Monday, July 19, 2021

Supreme Court Decision 2021

 

SindhLawyers



سپریم کورٹ نے فوجیوں کو زمین کی الاٹمنٹ غیر آئینی قرار دے دی؛ 

ججوں کو بھی زمین کی الاٹمنٹ غیر قانونی ہے-


آئین و قانون ججوں اور افواج پاکستان کو (سرکاری) اراضی لینے کا حق نہیں دیتا؛

بری، بحری یا فضائی افواج اور ان کے ماتحت کوئی بھی فورس رہائشی، زرعی یا کمرشل زمین لینے کا حق نہیں رکھتی:


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ایک اور تاریخ ساز فیصلہ 


سپریم کورٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی جانب سے زمین حاصل کرنے کے معاملہ پر فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں منظور کر لیں۔


فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں۔


اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا زمین حاصل کرنے کا اختیار ختم کر دیا تھا۔


عدالت میں مختصر فیصلہ جسٹس مشیر عالم نے سنایا۔

90 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 27 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی شامل ہے؛

جس میں انہوں نے آبزرویشن دی ہے کہ ملک کا آئین اور کوئی بھی قانون ججوں اور افواج پاکستان کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ زمین لیں اور کوئی بھی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ چیف جسٹسز اور جج صاحبان زمین لینے کے حقدار ہیں۔


انہوں نے اپنے اضافی نوٹ میں مزید کہا کہ حکومت کا جج صاحبان کو پلاٹس دینا ان کو نوازنے کے مترادف ہے، عوام کی نظروں میں جج صاحبان کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لئے خودمختار عدلیہ انتہائی ضروری ہے۔


انہوں نے کہا کہ زمین کے حصول کی تین شرائط ہیں؛

پہلی شرط زمین عوامی مقصد کے لئے حاصل کرنا

دوسری شرط کے مطابق زمین کے حصول کا قانون ہونا چاہئے اور

تیسری شرط یہ ہے کہ قانون میں زمین حاصل کرنے کے لئے معاوضہ دیا جانا چاہئے ۔


انہوں نے کہا کہ جہاں تک عوامی فلاح کے لئے زمین حاصل کرنے کا سوال ہے تو یہاں آئین خاموش ہے؛

معیاری رہن سہن زندگی کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے-

یہ عوامل ثابت کرتے ہیں کہ عوامی مقصد کے لیے ہاؤسنگ سکیم بنائی جا سکتی ہے-

اگر زمین مالکان معاوضے سے مطمئن نہ ہوں تو وہ متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا حق رکھتے ہیں؛

کوئی وکیل یا سرکاری ملازم ایک پلاٹ سے زیادہ پلاٹ لینے کا حقدار نہیں۔


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا کہ کسی مخصوص قانون کو شامل کئے بغیر وزیراعظم سمیت کوئی بھی اپنے صوابدیدی اختیار استعمال کرکے کسی کو پلاٹ نہیں دے سکتا-


کم آمدنی والے سرکاری ملازمین اور جونیئر افسران کے لئے کم قیمت پلاٹ دستیاب ہونے چاہئیں؛

بری، بحری اور فضائی افواج یا ان کے ماتحت کوئی بھی فورس رہائشی، زرعی یا کمرشل زمین لینے کا حق نہیں رکھتی۔


انہوں نے اپنے اضافی نوٹس میں جنرل گریسی اور ایوب خان کا واقعہ بھی تحریر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

"جب جنرل گریسی پاکستانی فوج کو کمان کر رہے تھے تو ایوب خان نے پلاٹ لینے کی درخواست کی تھی، اس وقت کے آرمی چیف جنرل گریسی نے ایوب خان کو پلاٹ دینے سے انکار کر دیا تھا؛

حیران کن طور پر ایک برطانوی افسر نے اس ملک کی زمین کو اسی دھرتی کے سپوت سے بچایا" - 


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق شجاع نواز نے اپنی کتاب میں لکھا کہ" فوج اور سول بیوروکریسی میں ایک سے زائد پلاٹس کا کلچر عام ہے؛

گزرتے وقت کے ساتھ فوج میں ایسی “سویٹ ہارٹ” ڈیلز کو قابلِ قبول بنایا گیا"۔


انہوں نے لکھا کہ آئین کے تحت سرکاری سول اور فوجی ملازمین مساوی حیثیت رکھتے ہیں؛

سول سرونٹس 60 سال، ہائیکورٹس کے چیف جسٹس 62 سال کی عمر میں ریٹائر ہوتے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور جج صاحبان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے۔


جسٹس فائزعیسیٰ نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ

"اگر ججوں کے پاس رہنے کے لئے جگہ نہیں تو انہیں زندگی گزارنے کے لیے معقول پینشن دی جاتی ہے؛

مالی سال 2020-21 کیلئے پنشن کی مد میں 4 کھرب 70 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں-


ایک کھرب 11 ارب روپے سرکاری ملازمین کی پنشن کیلئے مختص کئے گئے ہیں؛

جبکہ 3 کھرب 59 ارب روپے سے زائد کی رقم افواج پاکستان کے ریٹائرڈ افسران اور اہلکاروں کیلئے رکھی گئی ہے۔


اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ "پنشن کی مد میں ادا ہونے ہونے والی رقم سویلین حکومت چلانے کے اخراجات کے تقریباً مساوی ہے؛

حکومت بیرون ممالک سے قرض لے کر خسارہ بڑھا رہی ہے-

رواں مالی سال میں 29 کھرب 46 ارب روپے سے زائد کی رقم قرض کی صورت میں ادا ہونی ہے-

وہ بچے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے، اور وہ بجے جو ابھی پیدا ہونے ہیں ان کے بچے بھی غربت کا شکار ہوں گے؛

پاکستان کا فوجی اور عدالتی نظام برطانوی طرز پر قائم ہے"۔


اضافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ "بیشتر پاکستانیوں کو بنیادی رہائش کی سہولت تک میسر نہیں؛

قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ غریبوں اور ناداروں کی مدد کی جائے،  ملک کی زمین اشرافیہ میں تقسیم کرنا قرآن کے اصول کی نفی ہے"۔


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہدایت جاری کی کہ اس فیصلے کی کاپی اردو زبان میں بھی جاری کی جائے - ۔

انہوں نے اپنا اضافی نوٹ پیمرا کو بھجوا کر ٹی وی چینلز پر نشر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

#SindhLawyers 


Wednesday, July 7, 2021

Domestic Violence Bill

#Say_No_to_DOMESTIC_VIOLENCE

حکومت نے فیملز اور بچوں کے حوالے سے ایک قانون پاس کیا اس قانون کا نام "ڈومیسٹک وائلینس بل" رکھا یہ ایک بالکل سادہ سا قانون ہے جس میں خواتین پر گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیئے یہ بل بنایا گیا اور پاس کیا گیا۔ لیکن پروپیگنڈا کرنے والوں نے اپنی ازلی بیغرتی دکھاتے ہوئے اس بل کو اسلام کے خلاف قرار دیا- اور اپنے فتوے گھڑنا شروع کردیے-


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈومیسٹک وائلینس بل کیا ہے ؟؟ تو اس پر ہم تھوڑی سی ٹارچ سے روشنی ڈالتے ہیں اس کے بعد فیصلہ آپ خود کریں کہ یہ اسلام کے خلاف کیسے ہے؟؟ 


"Domestic Violence. - Domestic Violence shall mean all acts of physical, emotional, psychological, sexual and economic abuse committed by a respondent against women, children, vulnerable persons, or any other person with whom the respondent is or

has been in a domestic relationship that causes fear, physical or psychological harm to the aggrieved person"


پروپیگنڈا کرنے والوں کے  لیئے اردو ترجمہ 


ڈومیسٹک وائلینس سے مراد ہے کہ کسی عورت، بچے یا کسی کمزور ( بوڑھے ماں باپ) پر فزیکل، ایموشنل، سایئکالوجیکل ، سیکسویئل اور اکنامک ابیوز کا استعمال ہے- جس کی وجہ سے اس شخص کے اندر ڈر پیدا ہو یا پھر اس سے فزیکلی یا سایئکولوجیکلی نقصان پہنچے- یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ ملزم رہتا ہو یا ڈومیسٹک رشتہ داری میں منسلک ہو- 


اسی بل میں آگے چل کر فزیکل، ایموشنل، سایئکالوجیکل ، سیکسویئل اور اکنامک ابیوز کی وضاحت کچھ اس طرح کی جاتی ہے-- 


فزیکل ابیوز : فزیکل ابیوز سے مراد ہے خواتین ، بچوں یا کمزور پر تشدد کرنا اور تشدد کرکے اس کو نقصان پہنچانا یا ان پر کسی ایسے جرم کا ارتکاب کرنا جن کا ذکر پی پی سی سیکشن 16، 16 اے، 17، 20 اور 20 اے میں زکر کیا گیا ہے 


ایموشنل اور سایئکالوجیکل ابیوز: سایئکالوجیکل ابیوز سے مراد ہوتا ہے سامنے والے پر جان بوجھ کر ایسے الفاظ کا مسلسل استعمال کیا جائے جس کی وجہ سے اس کو "جان بوجھ" کر کمزور کیا جائے ، اس کی رائے بدلی جائے، اس کو اندر سے زخمی کیا جائے یا اس کو ڈرا کر کوئی کام کروایا جائے- اس میں سب سے کامن کیس 2 ہیں جو کہ عدالتوں میں آتے ہیں


1- بیٹیوں کو ڈرا کر یا ایموشنل بلیک میل کرکے ان کے نام کی جائیداد اپنے نام کروالی جاتی ہے 

2- دوسرا کیس یہ آتا ہے کہ لڑکیوں کی مرضی کے بغیر ان  پر پریشر ڈال کر یا ان کو ایموشنل بلیک میل کرکے ان کی شادی کردی جاتی ہے اور اس سے دو خاندان تباہ ہوجاتے ہیں- اسی دوسری وجہ سے آج طلاق کی ریشو اس قدر بڑھ چکی ہے کہ آپ کی سوچ ہے لیکن کسی پروپیگنڈا کرنے والے سے پوچھیں تو وہ آپ کو اس کی وجہ میڈیا کی بے حیائی اور سوشل میڈیا کا استعمال بتائے گا- یہ حق اللہ نے ان کو دیا ہے تو والدین کو ان کی مرضی کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے- 


اس بل میں ایموشنل اور سایئکالوجیکل ابیوز کے تحت جو چیزیں بیان کی گئی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں-


1- صاحب اختیار کی جانب سے جنونیت کی وجہ سے بار بار وکٹم کی پرایئویسی میں دخل دینا جس کی وجہ سے اس کی سالمیت، آزادی اور سیکورٹی کو خطرہ پہنچے-- (یہ سالمیت، آزادی اور سیکورٹی قانون کے مطابق ہے جو کہ قانون ان کو دیتا ہے اس کا مطلب بوائے فرینڈ کی آزادی نہیں ہے جس کو پروپیگنڈا کرنے والے اس وقت پکڑ کر وین کررہے)


2- کمزور شخص کو بار بار بے عزت کرنا یا تضحیک کرنا-- (کمزور شخص سے مراد یہاں بوڑھے ماں باپ ہیں) 


3- بیوی یا گھر میں موجود خواتین کو جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا- ( یہ مدرسہ یا سکول نہیں کہ جہاں تمہیں سوئی گیس کے پائپوں سے تشدد لال کی جاتی ہیں- یہ گھر ہے ) 


4-  اپنی بیوی کو بانجھ پن اور پاگل پن کاجھوٹا الزام لگا کر اس کو دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی دینا-


5- گھر میں موجود کسی خاتون کے کریکٹر پر کوئی جھوٹا الزام لگانا- (جو کہ بعد میں غیرت کے نام پر قتل کا باعث بنتا ہے)


6- جان بوجھ کر یا پوری طرح سے عورت، بچے، یا کمزور سے دستبرداری اختیار کرنا ( اگر یہاں عورت کا مطلب بیوی ہے تو اس کا مطلب ہے کچھ لوگ شادی کرکے عورت کے ساتھ حق زوجگی ادا نہیں کرتے اور پھر بعد میں اس کو طلاق دے دیتے ہیں یوں اس عورت کی زندگی برباد ہوجاتی ہے مرد دوسری شادی کرلیتا ہے لیکن عورت پر طلاق کا ٹھپہ لگ جاتا ہے۔اور عورت ساری عمر کچھ نہ کرکے بھی سزا بھگتتی ہے۔۔) 


7- ڈنڈے سے مارنا، 


8- ہیراسمینٹ کرنا  ( کسی غلط کام کو کرنے پر ڈانٹنے کو ہیراسمینٹ نہیں کہتے۔۔ بلکہ عورت کو بلیک میل کرکے اس سے غلط کام کرنے کی خواہش کرنا جس سے عورت کمفرٹیبل فیل نہ ہو اس کو ہیراسمینٹ کہتے ہیں۔عدالت میں جب کیس چلے گا تو ایویں ہی الزام لگانے پر سزا نہیں مل جائے گی تحقیقات کے بعد ہی ملزم کا کلیئر ہوگا)


9- بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی اور مرد کے ساتھ تعلقات بنانے پر مجبور کرنا- 


یہ سب ایموشنل اور سایئکالوجیکل ابیوز کے زمرے میں آتا ہے جو  اس وقت اس کو لیکر بھڑکیں مار رہے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی ان شقوں کی بیک گراؤنڈ کا علم نہیں یہ ان شقوں کی بیک گراؤنڈ کو سمجھے بغیر منہ پھاڑے بوائے فرینڈ کو لیکر بکواس کرتے پائے جارہے ہیں-جس کا دور دور تک اس میں کہیں ذکر نہیں ہے۔ ان پر وہ کہاوت لاگو ہوتی ہے کہ ملا کی دوڑ مسیت تک- اور یہ خنجر انگلش میں لکھے ایک بل کو ہاتھ ڈال رہے ہیں۔


سیکسویئلی ابیوز: سیکسویئلی ابیوز سے مراد یہاں زیادتی کرنا یا اپنے ساتھ غلط کام کرنے پر مجبور کرنا ہے


اکنامک ابیوز: اکنامک ابیوز سے مراد یہ ہے کہ کسی فیمل یا بچے کو اس کے فنانشنل حق سے محروم کرنا ہے جس میں بیٹیوں کے حصے پر قابض ہونا یا پھر بیٹیوں کو تعلیم نہ دلوانا لیکن بیٹوں کو تعلیم حاصل کروانا شامل ہے یعنی بیٹی کا حق مارنا- 


اب اپنے ایمان سے بتایئں اس بل میں جس کو لیکر یہ پروپیگنڈا کرنے والے کپڑے پھاڑ کر وین کررہے-- اور اس کو اسلام کے خلاف اور فیملی لائف تباہ کرنے کا ذمہ دار قرار دے رہے اس میں کونسی ایسی شق ہے جس سے فیملی لائف تباہ ہوجائے گی اور کونسی ایسی شق ہے جو کہ اسلام کے خلاف ہے-  کاپی پیسٹر کاپی پیسٹ کرکے 2 دن سے مرنے والے ہوئے پڑے کہ اخے اسلام دشمن بل پاس کردیا-

Thursday, July 1, 2021

انسان کیا ہے اور کیا کر رہا ہے....






____انسان کیا ہے۔؟۔اور کیا کر رہا ہے____


بحیثیت اشرف المخلوقات،بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان مجھے اپنے کردار پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اس دنیا میں،میں کیوں آیا ہوں،دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے اس مقصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہمارے مذہب اسلام میں مسلمان کو مومن(مرد و عورت)سے تشبیع دی گئی ہے اور مومن اس کو کہتے ہیں جو اللہ کی طرف سے دی گئ،ہر مشکلات و سختی کو صبر و تحمل سے برداشت کرتا ہے اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔اللہ تعالی نے ہماری زندگی کو دو زاویوں میں تقسیم کیا ہے ایک زاویے میں آسانیاں دی ہیں اور ایک زاویے میں مشکلات دی ہیں۔ان دونوں زاویوں میں اللہ مومن سے امتحان لے رہا ہے۔

ایک کو دے کر اور ایک کو نا دے کر،یہ میرے اللہ کی تقسیم ہے اور اللہ کی تقسیم پر مومن ہر حال میں خوش رہتا ہے۔ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں اور کچھ لوگ بڑے بڑے بنگلوں بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر زندگی کا لطف دوبالا کر رہے ہیں۔یہاں پر زندگی مزید تقسیم میں چلی جاتی ہے اور مختلف زاویوں میں انسان بٹ جاتے ہیں۔کیونکہ اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔یعنی اپنا نائب،،،سوچ دی ہے۔اچھے برے میں تمیز دی ہے اور سب سے بڑھ کر  اللہ نے کچھ چیزیں انسان کے دائرہ اختیار میں دی ہیں۔مگر ان اختیارات کی کچھ حدو و قیود  مقرر کردی ہیں۔اگر انسان اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود سے باہر نکل کر اپنے اختیارات استعمال کرے گا تو وہ اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرے گا اور جو مومن اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرے گا،تو پھر وہ مومن نہیں رہتا،


میرے معزز ناظرین آپ کو یہ سب کچھ سمجھانے کا ایک مقصد ہے۔مقصدکیا ہے کہ ہم دنیا میں ایک مختصر سی زندگی لے کر آئے ہیں۔اور اس زندگی میں ہم نے بہت کچھ پانا ہے اور بہت کھونا ہے۔بادشاہ بھی بننا ہے گدھا بھی بننا ہے۔ظالم بھی بننا ہے مظلوم بھی بننا ہے یہ آپ کو بھی نہیں پتہ کہ آپ نے کیا کچھ بننا ہے۔لیکن زندگی کا نقطہ ایک ہی ہے بس۔۔۔۔۔۔کہ 

خودی کو تو کر بلند اتنا کہ خدا بندے سے پوچھے بول تیری رضا کیا ہے۔۔۔۔


معزز ناظرین۔اب میں معرفت سے ہٹ کر سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کرنے لگا ہوں۔کیونکہ معرفت ایک سمندر ہے جس کا دوسرا کنارہ ہمارے سوچ سے بھی دور ہے۔خیر اب میں دنیا داروں میں رہے کر اور دنیادار بن کر بات کرونگا،جس میں کچھ لوگوں کو تکلیف ہوگی اور کچھ لوگ انجوائے کریں گے۔۔کیونکہ کہ یہ ہمارا ایک فطری عمل ہے۔کیونکہ جس نقطہ پر ہماری سوچ ایڈجیسمنٹ کر لیتی ہے۔وہ ہمارے لئے باعث مسرت ہے اور جس نقطہ پر ایڈجیسمنٹ نہیں کرتی وہ ہمارے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔بہرحال یہ ہر آدمی کا اپنا طرز سوچ ہے۔کیونکہ سوچ میں مفادات کا تعلق بہت گہرا ہوتا ہے یہ الگ بحث ہے کہ آپ کے مفادات کس نوعیت کے ہیں۔


معزز ناظرین کافی دن سے میں سوشل میڈیا،ٹیوٹر نیوز اور اپنے اردگرد مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا بحث و مباحثہ سن رہا ہوں،اور ان کی طرز سوچ کا بھی جائزہ لے رہا ہوں۔اس سارے بحث و مباحثہ سے جو چیز میں نے اخذ کی ہے۔۔۔وہ یہ کہ ہمیں ہمیں اپنے ملک کا حکومتی نظام عدالتی نظام اور بیوروکریسی نظام کو ختم کرکے ،عوامی نظام نافزالعمل کردیا جائے۔کیونکہ ہمارے ملک میں ہر دوسرا انسان وکیل بھی ہے اور جج بھی ہے۔مختلف دکانوں،چوراہوں،بیٹھکوں اور دفاتر میں بیٹھ کر ہمارے ملک کے ذہین لوگ فیصلہ سازی کے ساتھ ساتھ حتمی فیصلے بھی ایک دوسرے پر صادر کر رہے ہیں ہمارے ملک میں ہر دوسرا انسان معیشیت دان بھی ہے تو پھر کیوں ہم بھاری بھرکم تنخوائیں دے کر باہر سے معیشیت دان منگوا رہے ہیں،ماشاءاللہ ہمارے ملک کی عوام اتنی ذہین ہے کہ ایک گھنٹے میں معیشیت کو ناکام بھی کر رہی ہے اور پورا قرض بھی اتار رہی ہے


یقین کریں میرا بس میں ہوتا تو میں ایک ایک پاکستانی کو ذہانت ایوارڈ سے نوازتا،


گوروں کی ایسی کی تیسی کہ وہ ہمارے ملک اسلامی مملکت پاکستان کی غیور عوام کا مقابلہ  کرسکیں۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہم اپنے گھر کا بجٹ تشکیل نہیں دے پاتے۔۔مگر ملکی معاملات کو حل کرنے میں ہم الحمد للہ بہت ماہر ہیں۔۔۔۔ہم پاکستانیوں میں ایک اور خوبی بھی سب ملکوں کے باشندوں سے ہٹ کر ہے،وہ خوبی کیا ہے کہ ہم جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ میں بدلنے کی تو پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ۔۔۔ماشاءاللہ ہماری اس مہارت سے تو گورے کوسوں دور ہیں۔سنی سنائی باتوں کو پھیلانا ان کو سن کر ان کو سنا کر ہمیں تسکین دل حاصل ہوتی ہے۔بھاڑ میں جائے تحقیق اتنا تو ہم پاکستانیوں کے پاس ٹائم ہی نہیں ہے۔۔۔


ہم پاکستانی شیردل لوگ چور اچکوں،کرپشن زدہ اور بھگوڑیوں کو اپنا لیڈر ماننے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ہمیں کیا ضرورت ہے،اچھے لوگوں کے پیچھے بھاگیں۔۔   اس سے ہمیں کیا فائدہ ایسے لوگ تو ریاست کو فائدہ دیتے ہیں۔اور ریاست سے زیادہ ہمیں سیاست عزیز ہے۔ریاست نے ہمیں کیا دیا ہے۔۔۔؟۔


ریاست کے دشمن ہم پاکستانی عوام  کے دوست،اداروں پر ہم حملے کرنے سے زرہ بھی نہیں گبھراتے بلکہ فخر محسوس کرتے ہیں۔اربوں کی کرپشن کرنے والوں پر پھول پھیکنا ہمارے لئے اعزاز ہے۔ضمیر نام کی چیز سے تو ہم واقف ہی نہیں ہیں۔ہماری عزت و نفس یہاں تک کہ پوری دنیا میں ریاست کی جگ ہنسائی ہو۔    ہمیں غرض نہیں۔۔بس ہماری جیب بھر جائے۔


کرپشن سے ہمارا__یارانہ ہے۔

چوروں کو ہم نے چھڑانا ہے۔

 نیازی۔شریف زرداری کی اولادوں کو لانا ہے۔

ان کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھانا ہے۔

ملک کے سکیورٹی اداروں کو دنیا میں بدنام کروانا ہے۔

ہم نے ساری زندگی ایسے ہی کیڑے مکوڑوں کی طرح رہنا ہے۔

ہمیں ریاست سے کیا غرض،ہم نے جاہلانا رویہ اپنانا ہے۔

کیونکہ ہماری سوچ ایک غلامانہ ہے۔۔۔۔

اللہ تعالی ہمارے ملک کی عوام کو عقل تسلیم دے۔۔۔ آمین

#SindhLawyers.

#Tanoli_Law_Associates.

#Karachi....

Wednesday, June 30, 2021

Johar Town Blast Peter Paul David

 پیٹر پال اینتھنی ڈیوڈ کا تعلق محمود آباد کراچی سے ہے یہ محمود آباد گلی نمبر 21 کا رہائشی تھا- یہ پچھلے 20 سال سے روزگار کے سلسلے میں بحرین میں ہوا کرتا تھا اور بحرین میں یہ سکریپ کا کام کیا کرتا تھا- کرونا کی وجہ سے بحرین میں اس کا کام ٹھپ ہوگیا تو یہ پاکستان میں واپس آگیا اور یہاں آکر یہ ہوٹلنگ کے بزنس کے وابستہ ہوگیا-
ہوٹلنگ کے بزنس کا یہ مطلب نہیں کہ ہوٹلنگ کا کاروبار شروع کیا بلکہ اس کا مطلب ہے کہ اس نے ہوٹلز میں یا مختلف پارٹیز میں ڈلیوری کا کام شروع کردیا- یہاں اس کی ملاقات ایک "کرن" نامی خاتون سے ہوئی- اور پیٹر جب بھی لاہور آتا تو کرن کے ساتھ ہوٹل میں سٹے کرتا- اور شائد یہ ہوٹل بھی اسی کا تھا- لیکن یہ فی الحال کنفرم نہیں- 
پیٹر کسی کام کے سلسلے میں دبئی گیا جہاں اس سے پہلی دفعہ "راء" کے کچھ آفیشلز سے رابطہ کیا گیا جنہوں نے پیٹر کو ان کے لیئے کام کرنے کے بدلے اچھی خاصی رقم کی آفر کی جس کو سن کر پیٹر نے ان کے ساتھ کام کرنے کی حامی بھرلی- اور پہلا کام پیٹر کے ذمے "حافظ س عید" کے گھر کے راستے میں بم دھماکہ کرنے کا سونپا- اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حافظ صاحب تو جیل میں ہیں تو پھر--ان کے بارے میں آج سے 6 مہینے پہلے ایک افواہ مشہور ہوئی تھی کہ حافظ صاحب گرفتار نہیں بلکہ آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں 
یہ افواہ شائد راء نے بھی سن لی تھی چنانچہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس والے دن حافظ صاحب کو نشانہ بنا کر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کا پلان بنایا گیا اور اس کے لیئے ساری منصوبہ سازی دبئی میں ہوئی- اور اس پلان کو بنانے والا سمیع اللہ نامی شخص تھا جس نے دبئی میں یہ پلان تیار کیا- اور یہی سمیع اللہ نامی شخص بم دھماکے والے دن پیٹرپال اینتھنی ڈیوڈ سے رابطے میں تھا-
اس بم دھماکے کو بڑی باریکی سے پلان کیا گیا-اس دھماکے میں جو گاڑی استعمال ہوئی اس کو اوپن لیٹر پر حافظ آباد سے خریدا گیا- اور یہ گاڑی ماضی میں چوری ہوچکی تھی جس کی ڈیٹیل میں پہلے شیئر کرچکا ہوں- چنانچہ اس گاڑی کو پیٹر پال ڈیوڈ نے اپنے دوست سجاد حسین کو دیا اور اس کو مردان لیجانے کو کہا- سجاد حسین پیٹر کا 10 سال پرانا دوست تھا- جس کو پیٹر نے اپنے اس پلان میں شامل کیا- اور اس کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے تھا
سجاد اور کرن دونوں اس گاڑی کو گوجرانوالہ سے مردان لیکر گئے- اور مردان میں ایک کار مکینک جس کا نام ضیاء خان تھا سے کار میں بم فٹ کروایا- اور اس کار کی ڈگی کو لاک کروادیا- اس کار کی ڈگی کو لاک کروانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر رستے میں کہیں چیکنگ ہوبھی جائے تو پولیس سے یہ ڈگی کھلے نا اور شک کا فائدہ فائدہ مل جائے کہ شائد کار کی ڈگی لاک ہوگئی ہے- 
چنانچہ ایسا ہی ہوا-- کرن اور سجاد لاہور میں بابو صابو کے رستے اینٹر ہوئے ان کی گاڑی سلو ہوئی لیکن آگے کرن یعنی خاتون کے بیٹھے ہونے کی وجہ سے گاڑی کو اشارہ کرکے آگے جانے دیا گیا- اس کے بعد یہاں اینٹری ہوتی ہے ایک اور شخص جس کا نام عید گل تھا- یہ وہ شخص تھا جس نے گاڑی کو مطلوبہ جگہ پر پارک کرکے آنا تھا- 
چنانچہ عید گل صاحب نے گاڑی کو کینال روڈ سے ڈاکٹرز ہاسپٹل، اور پھر جناح ہاسپٹل سے ہوتا ہوا جوہر ٹاؤن مطلوبہ مقام تک پہنچا اور گاڑی کو پارک کرکے یہ شخص پشاور والی گاڑی میں بیٹھ کر موٹروے پر روانہ ہوگیا- دھماکہ ہوا اور دھماکے کے بعد ہماری ایجنسیاں سر جوڑ کر بیٹھی- یہ پلاننگ اتنی شاندار تھی کہ اس کا کریک ہونا بہت ہی مشکل تھا- 
لیکن کہتے ہیں ٹیکنالوجی بندے کے لیئے جتنی فائدہ مند ہے اتنی ہی بندے کو مروانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے چنانچہ جیو فینسنگ اور ڈمب ڈیٹا کی مدد سے سب سے پہلے ایجنسیوں کے ہاتھ جو بندہ لگا وہ اس بم دھماکے کا پاکستان میں ماسٹر مائینڈ تھا- اور وہ تھا پیٹر پال ڈیوڈ- جس کے بعد کراچی سے اس کے سالے، اور بیٹے کو اٹھایا گیا- اس کے بعد حافظ آباد سے اس گاڑی بیچنے والے بندے کو اٹھایا گیا- اس کے بعد کرن گرفتار ہوئی-، پھر سجاد حسین منڈی بہاؤالدین سے گرفتار ہوا-- سجاد حسین کے بعد ضیاء خان مردان سے گرفتار ہوا-- 
اور آخر میں اس گیم میں سب سے اہم کردار عید گل کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا- اور یون صرف 4 دن کے اندر اندر سارے کا سارا کیس کریک کرکے رکھ دیا اس کیس میں یہ ملزمین دبئی سے سمیع اللہ نامی بندے سے ٹچ میں تھے اور سمیع اللہ ان کو مسلسل فون پر ہدایت دے رہا تھا- اور ان کو ہینڈل کررہا تھا- پیٹر پال کا یہ پہلا کام تھا اور اس کا پولیس کے پاس کسی قسم کا کریمینل ریکارڈ نہیں تھا- ایسے بندے جن کا پولیس کے پاس کسی قسم کا کریمنل ریکارڈ نہیں ہوتا ان کو پکڑنا یا ان کا سراغ لگانا دنیا کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے یہی وجہ ہے آپ نے دیکھا ہوگا سیریل کلر کو پکڑنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کا پولیس کے پاس ریکارڈ نہیں ہوتا-
اب اس کے آگے پاکستانی وزارت خارجہ کا کام ہے کہ وہ ان ثبوتوں کو اقوام متحدہ میں رکھے، ہنندوستان کے خلاف آواز اٹھائے اور یو اے ای کی سرزمین جو کہ پاکستان میں اس دہشت گردی کے کام کے لئے استعمال ہوئی اس پر آواز اٹھائے- اس سے پہلے کہ یہاں یو اے ای کے پاکستان میں موجود چمچوں کو دندل پڑیں ان کو چاہئے اس دفعہ غیرت کا مظاہرہ کرکے پاکستان کا ساتھ دیجیے گا اور جیسے ایران کی دفعہ بھڑکیں مارتے ہیں ویسے ہی یو ای اے کی دفعہ بھی غیرت دکھایے گا- 
کیونکہ ہمارے لیئے سب سے پہلے پاکستان ہے--

*غزوہ ہند کے سالار*
JOHAR TOWN BLAST

x

Monday, June 28, 2021

Public Interest Litigation in Supreme Court of Pakistan


 Article 184(3) of the Constitution of Pakistan 1973 provides the concept of protection of Fundamental Rights through the use of Article 199 of the Constitution. Hence, the Supreme Court of Pakistan can pre-empt the jurisdiction of High Courts under Art.199 whenever “a question of public importance with reference to the enforcement of any of the Fundamental Rights conferred by Chapter I of Part II is involved.” The power of Art.184(3) is “original jurisdiction” of the Supreme Court to enforce fundamental rights. We will also find words “human rights” used by the Supreme Court in its judgments given under the caption “Human Rights Cases” while they have not been mentioned anywhere in 1973 Constitution. It is the combined effect of the provisions of Art.184(3) and Art.199 that help us to understand as to what might be the human rights to be enforced. “Human Rights” is a general term while the term “Fundamental Rights” is specific one and is used in the Constitution as a practical term defining and limiting the exact meanings of various rights provided to all those who are citizens of Pakistan. However, certain Fundamental Rights are provided to everyone who is within the territorial jurisdiction of Pakistan, whether citizen or not, at any given time period. This thesis will study various aspects of the powers of Supreme Court under Art.184(3) of the Constitution along with allied matters.

Case Laws.

  1. under its suo motu jurisdiction of Article 184(3) in To Visit "State v. Zubair". 610 It 604 PLD 2001 SC 607
  2. Suo Motu Case: In re, p. 2001 - 1041
  3. Case Suo Motu

    re, PLD 2001 SC 1041
  4. Case Suo Motu

    re, PLD 2001 SC 1041.



    CHECKOUT
    https://papers.ssrn.com/sol3/papers.cfm?abstract_id=1984583

Tuesday, May 11, 2021

SC says pre-arrest bail in cognisable offences extraordinary remedy.


 The Supreme Court has reiterated that pre-arrest bail in a cognisable or non-bailable offence is an extraordinary remedy, extended for the sole purpose of protecting reputation and honour of an innocent citizen being hounded through abuse of process of law for sinister purposes.

This judicial protection is based on equity and cannot be extended in every run-of-the-mill criminal case founded upon incriminatory evidence, warranting custody for investigative purposes, observed Justice Qazi Muhammad Amin Ahmed in a judgement he wrote.
Justice Ahmed was a member of the three-judge bench that had taken up an appeal moved by Maqbool Ahmed Mahessar, Hafiz Suhail Ahmed, Muhammad Pariyal Solangi and Nasrullah against the National Accountability Bureau (NAB). The appeal had sought to challenge different Sindh High Court (SHC) orders of March 2021.
Through separate orders the Sukkur bench of the SHC had allowed pre- as well as post-arrest bails in different NAB references but subject to deposit of amounts allegedly embezzled by the petitioners at the cost of public exchequer.
Facility should be extended only for protecting an innocent person being hounded through abuse of process, says judgement
On Nov 29, 2019 as well, Justice Ahmed, while deciding a number of appeals against the SHC orders, had held that a pre-arrest bail, being rooted in equity, was an extraordinary remedy and should be exercised cautiously only to protect innocent persons from the horrors of abuse of process of law.
Referring to the present case, Justice Ahmed cited the Tallat Ishaq versus NAB case of 2019 and observed that directives for the release of an accused on bail have since been held against the law.
An accused seeking bail desires transfer of his custody from the jail, whose superintendent undertakes his production as and when required by the court. But for that, he has to make out a case in accordance with the applicable law and cannot be allowed or required to barter his freedom, the judgement explained.
Justice Ahmed observed that in the case at hand, considerations for grant of post-arrest bail to an accused facing charges under the NAB Ordinance had clearly been illustrated. Therefore, the accused facing indictment in a NAB reference had to qualify as per the parameters set down in different cases.
“There is no other way out,” the judgement said and added that grant of pre-arrest bail in a cognisable or non-bailable offence is a remedy that’s extraordinary in the nature of judicial protection.
Such a facility is extended by diverting usual course of law for the sole purpose of protecting reputation and honour of an innocent citizen being hounded for sinister and oblique purposes.
The protection was devised in 1949 by Hidayatullah Khan and the principles laid down therein are being faithfully followed till date, Justice Ahmed said in his order, adding the high court’s orders, being inconsistent, could not be sustained.
Thus the petitions are converted into appeals and allowed, high court orders are set aside and the bail petitions filed by the appellants before the high court would be deemed as pending for fresh decision, the judgement said.
The petitioners, meanwhile, would remain on ad-interim bail upon furnishing bonds in the sum of Rs500,000 with one surety each in the like amount to the satisfaction of deputy registrar (judicial) of the Sukkur bench of the SHC before end of third week of the present month, the order said.
The petitioners would appear before the high court on a date notified by the SHC office and the case would be decided on its merits.
In the 2019 Tallat Ishaq case, Justice Asif Saeed Khosa had regretted that the original intention behind introduction of Section 9(b) of the NAB Ordinance, of ousting jurisdiction of the courts regarding grant of bail in cases, stood neutralised by opening the door for bail through exercise of constitutional jurisdiction of a high court.
Resultantly, the entire burden was being shouldered by the high courts, which was a huge and an unnecessary drain on their precious time, Justice Khosa had held.
Justice Khosa had also suggested to the legislature to consider amending the ordinance appropriately to enable an accused person to apply for his bail to the relevant accountability court in the first instance, rather than coming directly to the high court.


جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ

  جزلان قتل کیس: ورثا کا جے آئی ٹی سے تحقیقات کا مطالبہ گڈاپ سٹی انویسٹی گیشن پولیس نے سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی میں معم...