Friday, June 10, 2022
وکیل بننا کیوں مشکل ہے؟
وکیل بننا کیوں مشکل ہے؟
وکالت کے پیشے میں کچھ خامیاں کیا ہیں؟
لا اسکول مہنگا ہے۔ اس پر آپ کو پاکستان یا طلباء کے قرضوں میں ضرورت سے زیادہ لاگت آئے گی۔
وکلاء کی بھرمار ہے۔ ملازمتوں سے کہیں زیادہ لاء اسکول کے فارغ التحصیل ہیں۔
زیادہ تر وکلاء زیادہ پیسہ نہیں کماتے ہیں۔ اعدادوشمار اوسط بتاتے ہیں لیکن وہ اعدادوشمار ناقص ہیں۔ کچھ وکلاء بہت زیادہ یا اس سے زیادہ کماتے ہیں کیونکہ وہ بڑے کاروباری لوگ ہیں۔ زیادہ تر وکلاء اس سے کہیں کم کماتے ہیں۔
پیشہ انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔ وکلاء لمبے گھنٹے کام کرتے ہیں اور بلنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زبردست دباؤ میں رہتے ہیں۔
زیادہ تر کام بورنگ، مشقت کا ہوتا ہے۔ ٹی وی شوز اور فلمیں اس بارے میں بہت دھوکہ دیتی ہیں کہ وکلاء اصل میں کیا کرتے ہیں۔
وکلاء کو لوگ زیادہ عزت نہیں دیتے۔ آپ ان کلائنٹس کے ساتھ معاملہ کریں گے جو اس حقیقت سے ناراض ہیں کہ انہیں ایک وکیل کی خدمات حاصل کرنی ہیں۔
#TanoliLawAssociates
@SindhLawyers
Friday, August 13, 2021
Sindh High Court Chief Justice Ahmed Ali Shaikh has again refused to attend sittings of the Supreme Court as an ad hoc Judge
Sindh High Court Chief Justice Ahmed Ali Shaikh has again refused to attend sittings of the Supreme Court as an ad hoc judge, saying he is humbled by the offer of the Judicial Commission of Pakistan (JCP), but his answer is similar as earlier.
The SHC chief justice had through his Aug 5
letter to the JCP dispelled an impression that he had ever accorded his consent
to become an ad hoc judge of the Supreme Court. However, he had said he would
have no objection if he was appointed or elevated to the Supreme Court as a
permanent judge.
A source privy to the development told that
the SHC chief justice communicated to all the JCP members that he had learnt
about the commission’s decision for which he was humbled, but his answer would
remain the same as he had stated earlier.
Thus the matter is closed for all times to
come, commented a senior counsel on condition of anonymity, adding that turning
down the offer carried no consequences as Justice Shaikh would continue to
remain as the SHC chief justice. Had he accepted the offer, he would have still
been the chief justice and in his place the senior puisine judge of the SHC
would have served as acting chief justice of the high court, the counsel said.
In a written argument before the JCP,
Attorney General for Pakistan (AGP) Khalid Jawed Khan had earnestly requested
Justice Shaikh to reconsider his stance in the interest of the people of Sindh
and the institution of the SHC, which “we all love and cherish”, and accept the
JCP decision.
The JCP at a meeting on Tuesday, presided
over by Chief Justice of Pakistan (CJP) Gulzar Ahmed, had decided by a majority
of five to four that the SHC chief justice would be invited to become an ad hoc
judge of the Supreme Court for a period of one year provided he accorded his
consent.
CJP Gulzar, who was present at a seminar on
minority rights at a hotel here on Wednesday, said he had no idea when media
persons asked him whether or not the SHC chief justice had consented to become
an ad hoc judge of the Supreme Court.
Meanwhile, Pakistan Bar Council vice chairman
Khush Dil Khan has strongly condemned the nomination of Justice Shaikh as an ad
hoc judge of the apex court, without his consent, by the JCP at its Tuesday
meeting, after he had expressed his unwillingness to become an ad hoc judge.
He said it was a violation of Article 182 of
the Constitution as the high court chief justice could not be appointed as an
ad hoc judge of the Supreme Court. Only a retired judge of the apex court or
high court could be appointed as an ad hoc judge of the apex court, he
contended.
Khush dil Khan expressed his surprise that on
July 28 the SHC chief justice was not competent to be elevated as a judge of
the Supreme Court, but after two weeks he became eligible and competent for
appointment as an ad hoc judge of the apex court. He said the legal fraternity
felt that a bad constitutional precedent was being set through this ad hoc
appointment which would further weaken the judicial system in the country.
Wednesday, August 4, 2021
Karachi Bar Association Condemnation
ڪراچي بار ايسوسيئيشن پاران نامياري قانوندان اڳوڻو جج سينئر ايڊوڪيٽ شاهد حسين سومرو حمايت ۽ سپورٽ جو اعلان،
ايشيا جي سڀ کان وڏي بار ڪراچي بار ايسوسيئيشن پاران ناليواري قانوندان شاهد حسين سومرو جي حق ۾ قرارداد پيش ڪري ورتي، قرارداد ۾ چيو ويو آهي ته شاهد حسين سومرو ايماندار جج ٿي رهيو آهي ۽ هڪ ايماندار وڪيل آهي، ان خلاف پيپلزپارٽي جي جنرل سيڪريٽري سردار ذوالفقار ڪماريو ۽ ان جي مافيا ٽيم پاران ڪوڙي پٽيشن داخل ڪرائي ان خلاف ڪوڙ جي بنياد تي پروپئگنڊا ڪئي پئي وڃي جنهن جي سخت لفظن ۾ مذمت ڪيون ٿا، قرارداد ۾ پيپلزپارٽي ضلع شڪارپور جي جنرل سيڪريٽري سردار ذوالفقار کي عهدي تان هٽائڻ جو پڻ مطالبو ڪيو ويو آهي، بار ايسوسيئيشن پاران شاهد حسين سومرو لاءِ پاڪستان جي پوري ليگل فيئٽرنٽي کي درخواست ڪئي آهي ته شاهد حسين سومرو جي حمايت ۽ سپورٽ ڪئي وڃي، جڏهن ته اهڙي قرارداد جي پريس رليز پڻ جاري ڪئي وئي آهي،
Shahid Hussain Soomro Sir ❤❤❤✌
#SindhLawyers
#KarachiBarAssociation

x
Monday, July 19, 2021
Supreme Court Decision 2021
سپریم کورٹ نے فوجیوں کو زمین کی الاٹمنٹ غیر آئینی قرار دے دی؛
ججوں کو بھی زمین کی الاٹمنٹ غیر قانونی ہے-
آئین و قانون ججوں اور افواج پاکستان کو (سرکاری) اراضی لینے کا حق نہیں دیتا؛
بری، بحری یا فضائی افواج اور ان کے ماتحت کوئی بھی فورس رہائشی، زرعی یا کمرشل زمین لینے کا حق نہیں رکھتی:
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ایک اور تاریخ ساز فیصلہ
سپریم کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی جانب سے زمین حاصل کرنے کے معاملہ پر فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں منظور کر لیں۔
فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا زمین حاصل کرنے کا اختیار ختم کر دیا تھا۔
عدالت میں مختصر فیصلہ جسٹس مشیر عالم نے سنایا۔
90 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 27 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی شامل ہے؛
جس میں انہوں نے آبزرویشن دی ہے کہ ملک کا آئین اور کوئی بھی قانون ججوں اور افواج پاکستان کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ زمین لیں اور کوئی بھی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ چیف جسٹسز اور جج صاحبان زمین لینے کے حقدار ہیں۔
انہوں نے اپنے اضافی نوٹ میں مزید کہا کہ حکومت کا جج صاحبان کو پلاٹس دینا ان کو نوازنے کے مترادف ہے، عوام کی نظروں میں جج صاحبان کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لئے خودمختار عدلیہ انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ زمین کے حصول کی تین شرائط ہیں؛
پہلی شرط زمین عوامی مقصد کے لئے حاصل کرنا
دوسری شرط کے مطابق زمین کے حصول کا قانون ہونا چاہئے اور
تیسری شرط یہ ہے کہ قانون میں زمین حاصل کرنے کے لئے معاوضہ دیا جانا چاہئے ۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک عوامی فلاح کے لئے زمین حاصل کرنے کا سوال ہے تو یہاں آئین خاموش ہے؛
معیاری رہن سہن زندگی کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے-
یہ عوامل ثابت کرتے ہیں کہ عوامی مقصد کے لیے ہاؤسنگ سکیم بنائی جا سکتی ہے-
اگر زمین مالکان معاوضے سے مطمئن نہ ہوں تو وہ متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا حق رکھتے ہیں؛
کوئی وکیل یا سرکاری ملازم ایک پلاٹ سے زیادہ پلاٹ لینے کا حقدار نہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ کسی مخصوص قانون کو شامل کئے بغیر وزیراعظم سمیت کوئی بھی اپنے صوابدیدی اختیار استعمال کرکے کسی کو پلاٹ نہیں دے سکتا-
کم آمدنی والے سرکاری ملازمین اور جونیئر افسران کے لئے کم قیمت پلاٹ دستیاب ہونے چاہئیں؛
بری، بحری اور فضائی افواج یا ان کے ماتحت کوئی بھی فورس رہائشی، زرعی یا کمرشل زمین لینے کا حق نہیں رکھتی۔
انہوں نے اپنے اضافی نوٹس میں جنرل گریسی اور ایوب خان کا واقعہ بھی تحریر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
"جب جنرل گریسی پاکستانی فوج کو کمان کر رہے تھے تو ایوب خان نے پلاٹ لینے کی درخواست کی تھی، اس وقت کے آرمی چیف جنرل گریسی نے ایوب خان کو پلاٹ دینے سے انکار کر دیا تھا؛
حیران کن طور پر ایک برطانوی افسر نے اس ملک کی زمین کو اسی دھرتی کے سپوت سے بچایا" -
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق شجاع نواز نے اپنی کتاب میں لکھا کہ" فوج اور سول بیوروکریسی میں ایک سے زائد پلاٹس کا کلچر عام ہے؛
گزرتے وقت کے ساتھ فوج میں ایسی “سویٹ ہارٹ” ڈیلز کو قابلِ قبول بنایا گیا"۔
انہوں نے لکھا کہ آئین کے تحت سرکاری سول اور فوجی ملازمین مساوی حیثیت رکھتے ہیں؛
سول سرونٹس 60 سال، ہائیکورٹس کے چیف جسٹس 62 سال کی عمر میں ریٹائر ہوتے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور جج صاحبان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے۔
جسٹس فائزعیسیٰ نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ
"اگر ججوں کے پاس رہنے کے لئے جگہ نہیں تو انہیں زندگی گزارنے کے لیے معقول پینشن دی جاتی ہے؛
مالی سال 2020-21 کیلئے پنشن کی مد میں 4 کھرب 70 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں-
ایک کھرب 11 ارب روپے سرکاری ملازمین کی پنشن کیلئے مختص کئے گئے ہیں؛
جبکہ 3 کھرب 59 ارب روپے سے زائد کی رقم افواج پاکستان کے ریٹائرڈ افسران اور اہلکاروں کیلئے رکھی گئی ہے۔
اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ "پنشن کی مد میں ادا ہونے ہونے والی رقم سویلین حکومت چلانے کے اخراجات کے تقریباً مساوی ہے؛
حکومت بیرون ممالک سے قرض لے کر خسارہ بڑھا رہی ہے-
رواں مالی سال میں 29 کھرب 46 ارب روپے سے زائد کی رقم قرض کی صورت میں ادا ہونی ہے-
وہ بچے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے، اور وہ بجے جو ابھی پیدا ہونے ہیں ان کے بچے بھی غربت کا شکار ہوں گے؛
پاکستان کا فوجی اور عدالتی نظام برطانوی طرز پر قائم ہے"۔
اضافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ "بیشتر پاکستانیوں کو بنیادی رہائش کی سہولت تک میسر نہیں؛
قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ غریبوں اور ناداروں کی مدد کی جائے، ملک کی زمین اشرافیہ میں تقسیم کرنا قرآن کے اصول کی نفی ہے"۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت جاری کی کہ اس فیصلے کی کاپی اردو زبان میں بھی جاری کی جائے - ۔
انہوں نے اپنا اضافی نوٹ پیمرا کو بھجوا کر ٹی وی چینلز پر نشر کرنے کی ہدایت کی ہے۔
#SindhLawyers
Wednesday, July 7, 2021
Domestic Violence Bill
![]() |
| #Say_No_to_DOMESTIC_VIOLENCE |
حکومت نے فیملز اور بچوں کے حوالے سے ایک قانون پاس کیا اس قانون کا نام "ڈومیسٹک وائلینس بل" رکھا یہ ایک بالکل سادہ سا قانون ہے جس میں خواتین پر گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیئے یہ بل بنایا گیا اور پاس کیا گیا۔ لیکن پروپیگنڈا کرنے والوں نے اپنی ازلی بیغرتی دکھاتے ہوئے اس بل کو اسلام کے خلاف قرار دیا- اور اپنے فتوے گھڑنا شروع کردیے-
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈومیسٹک وائلینس بل کیا ہے ؟؟ تو اس پر ہم تھوڑی سی ٹارچ سے روشنی ڈالتے ہیں اس کے بعد فیصلہ آپ خود کریں کہ یہ اسلام کے خلاف کیسے ہے؟؟
"Domestic Violence. - Domestic Violence shall mean all acts of physical, emotional, psychological, sexual and economic abuse committed by a respondent against women, children, vulnerable persons, or any other person with whom the respondent is or
has been in a domestic relationship that causes fear, physical or psychological harm to the aggrieved person"
پروپیگنڈا کرنے والوں کے لیئے اردو ترجمہ
ڈومیسٹک وائلینس سے مراد ہے کہ کسی عورت، بچے یا کسی کمزور ( بوڑھے ماں باپ) پر فزیکل، ایموشنل، سایئکالوجیکل ، سیکسویئل اور اکنامک ابیوز کا استعمال ہے- جس کی وجہ سے اس شخص کے اندر ڈر پیدا ہو یا پھر اس سے فزیکلی یا سایئکولوجیکلی نقصان پہنچے- یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ ملزم رہتا ہو یا ڈومیسٹک رشتہ داری میں منسلک ہو-
اسی بل میں آگے چل کر فزیکل، ایموشنل، سایئکالوجیکل ، سیکسویئل اور اکنامک ابیوز کی وضاحت کچھ اس طرح کی جاتی ہے--
فزیکل ابیوز : فزیکل ابیوز سے مراد ہے خواتین ، بچوں یا کمزور پر تشدد کرنا اور تشدد کرکے اس کو نقصان پہنچانا یا ان پر کسی ایسے جرم کا ارتکاب کرنا جن کا ذکر پی پی سی سیکشن 16، 16 اے، 17، 20 اور 20 اے میں زکر کیا گیا ہے
ایموشنل اور سایئکالوجیکل ابیوز: سایئکالوجیکل ابیوز سے مراد ہوتا ہے سامنے والے پر جان بوجھ کر ایسے الفاظ کا مسلسل استعمال کیا جائے جس کی وجہ سے اس کو "جان بوجھ" کر کمزور کیا جائے ، اس کی رائے بدلی جائے، اس کو اندر سے زخمی کیا جائے یا اس کو ڈرا کر کوئی کام کروایا جائے- اس میں سب سے کامن کیس 2 ہیں جو کہ عدالتوں میں آتے ہیں
1- بیٹیوں کو ڈرا کر یا ایموشنل بلیک میل کرکے ان کے نام کی جائیداد اپنے نام کروالی جاتی ہے
2- دوسرا کیس یہ آتا ہے کہ لڑکیوں کی مرضی کے بغیر ان پر پریشر ڈال کر یا ان کو ایموشنل بلیک میل کرکے ان کی شادی کردی جاتی ہے اور اس سے دو خاندان تباہ ہوجاتے ہیں- اسی دوسری وجہ سے آج طلاق کی ریشو اس قدر بڑھ چکی ہے کہ آپ کی سوچ ہے لیکن کسی پروپیگنڈا کرنے والے سے پوچھیں تو وہ آپ کو اس کی وجہ میڈیا کی بے حیائی اور سوشل میڈیا کا استعمال بتائے گا- یہ حق اللہ نے ان کو دیا ہے تو والدین کو ان کی مرضی کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے-
اس بل میں ایموشنل اور سایئکالوجیکل ابیوز کے تحت جو چیزیں بیان کی گئی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں-
1- صاحب اختیار کی جانب سے جنونیت کی وجہ سے بار بار وکٹم کی پرایئویسی میں دخل دینا جس کی وجہ سے اس کی سالمیت، آزادی اور سیکورٹی کو خطرہ پہنچے-- (یہ سالمیت، آزادی اور سیکورٹی قانون کے مطابق ہے جو کہ قانون ان کو دیتا ہے اس کا مطلب بوائے فرینڈ کی آزادی نہیں ہے جس کو پروپیگنڈا کرنے والے اس وقت پکڑ کر وین کررہے)
2- کمزور شخص کو بار بار بے عزت کرنا یا تضحیک کرنا-- (کمزور شخص سے مراد یہاں بوڑھے ماں باپ ہیں)
3- بیوی یا گھر میں موجود خواتین کو جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا- ( یہ مدرسہ یا سکول نہیں کہ جہاں تمہیں سوئی گیس کے پائپوں سے تشدد لال کی جاتی ہیں- یہ گھر ہے )
4- اپنی بیوی کو بانجھ پن اور پاگل پن کاجھوٹا الزام لگا کر اس کو دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی دینا-
5- گھر میں موجود کسی خاتون کے کریکٹر پر کوئی جھوٹا الزام لگانا- (جو کہ بعد میں غیرت کے نام پر قتل کا باعث بنتا ہے)
6- جان بوجھ کر یا پوری طرح سے عورت، بچے، یا کمزور سے دستبرداری اختیار کرنا ( اگر یہاں عورت کا مطلب بیوی ہے تو اس کا مطلب ہے کچھ لوگ شادی کرکے عورت کے ساتھ حق زوجگی ادا نہیں کرتے اور پھر بعد میں اس کو طلاق دے دیتے ہیں یوں اس عورت کی زندگی برباد ہوجاتی ہے مرد دوسری شادی کرلیتا ہے لیکن عورت پر طلاق کا ٹھپہ لگ جاتا ہے۔اور عورت ساری عمر کچھ نہ کرکے بھی سزا بھگتتی ہے۔۔)
7- ڈنڈے سے مارنا،
8- ہیراسمینٹ کرنا ( کسی غلط کام کو کرنے پر ڈانٹنے کو ہیراسمینٹ نہیں کہتے۔۔ بلکہ عورت کو بلیک میل کرکے اس سے غلط کام کرنے کی خواہش کرنا جس سے عورت کمفرٹیبل فیل نہ ہو اس کو ہیراسمینٹ کہتے ہیں۔عدالت میں جب کیس چلے گا تو ایویں ہی الزام لگانے پر سزا نہیں مل جائے گی تحقیقات کے بعد ہی ملزم کا کلیئر ہوگا)
9- بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی اور مرد کے ساتھ تعلقات بنانے پر مجبور کرنا-
یہ سب ایموشنل اور سایئکالوجیکل ابیوز کے زمرے میں آتا ہے جو اس وقت اس کو لیکر بھڑکیں مار رہے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی ان شقوں کی بیک گراؤنڈ کا علم نہیں یہ ان شقوں کی بیک گراؤنڈ کو سمجھے بغیر منہ پھاڑے بوائے فرینڈ کو لیکر بکواس کرتے پائے جارہے ہیں-جس کا دور دور تک اس میں کہیں ذکر نہیں ہے۔ ان پر وہ کہاوت لاگو ہوتی ہے کہ ملا کی دوڑ مسیت تک- اور یہ خنجر انگلش میں لکھے ایک بل کو ہاتھ ڈال رہے ہیں۔
سیکسویئلی ابیوز: سیکسویئلی ابیوز سے مراد یہاں زیادتی کرنا یا اپنے ساتھ غلط کام کرنے پر مجبور کرنا ہے
اکنامک ابیوز: اکنامک ابیوز سے مراد یہ ہے کہ کسی فیمل یا بچے کو اس کے فنانشنل حق سے محروم کرنا ہے جس میں بیٹیوں کے حصے پر قابض ہونا یا پھر بیٹیوں کو تعلیم نہ دلوانا لیکن بیٹوں کو تعلیم حاصل کروانا شامل ہے یعنی بیٹی کا حق مارنا-
اب اپنے ایمان سے بتایئں اس بل میں جس کو لیکر یہ پروپیگنڈا کرنے والے کپڑے پھاڑ کر وین کررہے-- اور اس کو اسلام کے خلاف اور فیملی لائف تباہ کرنے کا ذمہ دار قرار دے رہے اس میں کونسی ایسی شق ہے جس سے فیملی لائف تباہ ہوجائے گی اور کونسی ایسی شق ہے جو کہ اسلام کے خلاف ہے- کاپی پیسٹر کاپی پیسٹ کرکے 2 دن سے مرنے والے ہوئے پڑے کہ اخے اسلام دشمن بل پاس کردیا-
Thursday, July 1, 2021
انسان کیا ہے اور کیا کر رہا ہے....
____انسان کیا ہے۔؟۔اور کیا کر رہا ہے____
بحیثیت اشرف المخلوقات،بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان مجھے اپنے کردار پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اس دنیا میں،میں کیوں آیا ہوں،دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے اس مقصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہمارے مذہب اسلام میں مسلمان کو مومن(مرد و عورت)سے تشبیع دی گئی ہے اور مومن اس کو کہتے ہیں جو اللہ کی طرف سے دی گئ،ہر مشکلات و سختی کو صبر و تحمل سے برداشت کرتا ہے اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔اللہ تعالی نے ہماری زندگی کو دو زاویوں میں تقسیم کیا ہے ایک زاویے میں آسانیاں دی ہیں اور ایک زاویے میں مشکلات دی ہیں۔ان دونوں زاویوں میں اللہ مومن سے امتحان لے رہا ہے۔
ایک کو دے کر اور ایک کو نا دے کر،یہ میرے اللہ کی تقسیم ہے اور اللہ کی تقسیم پر مومن ہر حال میں خوش رہتا ہے۔ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں اور کچھ لوگ بڑے بڑے بنگلوں بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر زندگی کا لطف دوبالا کر رہے ہیں۔یہاں پر زندگی مزید تقسیم میں چلی جاتی ہے اور مختلف زاویوں میں انسان بٹ جاتے ہیں۔کیونکہ اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔یعنی اپنا نائب،،،سوچ دی ہے۔اچھے برے میں تمیز دی ہے اور سب سے بڑھ کر اللہ نے کچھ چیزیں انسان کے دائرہ اختیار میں دی ہیں۔مگر ان اختیارات کی کچھ حدو و قیود مقرر کردی ہیں۔اگر انسان اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود سے باہر نکل کر اپنے اختیارات استعمال کرے گا تو وہ اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرے گا اور جو مومن اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرے گا،تو پھر وہ مومن نہیں رہتا،
میرے معزز ناظرین آپ کو یہ سب کچھ سمجھانے کا ایک مقصد ہے۔مقصدکیا ہے کہ ہم دنیا میں ایک مختصر سی زندگی لے کر آئے ہیں۔اور اس زندگی میں ہم نے بہت کچھ پانا ہے اور بہت کھونا ہے۔بادشاہ بھی بننا ہے گدھا بھی بننا ہے۔ظالم بھی بننا ہے مظلوم بھی بننا ہے یہ آپ کو بھی نہیں پتہ کہ آپ نے کیا کچھ بننا ہے۔لیکن زندگی کا نقطہ ایک ہی ہے بس۔۔۔۔۔۔کہ
خودی کو تو کر بلند اتنا کہ خدا بندے سے پوچھے بول تیری رضا کیا ہے۔۔۔۔
معزز ناظرین۔اب میں معرفت سے ہٹ کر سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کرنے لگا ہوں۔کیونکہ معرفت ایک سمندر ہے جس کا دوسرا کنارہ ہمارے سوچ سے بھی دور ہے۔خیر اب میں دنیا داروں میں رہے کر اور دنیادار بن کر بات کرونگا،جس میں کچھ لوگوں کو تکلیف ہوگی اور کچھ لوگ انجوائے کریں گے۔۔کیونکہ کہ یہ ہمارا ایک فطری عمل ہے۔کیونکہ جس نقطہ پر ہماری سوچ ایڈجیسمنٹ کر لیتی ہے۔وہ ہمارے لئے باعث مسرت ہے اور جس نقطہ پر ایڈجیسمنٹ نہیں کرتی وہ ہمارے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔بہرحال یہ ہر آدمی کا اپنا طرز سوچ ہے۔کیونکہ سوچ میں مفادات کا تعلق بہت گہرا ہوتا ہے یہ الگ بحث ہے کہ آپ کے مفادات کس نوعیت کے ہیں۔
معزز ناظرین کافی دن سے میں سوشل میڈیا،ٹیوٹر نیوز اور اپنے اردگرد مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا بحث و مباحثہ سن رہا ہوں،اور ان کی طرز سوچ کا بھی جائزہ لے رہا ہوں۔اس سارے بحث و مباحثہ سے جو چیز میں نے اخذ کی ہے۔۔۔وہ یہ کہ ہمیں ہمیں اپنے ملک کا حکومتی نظام عدالتی نظام اور بیوروکریسی نظام کو ختم کرکے ،عوامی نظام نافزالعمل کردیا جائے۔کیونکہ ہمارے ملک میں ہر دوسرا انسان وکیل بھی ہے اور جج بھی ہے۔مختلف دکانوں،چوراہوں،بیٹھکوں اور دفاتر میں بیٹھ کر ہمارے ملک کے ذہین لوگ فیصلہ سازی کے ساتھ ساتھ حتمی فیصلے بھی ایک دوسرے پر صادر کر رہے ہیں ہمارے ملک میں ہر دوسرا انسان معیشیت دان بھی ہے تو پھر کیوں ہم بھاری بھرکم تنخوائیں دے کر باہر سے معیشیت دان منگوا رہے ہیں،ماشاءاللہ ہمارے ملک کی عوام اتنی ذہین ہے کہ ایک گھنٹے میں معیشیت کو ناکام بھی کر رہی ہے اور پورا قرض بھی اتار رہی ہے
یقین کریں میرا بس میں ہوتا تو میں ایک ایک پاکستانی کو ذہانت ایوارڈ سے نوازتا،
گوروں کی ایسی کی تیسی کہ وہ ہمارے ملک اسلامی مملکت پاکستان کی غیور عوام کا مقابلہ کرسکیں۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہم اپنے گھر کا بجٹ تشکیل نہیں دے پاتے۔۔مگر ملکی معاملات کو حل کرنے میں ہم الحمد للہ بہت ماہر ہیں۔۔۔۔ہم پاکستانیوں میں ایک اور خوبی بھی سب ملکوں کے باشندوں سے ہٹ کر ہے،وہ خوبی کیا ہے کہ ہم جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ میں بدلنے کی تو پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ۔۔۔ماشاءاللہ ہماری اس مہارت سے تو گورے کوسوں دور ہیں۔سنی سنائی باتوں کو پھیلانا ان کو سن کر ان کو سنا کر ہمیں تسکین دل حاصل ہوتی ہے۔بھاڑ میں جائے تحقیق اتنا تو ہم پاکستانیوں کے پاس ٹائم ہی نہیں ہے۔۔۔
ہم پاکستانی شیردل لوگ چور اچکوں،کرپشن زدہ اور بھگوڑیوں کو اپنا لیڈر ماننے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ہمیں کیا ضرورت ہے،اچھے لوگوں کے پیچھے بھاگیں۔۔ اس سے ہمیں کیا فائدہ ایسے لوگ تو ریاست کو فائدہ دیتے ہیں۔اور ریاست سے زیادہ ہمیں سیاست عزیز ہے۔ریاست نے ہمیں کیا دیا ہے۔۔۔؟۔
ریاست کے دشمن ہم پاکستانی عوام کے دوست،اداروں پر ہم حملے کرنے سے زرہ بھی نہیں گبھراتے بلکہ فخر محسوس کرتے ہیں۔اربوں کی کرپشن کرنے والوں پر پھول پھیکنا ہمارے لئے اعزاز ہے۔ضمیر نام کی چیز سے تو ہم واقف ہی نہیں ہیں۔ہماری عزت و نفس یہاں تک کہ پوری دنیا میں ریاست کی جگ ہنسائی ہو۔ ہمیں غرض نہیں۔۔بس ہماری جیب بھر جائے۔
کرپشن سے ہمارا__یارانہ ہے۔
چوروں کو ہم نے چھڑانا ہے۔
نیازی۔شریف زرداری کی اولادوں کو لانا ہے۔
ان کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھانا ہے۔
ملک کے سکیورٹی اداروں کو دنیا میں بدنام کروانا ہے۔
ہم نے ساری زندگی ایسے ہی کیڑے مکوڑوں کی طرح رہنا ہے۔
ہمیں ریاست سے کیا غرض،ہم نے جاہلانا رویہ اپنانا ہے۔
کیونکہ ہماری سوچ ایک غلامانہ ہے۔۔۔۔
اللہ تعالی ہمارے ملک کی عوام کو عقل تسلیم دے۔۔۔ آمین
#SindhLawyers.
#Tanoli_Law_Associates.
#Karachi....
جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ
جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معم...
-
پاکستان کے آئین کے حوالے سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تناظر میں مذہبی آزادی کے حق کی توہین کی قانونی حیثیت پاکستان کے آئین کے آرٹ...
-
لاہور کی خصوصی عدالت نے 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی ضمانت قبل ...
-
جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معم...



