیران کن طور پر ایک برطانوی افسر نے اس ملک کی زمین کو اسی دھرتی کے سپوت سے بچایا" - 


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق شجاع نواز نے اپنی کتاب میں لکھا کہ" فوج اور سول بیوروکریسی میں ایک سے زائد پلاٹس کا کلچر عام ہے؛

گزرتے وقت کے ساتھ فوج میں ایسی “سویٹ ہارٹ” ڈیلز کو قابلِ قبول بنایا گیا"۔


انہوں نے لکھا کہ آئین کے تحت سرکاری سول اور فوجی ملازمین مساوی حیثیت رکھتے ہیں؛

سول سرونٹس 60 سال، ہائیکورٹس کے چیف جسٹس 62 سال کی عمر میں ریٹائر ہوتے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور جج صاحبان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے۔


جسٹس فائزعیسیٰ نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ

"اگر ججوں کے پاس رہنے کے لئے جگہ نہیں تو انہیں زندگی گزارنے کے لیے معقول پینشن دی جاتی ہے؛

مالی سال 2020-21 کیلئے پنشن کی مد میں 4 کھرب 70 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں-


ایک کھرب 11 ارب روپے سرکاری ملازمین کی پنشن کیلئے مختص کئے گئے ہیں؛

جبکہ 3 کھرب 59 ارب روپے سے زائد کی رقم افواج پاکستان کے ریٹائرڈ افسران اور اہلکاروں کیلئے رکھی گئی ہے۔


اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ "پنشن کی مد میں ادا ہونے ہونے والی رقم سویلین حکومت چلانے کے اخراجات کے تقریباً مساوی ہے؛

حکومت بیرون ممالک سے قرض لے کر خسارہ بڑھا رہی ہے-

رواں مالی سال میں 29 کھرب 46 ارب روپے سے زائد کی رقم قرض کی صورت میں ادا ہونی ہے-

وہ بچے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے، اور وہ بجے جو ابھی پیدا ہونے ہیں ان کے بچے بھی غربت کا شکار ہوں گے؛

پاکستان کا فوجی اور عدالتی نظام برطانوی طرز پر قائم ہے"۔


اضافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ "بیشتر پاکستانیوں کو بنیادی رہائش کی سہولت تک میسر نہیں؛

قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ غریبوں اور ناداروں کی مدد کی جائے،  ملک کی زمین اشرافیہ میں تقسیم کرنا قرآن کے اصول کی نفی ہے"۔


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت جاری کی کہ اس فیصلے کی کاپی اردو زبان میں بھی جاری کی جائے - ۔

انہوں نے اپنا اضافی نوٹ پیمرا کو بھجوا کر ٹی وی چینلز پر نشر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

#SindhLawyers 


Wednesday, July 7, 2021

Domestic Violence Bill

#Say_No_to_DOMESTIC_VIOLENCE

حکومت نے فیملز اور بچوں کے حوالے سے ایک قانون پاس کیا اس قانون کا نام "ڈومیسٹک وائلینس بل" رکھا یہ ایک بالکل سادہ سا قانون ہے جس میں خواتین پر گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیئے یہ بل بنایا گیا اور پاس کیا گیا۔ لیکن پروپیگنڈا کرنے والوں نے اپنی ازلی بیغرتی دکھاتے ہوئے اس بل کو اسلام کے خلاف قرار دیا- اور اپنے فتوے گھڑنا شروع کردیے-


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈومیسٹک وائلینس بل کیا ہے ؟؟ تو اس پر ہم تھوڑی سی ٹارچ سے روشنی ڈالتے ہیں اس کے بعد فیصلہ آپ خود کریں کہ یہ اسلام کے خلاف کیسے ہے؟؟ 


"Domestic Violence. - Domestic Violence shall mean all acts of physical, emotional, psychological, sexual and economic abuse committed by a respondent against women, children, vulnerable persons, or any other person with whom the respondent is or

has been in a domestic relationship that causes fear, physical or psychological harm to the aggrieved person"


پروپیگنڈا کرنے والوں کے  لیئے اردو ترجمہ 


ڈومیسٹک وائلینس سے مراد ہے کہ کسی عورت، بچے یا کسی کمزور ( بوڑھے ماں باپ) پر فزیکل، ایموشنل، سایئکالوجیکل ، سیکسویئل اور اکنامک ابیوز کا استعمال ہے- جس کی وجہ سے اس شخص کے اندر ڈر پیدا ہو یا پھر اس سے فزیکلی یا سایئکولوجیکلی نقصان پہنچے- یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ ملزم رہتا ہو یا ڈومیسٹک رشتہ داری میں منسلک ہو- 


اسی بل میں آگے چل کر فزیکل، ایموشنل، سایئکالوجیکل ، سیکسویئل اور اکنامک ابیوز کی وضاحت کچھ اس طرح کی جاتی ہے-- 


فزیکل ابیوز : فزیکل ابیوز سے مراد ہے خواتین ، بچوں یا کمزور پر تشدد کرنا اور تشدد کرکے اس کو نقصان پہنچانا یا ان پر کسی ایسے جرم کا ارتکاب کرنا جن کا ذکر پی پی سی سیکشن 16، 16 اے، 17، 20 اور 20 اے میں زکر کیا گیا ہے 


ایموشنل اور سایئکالوجیکل ابیوز: سایئکالوجیکل ابیوز سے مراد ہوتا ہے سامنے والے پر جان بوجھ کر ایسے الفاظ کا مسلسل استعمال کیا جائے جس کی وجہ سے اس کو "جان بوجھ" کر کمزور کیا جائے ، اس کی رائے بدلی جائے، اس کو اندر سے زخمی کیا جائے یا اس کو ڈرا کر کوئی کام کروایا جائے- اس میں سب سے کامن کیس 2 ہیں جو کہ عدالتوں میں آتے ہیں


1- بیٹیوں کو ڈرا کر یا ایموشنل بلیک میل کرکے ان کے نام کی جائیداد اپنے نام کروالی جاتی ہے 

2- دوسرا کیس یہ آتا ہے کہ لڑکیوں کی مرضی کے بغیر ان  پر پریشر ڈال کر یا ان کو ایموشنل بلیک میل کرکے ان کی شادی کردی جاتی ہے اور اس سے دو خاندان تباہ ہوجاتے ہیں- اسی دوسری وجہ سے آج طلاق کی ریشو اس قدر بڑھ چکی ہے کہ آپ کی سوچ ہے لیکن کسی پروپیگنڈا کرنے والے سے پوچھیں تو وہ آپ کو اس کی وجہ میڈیا کی بے حیائی اور سوشل میڈیا کا استعمال بتائے گا- یہ حق اللہ نے ان کو دیا ہے تو والدین کو ان کی مرضی کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے- 


اس بل میں ایموشنل اور سایئکالوجیکل ابیوز کے تحت جو چیزیں بیان کی گئی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں-


1- صاحب اختیار کی جانب سے جنونیت کی وجہ سے بار بار وکٹم کی پرایئویسی میں دخل دینا جس کی وجہ سے اس کی سالمیت، آزادی اور سیکورٹی کو خطرہ پہنچے-- (یہ سالمیت، آزادی اور سیکورٹی قانون کے مطابق ہے جو کہ قانون ان کو دیتا ہے اس کا مطلب بوائے فرینڈ کی آزادی نہیں ہے جس کو پروپیگنڈا کرنے والے اس وقت پکڑ کر وین کررہے)


2- کمزور شخص کو بار بار بے عزت کرنا یا تضحیک کرنا-- (کمزور شخص سے مراد یہاں بوڑھے ماں باپ ہیں) 


3- بیوی یا گھر میں موجود خواتین کو جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا- ( یہ مدرسہ یا سکول نہیں کہ جہاں تمہیں سوئی گیس کے پائپوں سے تشدد لال کی جاتی ہیں- یہ گھر ہے ) 


4-  اپنی بیوی کو بانجھ پن اور پاگل پن کاجھوٹا الزام لگا کر اس کو دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی دینا-


5- گھر میں موجود کسی خاتون کے کریکٹر پر کوئی جھوٹا الزام لگانا- (جو کہ بعد میں غیرت کے نام پر قتل کا باعث بنتا ہے)


6- جان بوجھ کر یا پوری طرح سے عورت، بچے، یا کمزور سے دستبرداری اختیار کرنا ( اگر یہاں عورت کا مطلب بیوی ہے تو اس کا مطلب ہے کچھ لوگ شادی کرکے عورت کے ساتھ حق زوجگی ادا نہیں کرتے اور پھر بعد میں اس کو طلاق دے دیتے ہیں یوں اس عورت کی زندگی برباد ہوجاتی ہے مرد دوسری شادی کرلیتا ہے لیکن عورت پر طلاق کا ٹھپہ لگ جاتا ہے۔اور عورت ساری عمر کچھ نہ کرکے بھی سزا بھگتتی ہے۔۔) 


7- ڈنڈے سے مارنا، 


8- ہیراسمینٹ کرنا  ( کسی غلط کام کو کرنے پر ڈانٹنے کو ہیراسمینٹ نہیں کہتے۔۔ بلکہ عورت کو بلیک میل کرکے اس سے غلط کام کرنے کی خواہش کرنا جس سے عورت کمفرٹیبل فیل نہ ہو اس کو ہیراسمینٹ کہتے ہیں۔عدالت میں جب کیس چلے گا تو ایویں ہی الزام لگانے پر سزا نہیں مل جائے گی تحقیقات کے بعد ہی ملزم کا کلیئر ہوگا)


9- بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی اور مرد کے ساتھ تعلقات بنانے پر مجبور کرنا- 


یہ سب ایموشنل اور سایئکالوجیکل ابیوز کے زمرے میں آتا ہے جو  اس وقت اس کو لیکر بھڑکیں مار رہے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی ان شقوں کی بیک گراؤنڈ کا علم نہیں یہ ان شقوں کی بیک گراؤنڈ کو سمجھے بغیر منہ پھاڑے بوائے فرینڈ کو لیکر بکواس کرتے پائے جارہے ہیں-جس کا دور دور تک اس میں کہیں ذکر نہیں ہے۔ ان پر وہ کہاوت لاگو ہوتی ہے کہ ملا کی دوڑ مسیت تک- اور یہ خنجر انگلش میں لکھے ایک بل کو ہاتھ ڈال رہے ہیں۔


سیکسویئلی ابیوز: سیکسویئلی ابیوز سے مراد یہاں زیادتی کرنا یا اپنے ساتھ غلط کام کرنے پر مجبور کرنا ہے


اکنامک ابیوز: اکنامک ابیوز سے مراد یہ ہے کہ کسی فیمل یا بچے کو اس کے فنانشنل حق سے محروم کرنا ہے جس میں بیٹیوں کے حصے پر قابض ہونا یا پھر بیٹیوں کو تعلیم نہ دلوانا لیکن بیٹوں کو تعلیم حاصل کروانا شامل ہے یعنی بیٹی کا حق مارنا- 


اب اپنے ایمان سے بتایئں اس بل میں جس کو لیکر یہ پروپیگنڈا کرنے والے کپڑے پھاڑ کر وین کررہے-- اور اس کو اسلام کے خلاف اور فیملی لائف تباہ کرنے کا ذمہ دار قرار دے رہے اس میں کونسی ایسی شق ہے جس سے فیملی لائف تباہ ہوجائے گی اور کونسی ایسی شق ہے جو کہ اسلام کے خلاف ہے-  کاپی پیسٹر کاپی پیسٹ کرکے 2 دن سے مرنے والے ہوئے پڑے کہ اخے اسلام دشمن بل پاس کردیا-

Thursday, July 1, 2021

انسان کیا ہے اور کیا کر رہا ہے....






____انسان کیا ہے۔؟۔اور کیا کر رہا ہے____


بحیثیت اشرف المخلوقات،بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان مجھے اپنے کردار پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اس دنیا میں،میں کیوں آیا ہوں،دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے اس مقصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہمارے مذہب اسلام میں مسلمان کو مومن(مرد و عورت)سے تشبیع دی گئی ہے اور مومن اس کو کہتے ہیں جو اللہ کی طرف سے دی گئ،ہر مشکلات و سختی کو صبر و تحمل سے برداشت کرتا ہے اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔اللہ تعالی نے ہماری زندگی کو دو زاویوں میں تقسیم کیا ہے ایک زاویے میں آسانیاں دی ہیں اور ایک زاویے میں مشکلات دی ہیں۔ان دونوں زاویوں میں اللہ مومن سے امتحان لے رہا ہے۔

ایک کو دے کر اور ایک کو نا دے کر،یہ میرے اللہ کی تقسیم ہے اور اللہ کی تقسیم پر مومن ہر حال میں خوش رہتا ہے۔ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں اور کچھ لوگ بڑے بڑے بنگلوں بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر زندگی کا لطف دوبالا کر رہے ہیں۔یہاں پر زندگی مزید تقسیم میں چلی جاتی ہے اور مختلف زاویوں میں انسان بٹ جاتے ہیں۔کیونکہ اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔یعنی اپنا نائب،،،سوچ دی ہے۔اچھے برے میں تمیز دی ہے اور سب سے بڑھ کر  اللہ نے کچھ چیزیں انسان کے دائرہ اختیار میں دی ہیں۔مگر ان اختیارات کی کچھ حدو و قیود  مقرر کردی ہیں۔اگر انسان اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود سے باہر نکل کر اپنے اختیارات استعمال کرے گا تو وہ اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرے گا اور جو مومن اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرے گا،تو پھر وہ مومن نہیں رہتا،


میرے معزز ناظرین آپ کو یہ سب کچھ سمجھانے کا ایک مقصد ہے۔مقصدکیا ہے کہ ہم دنیا میں ایک مختصر سی زندگی لے کر آئے ہیں۔اور اس زندگی میں ہم نے بہت کچھ پانا ہے اور بہت کھونا ہے۔بادشاہ بھی بننا ہے گدھا بھی بننا ہے۔ظالم بھی بننا ہے مظلوم بھی بننا ہے یہ آپ کو بھی نہیں پتہ کہ آپ نے کیا کچھ بننا ہے۔لیکن زندگی کا نقطہ ایک ہی ہے بس۔۔۔۔۔۔کہ 

خودی کو تو کر بلند اتنا کہ خدا بندے سے پوچھے بول تیری رضا کیا ہے۔۔۔۔


معزز ناظرین۔اب میں معرفت سے ہٹ کر سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کرنے لگا ہوں۔کیونکہ معرفت ایک سمندر ہے جس کا دوسرا کنارہ ہمارے سوچ سے بھی دور ہے۔خیر اب میں دنیا داروں میں رہے کر اور دنیادار بن کر بات کرونگا،جس میں کچھ لوگوں کو تکلیف ہوگی اور کچھ لوگ انجوائے کریں گے۔۔کیونکہ کہ یہ ہمارا ایک فطری عمل ہے۔کیونکہ جس نقطہ پر ہماری سوچ ایڈجیسمنٹ کر لیتی ہے۔وہ ہمارے لئے باعث مسرت ہے اور جس نقطہ پر ایڈجیسمنٹ نہیں کرتی وہ ہمارے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔بہرحال یہ ہر آدمی کا اپنا طرز سوچ ہے۔کیونکہ سوچ میں مفادات کا تعلق بہت گہرا ہوتا ہے یہ الگ بحث ہے کہ آپ کے مفادات کس نوعیت کے ہیں۔


معزز ناظرین کافی دن سے میں سوشل میڈیا،ٹیوٹر نیوز اور اپنے اردگرد مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا بحث و مباحثہ سن رہا ہوں،اور ان کی طرز سوچ کا بھی جائزہ لے رہا ہوں۔اس سارے بحث و مباحثہ سے جو چیز میں نے اخذ کی ہے۔۔۔وہ یہ کہ ہمیں ہمیں اپنے ملک کا حکومتی نظام عدالتی نظام اور بیوروکریسی نظام کو ختم کرکے ،عوامی نظام نافزالعمل کردیا جائے۔کیونکہ ہمارے ملک میں ہر دوسرا انسان وکیل بھی ہے اور جج بھی ہے۔مختلف دکانوں،چوراہوں،بیٹھکوں اور دفاتر میں بیٹھ کر ہمارے ملک کے ذہین لوگ فیصلہ سازی کے ساتھ ساتھ حتمی فیصلے بھی ایک دوسرے پر صادر کر رہے ہیں ہمارے ملک میں ہر دوسرا انسان معیشیت دان بھی ہے تو پھر کیوں ہم بھاری بھرکم تنخوائیں دے کر باہر سے معیشیت دان منگوا رہے ہیں،ماشاءاللہ ہمارے ملک کی عوام اتنی ذہین ہے کہ ایک گھنٹے میں معیشیت کو ناکام بھی کر رہی ہے اور پورا قرض بھی اتار رہی ہے


یقین کریں میرا بس میں ہوتا تو میں ایک ایک پاکستانی کو ذہانت ایوارڈ سے نوازتا،


گوروں کی ایسی کی تیسی کہ وہ ہمارے ملک اسلامی مملکت پاکستان کی غیور عوام کا مقابلہ  کرسکیں۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہم اپنے گھر کا بجٹ تشکیل نہیں دے پاتے۔۔مگر ملکی معاملات کو حل کرنے میں ہم الحمد للہ بہت ماہر ہیں۔۔۔۔ہم پاکستانیوں میں ایک اور خوبی بھی سب ملکوں کے باشندوں سے ہٹ کر ہے،وہ خوبی کیا ہے کہ ہم جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ میں بدلنے کی تو پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ۔۔۔ماشاءاللہ ہماری اس مہارت سے تو گورے کوسوں دور ہیں۔سنی سنائی باتوں کو پھیلانا ان کو سن کر ان کو سنا کر ہمیں تسکین دل حاصل ہوتی ہے۔بھاڑ میں جائے تحقیق اتنا تو ہم پاکستانیوں کے پاس ٹائم ہی نہیں ہے۔۔۔


ہم پاکستانی شیردل لوگ چور اچکوں،کرپشن زدہ اور بھگوڑیوں کو اپنا لیڈر ماننے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ہمیں کیا ضرورت ہے،اچھے لوگوں کے پیچھے بھاگیں۔۔   اس سے ہمیں کیا فائدہ ایسے لوگ تو ریاست کو فائدہ دیتے ہیں۔اور ریاست سے زیادہ ہمیں سیاست عزیز ہے۔ریاست نے ہمیں کیا دیا ہے۔۔۔؟۔


ریاست کے دشمن ہم پاکستانی عوام  کے دوست،اداروں پر ہم حملے کرنے سے زرہ بھی نہیں گبھراتے بلکہ فخر محسوس کرتے ہیں۔اربوں کی کرپشن کرنے والوں پر پھول پھیکنا ہمارے لئے اعزاز ہے۔ضمیر نام کی چیز سے تو ہم واقف ہی نہیں ہیں۔ہماری عزت و نفس یہاں تک کہ پوری دنیا میں ریاست کی جگ ہنسائی ہو۔    ہمیں غرض نہیں۔۔بس ہماری جیب بھر جائے۔


کرپشن سے ہمارا__یارانہ ہے۔

چوروں کو ہم نے چھڑانا ہے۔

 نیازی۔شریف زرداری کی اولادوں کو لانا ہے۔

ان کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھانا ہے۔

ملک کے سکیورٹی اداروں کو دنیا میں بدنام کروانا ہے۔

ہم نے ساری زندگی ایسے ہی کیڑے مکوڑوں کی طرح رہنا ہے۔

ہمیں ریاست سے کیا غرض،ہم نے جاہلانا رویہ اپنانا ہے۔

کیونکہ ہماری سوچ ایک غلامانہ ہے۔۔۔۔

اللہ تعالی ہمارے ملک کی عوام کو عقل تسلیم دے۔۔۔ آمین

#SindhLawyers.

#Tanoli_Law_Associates.

#Karachi....

Wednesday, June 30, 2021

Johar Town Blast Peter Paul David

 پیٹر پال اینتھنی ڈیوڈ کا تعلق محمود آباد کراچی سے ہے یہ محمود آباد گلی نمبر 21 کا رہائشی تھا- یہ پچھلے 20 سال سے روزگار کے سلسلے میں بحرین میں ہوا کرتا تھا اور بحرین میں یہ سکریپ کا کام کیا کرتا تھا- کرونا کی وجہ سے بحرین میں اس کا کام ٹھپ ہوگیا تو یہ پاکستان میں واپس آگیا اور یہاں آکر یہ ہوٹلنگ کے بزنس کے وابستہ ہوگیا-
ہوٹلنگ کے بزنس کا یہ مطلب نہیں کہ ہوٹلنگ کا کاروبار شروع کیا بلکہ اس کا مطلب ہے کہ اس نے ہوٹلز میں یا مختلف پارٹیز میں ڈلیوری کا کام شروع کردیا- یہاں اس کی ملاقات ایک "کرن" نامی خاتون سے ہوئی- اور پیٹر جب بھی لاہور آتا تو کرن کے ساتھ ہوٹل میں سٹے کرتا- اور شائد یہ ہوٹل بھی اسی کا تھا- لیکن یہ فی الحال کنفرم نہیں- 
پیٹر کسی کام کے سلسلے میں دبئی گیا جہاں اس سے پہلی دفعہ "راء" کے کچھ آفیشلز سے رابطہ کیا گیا جنہوں نے پیٹر کو ان کے لیئے کام کرنے کے بدلے اچھی خاصی رقم کی آفر کی جس کو سن کر پیٹر نے ان کے ساتھ کام کرنے کی حامی بھرلی- اور پہلا کام پیٹر کے ذمے "حافظ س عید" کے گھر کے راستے میں بم دھماکہ کرنے کا سونپا- اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حافظ صاحب تو جیل میں ہیں تو پھر--ان کے بارے میں آج سے 6 مہینے پہلے ایک افواہ مشہور ہوئی تھی کہ حافظ صاحب گرفتار نہیں بلکہ آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں 
یہ افواہ شائد راء نے بھی سن لی تھی چنانچہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس والے دن حافظ صاحب کو نشانہ بنا کر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کا پلان بنایا گیا اور اس کے لیئے ساری منصوبہ سازی دبئی میں ہوئی- اور اس پلان کو بنانے والا سمیع اللہ نامی شخص تھا جس نے دبئی میں یہ پلان تیار کیا- اور یہی سمیع اللہ نامی شخص بم دھماکے والے دن پیٹرپال اینتھنی ڈیوڈ سے رابطے میں تھا-
اس بم دھماکے کو بڑی باریکی سے پلان کیا گیا-اس دھماکے میں جو گاڑی استعمال ہوئی اس کو اوپن لیٹر پر حافظ آباد سے خریدا گیا- اور یہ گاڑی ماضی میں چوری ہوچکی تھی جس کی ڈیٹیل میں پہلے شیئر کرچکا ہوں- چنانچہ اس گاڑی کو پیٹر پال ڈیوڈ نے اپنے دوست سجاد حسین کو دیا اور اس کو مردان لیجانے کو کہا- سجاد حسین پیٹر کا 10 سال پرانا دوست تھا- جس کو پیٹر نے اپنے اس پلان میں شامل کیا- اور اس کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے تھا
سجاد اور کرن دونوں اس گاڑی کو گوجرانوالہ سے مردان لیکر گئے- اور مردان میں ایک کار مکینک جس کا نام ضیاء خان تھا سے کار میں بم فٹ کروایا- اور اس کار کی ڈگی کو لاک کروادیا- اس کار کی ڈگی کو لاک کروانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر رستے میں کہیں چیکنگ ہوبھی جائے تو پولیس سے یہ ڈگی کھلے نا اور شک کا فائدہ فائدہ مل جائے کہ شائد کار کی ڈگی لاک ہوگئی ہے- 
چنانچہ ایسا ہی ہوا-- کرن اور سجاد لاہور میں بابو صابو کے رستے اینٹر ہوئے ان کی گاڑی سلو ہوئی لیکن آگے کرن یعنی خاتون کے بیٹھے ہونے کی وجہ سے گاڑی کو اشارہ کرکے آگے جانے دیا گیا- اس کے بعد یہاں اینٹری ہوتی ہے ایک اور شخص جس کا نام عید گل تھا- یہ وہ شخص تھا جس نے گاڑی کو مطلوبہ جگہ پر پارک کرکے آنا تھا- 
چنانچہ عید گل صاحب نے گاڑی کو کینال روڈ سے ڈاکٹرز ہاسپٹل، اور پھر جناح ہاسپٹل سے ہوتا ہوا جوہر ٹاؤن مطلوبہ مقام تک پہنچا اور گاڑی کو پارک کرکے یہ شخص پشاور والی گاڑی میں بیٹھ کر موٹروے پر روانہ ہوگیا- دھماکہ ہوا اور دھماکے کے بعد ہماری ایجنسیاں سر جوڑ کر بیٹھی- یہ پلاننگ اتنی شاندار تھی کہ اس کا کریک ہونا بہت ہی مشکل تھا- 
لیکن کہتے ہیں ٹیکنالوجی بندے کے لیئے جتنی فائدہ مند ہے اتنی ہی بندے کو مروانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے چنانچہ جیو فینسنگ اور ڈمب ڈیٹا کی مدد سے سب سے پہلے ایجنسیوں کے ہاتھ جو بندہ لگا وہ اس بم دھماکے کا پاکستان میں ماسٹر مائینڈ تھا- اور وہ تھا پیٹر پال ڈیوڈ- جس کے بعد کراچی سے اس کے سالے، اور بیٹے کو اٹھایا گیا- اس کے بعد حافظ آباد سے اس گاڑی بیچنے والے بندے کو اٹھایا گیا- اس کے بعد کرن گرفتار ہوئی-، پھر سجاد حسین منڈی بہاؤالدین سے گرفتار ہوا-- سجاد حسین کے بعد ضیاء خان مردان سے گرفتار ہوا-- 
اور آخر میں اس گیم میں سب سے اہم کردار عید گل کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا- اور یون صرف 4 دن کے اندر اندر سارے کا سارا کیس کریک کرکے رکھ دیا اس کیس میں یہ ملزمین دبئی سے سمیع اللہ نامی بندے سے ٹچ میں تھے اور سمیع اللہ ان کو مسلسل فون پر ہدایت دے رہا تھا- اور ان کو ہینڈل کررہا تھا- پیٹر پال کا یہ پہلا کام تھا اور اس کا پولیس کے پاس کسی قسم کا کریمینل ریکارڈ نہیں تھا- ایسے بندے جن کا پولیس کے پاس کسی قسم کا کریمنل ریکارڈ نہیں ہوتا ان کو پکڑنا یا ان کا سراغ لگانا دنیا کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے یہی وجہ ہے آپ نے دیکھا ہوگا سیریل کلر کو پکڑنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کا پولیس کے پاس ریکارڈ نہیں ہوتا-
اب اس کے آگے پاکستانی وزارت خارجہ کا کام ہے کہ وہ ان ثبوتوں کو اقوام متحدہ میں رکھے، ہنندوستان کے خلاف آواز اٹھائے اور یو اے ای کی سرزمین جو کہ پاکستان میں اس دہشت گردی کے کام کے لئے استعمال ہوئی اس پر آواز اٹھائے- اس سے پہلے کہ یہاں یو اے ای کے پاکستان میں موجود چمچوں کو دندل پڑیں ان کو چاہئے اس دفعہ غیرت کا مظاہرہ کرکے پاکستان کا ساتھ دیجیے گا اور جیسے ایران کی دفعہ بھڑکیں مارتے ہیں ویسے ہی یو ای اے کی دفعہ بھی غیرت دکھایے گا- 
کیونکہ ہمارے لیئے سب سے پہلے پاکستان ہے--

*غزوہ ہند کے سالار*
JOHAR TOWN BLAST

x

Monday, June 28, 2021

Public Interest Litigation in Supreme Court of Pakistan


 Article 184(3) of the Constitution of Pakistan 1973 provides the concept of protection of Fundamental Rights through the use of Article 199 of the Constitution. Hence, the Supreme Court of Pakistan can pre-empt the jurisdiction of High Courts under Art.199 whenever “a question of public importance with reference to the enforcement of any of the Fundamental Rights conferred by Chapter I of Part II is involved.” The power of Art.184(3) is “original jurisdiction” of the Supreme Court to enforce fundamental rights. We will also find words “human rights” used by the Supreme Court in its judgments given under the caption “Human Rights Cases” while they have not been mentioned anywhere in 1973 Constitution. It is the combined effect of the provisions of Art.184(3) and Art.199 that help us to understand as to what might be the human rights to be enforced. “Human Rights” is a general term while the term “Fundamental Rights” is specific one and is used in the Constitution as a practical term defining and limiting the exact meanings of various rights provided to all those who are citizens of Pakistan. However, certain Fundamental Rights are provided to everyone who is within the territorial jurisdiction of Pakistan, whether citizen or not, at any given time period. This thesis will study various aspects of the powers of Supreme Court under Art.184(3) of the Constitution along with allied matters.

Case Laws.

  1. under its suo motu jurisdiction of Article 184(3) in To Visit "State v. Zubair". 610 It 604 PLD 2001 SC 607
  2. Suo Motu Case: In re, p. 2001 - 1041
  3. Case Suo Motu

    re, PLD 2001 SC 1041
  4. Case Suo Motu

    re, PLD 2001 SC 1041.



    CHECKOUT
    https://papers.ssrn.com/sol3/papers.cfm?abstract_id=1984583

Tuesday, May 11, 2021

SC says pre-arrest bail in cognisable offences extraordinary remedy.


 The Supreme Court has reiterated that pre-arrest bail in a cognisable or non-bailable offence is an extraordinary remedy, extended for the sole purpose of protecting reputation and honour of an innocent citizen being hounded through abuse of process of law for sinister purposes.

This judicial protection is based on equity and cannot be extended in every run-of-the-mill criminal case founded upon incriminatory evidence, warranting custody for investigative purposes, observed Justice Qazi Muhammad Amin Ahmed in a judgement he wrote.
Justice Ahmed was a member of the three-judge bench that had taken up an appeal moved by Maqbool Ahmed Mahessar, Hafiz Suhail Ahmed, Muhammad Pariyal Solangi and Nasrullah against the National Accountability Bureau (NAB). The appeal had sought to challenge different Sindh High Court (SHC) orders of March 2021.
Through separate orders the Sukkur bench of the SHC had allowed pre- as well as post-arrest bails in different NAB references but subject to deposit of amounts allegedly embezzled by the petitioners at the cost of public exchequer.
Facility should be extended only for protecting an innocent person being hounded through abuse of process, says judgement
On Nov 29, 2019 as well, Justice Ahmed, while deciding a number of appeals against the SHC orders, had held that a pre-arrest bail, being rooted in equity, was an extraordinary remedy and should be exercised cautiously only to protect innocent persons from the horrors of abuse of process of law.
Referring to the present case, Justice Ahmed cited the Tallat Ishaq versus NAB case of 2019 and observed that directives for the release of an accused on bail have since been held against the law.
An accused seeking bail desires transfer of his custody from the jail, whose superintendent undertakes his production as and when required by the court. But for that, he has to make out a case in accordance with the applicable law and cannot be allowed or required to barter his freedom, the judgement explained.
Justice Ahmed observed that in the case at hand, considerations for grant of post-arrest bail to an accused facing charges under the NAB Ordinance had clearly been illustrated. Therefore, the accused facing indictment in a NAB reference had to qualify as per the parameters set down in different cases.
“There is no other way out,” the judgement said and added that grant of pre-arrest bail in a cognisable or non-bailable offence is a remedy that’s extraordinary in the nature of judicial protection.
Such a facility is extended by diverting usual course of law for the sole purpose of protecting reputation and honour of an innocent citizen being hounded for sinister and oblique purposes.
The protection was devised in 1949 by Hidayatullah Khan and the principles laid down therein are being faithfully followed till date, Justice Ahmed said in his order, adding the high court’s orders, being inconsistent, could not be sustained.
Thus the petitions are converted into appeals and allowed, high court orders are set aside and the bail petitions filed by the appellants before the high court would be deemed as pending for fresh decision, the judgement said.
The petitioners, meanwhile, would remain on ad-interim bail upon furnishing bonds in the sum of Rs500,000 with one surety each in the like amount to the satisfaction of deputy registrar (judicial) of the Sukkur bench of the SHC before end of third week of the present month, the order said.
The petitioners would appear before the high court on a date notified by the SHC office and the case would be decided on its merits.
In the 2019 Tallat Ishaq case, Justice Asif Saeed Khosa had regretted that the original intention behind introduction of Section 9(b) of the NAB Ordinance, of ousting jurisdiction of the courts regarding grant of bail in cases, stood neutralised by opening the door for bail through exercise of constitutional jurisdiction of a high court.
Resultantly, the entire burden was being shouldered by the high courts, which was a huge and an unnecessary drain on their precious time, Justice Khosa had held.
Justice Khosa had also suggested to the legislature to consider amending the ordinance appropriately to enable an accused person to apply for his bail to the relevant accountability court in the first instance, rather than coming directly to the high court.


Such a Lesson


 *ایک جامع مسجد کے خطیب کی ایک خوبصورت بیٹھی تھی*

ایک جامع مسجد کے خطیب کی ایک خوبصورت بیٹھی تھی جو جامعہ میں پڑھتی تھی ایک دن وہ جامعہ سے واپس گھر آئی گاڑی سے اترتے وقت ایک لڑکے نے اس کا چہرہ دیکھ لیا لڑکی بہت حسینہ و جمیلہ تھی لڑکے کو پسند آئی اس نے پتہ کیا لڑکی خطیب صاحب کی بیٹی تھی لڑکے نے اسی دن سے صف اول میں نماز پڑھنے کا اہتمام شروع کیا اذان سنتے ہی وہ مسجد کے دروازے پر پہنچ جاتا نماز تک تلاوت قرآن میں مشغول رہتا تھا چھ سات مہینے تک وہ اسی معمولات کا پابند رہا اسکے بعد اس نے والد سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا والد نے کہا ٹھیک ہے دیکھ لیں گے مناسب رشتہ اس نے کہا کہ لڑکی میں نے دیکھ لی ہے والد کے پوچھنے پر اس نے خطیب صاحب کی بیٹی کے بارے میں بتایا اس نے کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے امام صاحب سے ملتے ہیں عمائدین محلہ کے ساتھ امام صاحب کے خدمت میں حاضر ہوئے امام نے لڑکے کے بارے میں پو چھا انہوں اسی لڑکے کے طرف اشارہ کیا خطیب نے لڑکے کی دین داری کو دیکھ رشتہ لڑکی سے مشورہ کرنے اور رضا مندی ظاہر کرنے پر قبول کیا۔

چنانچہ رشتہ طے ہوا چھ سات ماہ بعد شادی ہوئی شادی کے کچھ عرصہ بعد لڑکے نے نماز پڑھنے میں سستی شروع کی ایک دو ماہ بعد لڑکے نے ڈاڑھی کاٹ دی گھر آنے پر لڑکی نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اس نے کہا کہ یہ نمازیں تو میں تمہیں حاصل کرنے کے لیے پڑھ رہا تھا اب مقصد حاصل ہو چکا ہے اب کیا ضرورت ، لڑکی یہ سن کر بہت افسردہ خاطر ہوئی اور جا کر والد صاحب سے کہا کہ اس بے دین کے ساتھ ایک دن نہیں رہنا چاہتی یہ معاملہ محکمہ عدل تک پہنچ گیا قاضی نے دونوں میں تفریق کا فیصلہ کیا۔ لڑکا بہت پریشان ہوا اس نے بہت کوشش کی لیکن لڑکی کو دوبارہ نہ پا سکا لڑکے نے ایک جادوگر سے مدد حاصل کر نے کا فیصلہ کیا جادوگر نے بڑے رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا لڑکے نے سارے پیسے پیشگی ادا کیے کچھ دن گزرنے کے بعد جادوگرنے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا لڑکے نے فی الفور وہ بھی ادا کیے اور کہا کہ کام ہو جا نا چاہیے پیسوں کا فکر نہ کریں۔

ایک ماہ کے بعد جادو گر نے لڑکے کو بتایا آجاؤ اپنے پیسے لے جا تمہارا کام کسی صورت میں ممکن نہیں ہے جب وہ لڑکا جادوگر کے کمرے میں پہنچا تو جادوگر ایک بڑا چاقو ہاتھ میں لیے کھڑا ہے لڑکے نے حیرت زدہ انداز میں پو چھا یہ کیا کر رہے ہو جادوگر نے کہا مجھے قتل کر دو ورنہ دو قتل کر دئیے جائیں گے لڑکے نے کہا میں یہ نہیں کر سکتا لہٰذا میرے پیسے دے دو اس نے پیسے دئیے لڑکا پیسے لے کر بھاگنے لگا پولیس والے نے لڑکے کو پریشان حالت میں بھاگتے ہوئے دیکھ کر گرفتار کر لیا پیسے ضبط کر لیے لڑکے کے توسط سے پولیس جادو گر تک پہنچ گئے جادوگر نے پولیس کو کہا مار ڈالو میں مرنے والا ہوں مجھے وہ نہیں چھوڑیں گے پولیس نے دونوں کو قاضی کے پاس لے گئے قاضی کو جادوگر نے پوری کہانی سنائی کہ ھم استمداد بالشیاطین کے ذریعے جادو کا عمل کرتے ہیں۔

اور کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس لڑکی پر جب میں نے یہ عمل کیا اور شیطانوں سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس گھر کے حفاظت پر فرشتے مامور تھے پھر میں نے دوسرا عمل کیا تب بھی فرشتے مامور تھے لیکن پہلے سے تعداد میں زیادہ اس کے بعد میں نے رئیس الشیاطین سے مدد لینے کی کوشش کی اس بار جب وہ گھر کے پاس گئے تو وہاں فرشتے کھڑے تھے اس دن کے بعد سے اب مجھے وہ شیطانی گروہ مارنے پر تلے ہیں۔

قاضی حیران ہوا اس نے خطیب صاحب کو بلایا جب امام صاحب تشریف لائے تو انہوں نے پوچھا کیا عمل کرتے ہو کہ فرشتے آپ کے گھر کے حفاظت پر مامور ہیں اس نے پوچھا کیوں کیا ہوا کیونکہ اس کو پتہ بھی نہیں تھا کہ یہاں کیا چل رہا ہے۔

جب انہوں نے امام صاحب کو پوری کہانی سنائی تو خطیب صاحب نے کہا کہ ہمارے گھر میں صبح روزانہ سورۃ بقرۃ کی تلاوت ہوتی ہے اور جس گھر میں سورۃ بقرۃ کی تلاوت ہوتی ہے اس پر جنات اور شیاطین اثر نہیں ہوتا نیک خاندان کی حفاظت کے لیے اللہ پاک ایسے انتظام فرماتا ہے۔


#SindhLawyers..

Monday, May 10, 2021

میدان عرفات 9 ذی الجہ ، 10


 میدان عرفات میں اللّٰہ تعالٰی کے آخری نبی، نبی رحمت سیدنا محمد رسول اللّٰہﷺ نے 9 ذی الجہ  ، 10 ہجری  کو آخری خطبہ حج دیا تھا آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی ﷺ نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں حضرت محمد رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا۔۔
*۱*۔ اے لوگو!  سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گامیری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ  اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت  اور مال حرمت والے ہیں (تم اس کو چھیڑ نہیں  سکتے )۔
*۳۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللّٰہ سے ملنا ہے، اور اللّٰہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
*٦*۔ اللّٰہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کردو)۔
*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللّٰہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
*۱۱* ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر ، حسب و نسب کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللّٰہ کی نظر میں برابر ہو
 برتری صرف تقوٰی کی وجہ سے ہے۔
*۱۲*۔  یاد رکھو! تم ایک دن اللّٰہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جائے گا میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کرسکیں۔
*پھر آپ نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،
*۱٦*۔ اے اللّٰہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔
*نوٹ*: اللّٰہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو س پیغام کو سنیں/پڑھیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں اور اس کو آگے پھیلانے والے بنیں اللّٰہ ہم سب کو اس دنیا میں نبی رحمت کی محبت اور سنت عطا کرے، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی کے ساتھااکٹھا کرے.
آمین ثم آمین.♥️

x

#SindhLawyers.....

Law about Itself Informatiom


 *یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے۔۔۔*
 
*دفعہ 295-A* کسی مذہب کی توھین کرنا
*دفعہ 295-B* قرآن پاک کی غلط تشریح کرنا
*دفعہ 295-C* توھین رسالت 
*دفعہ 298-A* توھین صحابہ
*دفعہ 307* = قتل کی کوشش کی
 *دفعہ 302* = قتل کی سزا
 *دفعہ 376* = عصمت دری
 *دفعہ 395* = ڈکیتی
 *دفعہ 377* = غیر فطری حرکتیں
 *دفعہ 396* = ڈکیتی کے دوران قتل
 *دفعہ 120* = سازش
 *سیکشن 365* = اغوا
 *دفعہ 201* = ثبوت کا خاتمہ
 *دفعہ 34* = سامان کا ارادہ
 *دفعہ 412* = خوشی منانا
 *دفعہ 378* = چوری
 *دفعہ 141* = غیر قانونی جمع
 *دفعہ 191* = غلط ھدف بندی
 *دفعہ 300* = قتل
 *دفعہ 309* = خودکش کوشش
 *دفعہ 310* = دھوکہ دہی
 *دفعہ 312* = اسقاط حمل
 *دفعہ 351* = حملہ کرنا
 *دفعہ 354* = خواتین کی شرمندگی
 *دفعہ 362* = اغوا
*دفعہ   320*  = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (ناقابلِ ضمانت)
📚
*دفعہ322*   = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
 *دفعہ 415* = چال
 *دفعہ 445* = گھریلو امتیاز
 *دفعہ 494* = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
 *دفعہ 499* = ہتک عزت
 *دفعہ 511* = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
  4
 ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔
  تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
 پانچ دلچسپ حقائق آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
 جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔
 *(1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا* -
 ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل،  پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔  اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔  اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔
 (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔
 عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔  آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔  اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔  اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
(3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں -
  سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔  اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔  آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔
  (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا
 زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔  حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔  اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔  یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
 (5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا
 پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم (6)ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
 یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔

Islam


 وه عالم اسلام کا ایک نایاب اور نامور سلطان تھا۔ وه ان گنت زبانوں پر عبور رکھتا تھا ۔ عربوں سے عربی میں ، منگولوں اور تاتاریوں سے تاتاری میں ، یونانیوں سے یونانی میں، حبشیوں سے ان کی زبان میں اور اس طرح دوسری اقوام سے ان کی زبان میں گفتگو کرنے کی مہارت رکھتا تھا ۔

سلطان بننے سے پہلے وہ جگہ جگہ ایک غلام کی حیثیت سے دھکے کھاتا پھرتا تھا لہذہ اس نے اس دوران میں مختلف زبانیوں میں مہارت حاصل کر لی تھی ۔
وقت کی آنکھ نے اسے کبھی ایک گڈریے کی صورت میں " دشت قپچاق " میں بھیڑ بکریاں چراتے ہوئے دیکھا ، آسمان نے اسے کبھی دمشق شہر میں برده فروشوں کی منڈی میں ایک غلام کی حیثیت سے بکتے دیکھا ، کبھی اس نے دمشق اور مصر کے امراء کی نوکری و چاکری کرتے ہوئے وقت گزارہ اور کبھی رزم گاہ میں ایک صف شکن لشکری کے سنگ میں بھی دیکھا گیا اور کبھی وقت کی تیز آنکھ نے اسے اسلامی لشکر کے سالار اعلی کی حیثیت سے بھی دیکھا ۔
مشہور امریکی مؤرخ ہئیر لڈیم اس کے متعلق لکھتا ہے ۔
اسے اپنے سوا کسی پر اعتبار نہ تھا اس لیے وہ بھیس بدل کر خود گشت لگاتا اور اپنے لیے خود ہی دشمنوں کی مخبری کرتا تھا ۔ وہ اپنے ہم پیالہ ، ہم نوالہ ساتھیوں کو چھوڑ کر تنہا نکل جاتا۔ کبھی اسے مصر میں دیکھا جاتا اور کبھی وہ دوسرے دن فلسطین میں نمودار ہوتا ۔ چار دن بعد لوگ اسے عرب کے ریگزاروں میں دیکھتے اور اس کے چند دن بعد وہ خانہ بدوشوں کی سی تیز رفتاری کسی دوسری جگہ لوگوں کو دکھائی دیتا ۔
جن دنوں وہ عالم اسلام کا سلطان بنا ان دنوں منگولوں نے مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر ان کے بیشتر علاقوں کو تباہ و برباد کر دیا تھا اور ہلاکو خان مسلمانوں کے علاقوں میں دندناتا پھرتا تھا ۔
ایک بار ایک منگول مغنی کے بھیس میں وه اکیلا و تنہا ہلاکو کی سلطنت میں داخل ہوا اور قریہ قریہ چل پھر کہ جاسوسی کرتا رہا ، چونکہ وہ مختلف زبانوں پر عبور رکھتا تھا اور جاسوسی میں بھی مہارت کا حامل تھا اس لیے کسی کو شک نہ ہوا کہ وہ مسلمان ہے یا مسلمانوں کا سلطان ... !
ایک دن اس نے منگولوں کے ایک شہر میں ایک دکان میں کھانا کھایا اور اپنی انگوٹھی جان بوجھ کر ایک محفوظ جگہ پر رکھ آیا ، اس کے بعد وہ اپنے علاقے میں آ گیا اور ایک قاصد بھیج کر ہلاکو خان کو کہلایا۔
              ٫٫ میں تمہاری مملکت میں حالات کا معائنہ کرنے
                 فلاں فلاں جگہ گیا تھا ۔ فلاں شہر میں فلاں
                 دکان پر اپنی شاہی انگوٹھی بھول آیا ہوں
                 مہربانی کر کے وہ انگوٹھی تلاش کر کے مجھے
                 مجھے بھجوا دو کیونکہ وہ انگوٹھی مجھے
                 بے حد عزیز ہے ۔ ،،
ہلاکوں خان مسلمانوں کے سلطان کی اس جرأت اور جسارت پر ششدر رہ گیا اور وه اس کی دلیری سے ایسا مرعوب ہوا کہ اس کی انگوٹھی تلاش کر کے اس کی طرف بھیجوا دی ۔ منگولوں کو جب خبر ہوئی کہ مسلمانوں کا سلطان خود بھیس بدل کر ان کے علاقوں میں داخل ہوا تھا تو ان پر سلطان کی ہمت و شجاعت کی وجہ سے ایک دہشت اور خوف طاری ہو گیا تھا اور وه سوچنے لگے تھے کہ جس سلطنت کا حکمران اس قدر جری و جرأت مند ہو اس کے لشکریوں کا کیا عالم ہوگا اور ہم اس کا مقابلہ کیسے کریں گے ۔
ان دنوں کیونکہ بحیره روم کے ساتھ ساتھ مغرب کے صلیبیوں نے اپنے بڑے بڑے اڈے بنا لیے تھے جہاں سے نکل کر وه مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ کی ابتداء کرتے تھے ۔ ان میں زیاده نامور انطاکیہ کا حاکم بوہمینڈ تھا ۔ سلطان ایک مرتبہ ایک نصرانی زائر کا بھیس بدل کر صلیبیوں کے مقبوضہ علاقوں میں جا داخل ہوا اور کئی ماہ تک ان کے عسکری استحکامات ، قلعوں اور دوسرے کئی مقامات کا جائزہ لیتا رہا۔ وہ تقریباً بائیںس ایسے قلعے دیکھنے میں کامیاب ہو گیا جو ان دنوں صليبيوں کی عسکری قوت کا مرکز تھے اور یہ سارا کام اس نے تن تنہا کیا اور اس کے بعد اس نے ایک عجیب ستم ظریفی کی۔
اس نے ایک قاصد اور ایلچی کا روپ بدلا اور جنگل میں ایک ہرن کا شکار کر کے وہ ہرن لے کر انطاکیہ کے بادشاہ بوہیمینڈ کے دربار میں حاضر ہوا اور اسے وہ شکار پیش کر کے کہنے لگا۔
                ٫٫ عالی جاه ! مجھے مصر کے سلطان " الملک الظاہر "
                   نے بھیجا ہے ، پتا چلا ہے کیونکہ آپ شکار کا بہت
                   شوق رکھتے ہیں اور ان دنوں شکار کے قابل نہیں
                   لٰہذا انہوں نے یہ تازه شکار بطور ہدیہ بھیجا ہے ۔
                   اسے قبول فرمائیے۔ میرے آقا آپ کے شکر گزار
                   ہوں گے ،، ۔
سلطان جب گفتگو کرنے اور شمار بادشاه انطاکیہ کے حوالے کرنے کے بعد وہاں سے نکل گیا تو چند دن بعد انطاکیہ کے بادشاہ پر کسی نے انکشاف کیا کہ جو شخص تمہارے پاس ہرن کا شکار لے کر آیا تھا وہی مسلمانوں کا سلطان تھا۔
اس انکشاف پر نصرانیوں کے بادشاہ بوہیمنڈ پر خوف اور لرزه طاری ہو گیا تھا۔
ایسے ناقابل یقین معرکے سرانجام دینے اور عین الجالوت پر پہلی بار منگولوں کو عبرت ناک شکست دے کر، مسلمانوں پر اپنی دہشت کا سکہ جمانے والے منگولوں کو سربازار گھما کر ذلت و رسوائی عطا کر کے مسلمانوں کے قلوب سے منگولوں کے خوف و دہشت کا غلبہ زائل کرنے والی اس  نادر و نایاب اور جاہ و جلال کی سے مزین  ہستی کا نام " رکن الدین بیبرس " تھا۔
رکن الدین بیبرس منگولوں کی فتوحات اور مسلمانوں پر مظالم ڈھا کر اپنی دہشت کا سکہ جما کر حکومت کرنے والے ہلاکو خان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ ، 
٫٫ وقت آنے پر ہم ان کو بتا دیں گے کہ اللہ کیلئے لڑنے والے کبھی شکست تسلیم نہیں کیا کرتے ،، ۔
اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ سلطان رکن الدین بیبرس اپنے قول و قرار کا کس قدر پاسدار تھا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
باوجود اس کے ، کہ دیگر نامور اسلامی شخصیات کی طرح تاریخ سے اس ذہین و فطین اور دلیر و بے باک ہستی کے نقوش بھی ایک منظم سوچ و سازش کے تحت بڑی سنگ دلی ، مہارت اور عیاری سے ممکنہ حد تک مٹا دئیے گئے لیکن کچھ مدھم نقوش ابھی بھی سلامت ہیں ،
لیکن اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم عشق ، محبت اور شادی بیاہ کی کہانیوں کے دلدادہ ہیں اور جو اصل اثاثہ ہیں ان کو بڑی ہی خود غرضانہ سفاکی سے فراموش کر رکھا ہے ہم نے.....

تحفظ والدین آرڈیننس 2021





 *صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی/آرڈیننس*


صدر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت تحفظ والدین آرڈیننس 2021 جاری کردیا


آرڈیننس کا مقصد بچوں کی جانب سے والدین کو زبردستی گھروں سے نکالنے کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے


آرڈیننس کے تحت والدین کو گھروں سے نکالنا قابل سزا جرم ہوگا


والدین کو گھروں سے نکالنے پر ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی


گھر بچوں کی ملکیت ہونے یا کرائے پر ہونے کی صورت میں بھی بھی والدین کو نہیں نکالا جاسکے گا


گھر والدین کی ملکیت ہونے کی صورت میں والدین کو بچوں کو گھر سے نکالنے کا اختیار ہوگا

وال
ین کے بچوں کو تحریری نوٹس دینے کی صورت میں گھر خالی کرنا لازمی ہوگا

وقت پر گھر خالی نہ کرنے کی صورت میں 30 دن تک جیل، جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا اطلاق ہوگا

بچوں کی جانب سے گھر نہ چھوڑنے کی صورت ضلعی ڈپٹی کمشنر کو کاروائی کا اختیار ہوگا


ضلعی ڈپٹی کمشنر والدین کی جانب سے شکایت پر کاروائی کا مجاز ہوگا


والدین کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر پولیس کو بغیر وارنٹ گرفتاری کا اختیار ہوگا


آرڈیننس کے تحت گرفتار افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا


آرڈیننس کے تحت والدین اور بچوں کو اپیل کا حق حاصل ہوگا


***

جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ

  جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معم...